پاکستانتازہ ترین

سانحہ راولپنڈی میں کل10 افراد جاں بحق اور 56 زخمی ہوئے، رانا ثنا ء اللہ

rana sna راولپنڈی (مانیٹرنگ سیل)صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ سانحہ راولپنڈی کے بارے میں سوشل میڈیا اور ایس ایم ایس کے ذریعے نقصانات کے بارے میں جو معلومات پھیلائی جا رہی ہیں وہ حقائق کے برعکس249 مبالغہ آرائی پر مبنی کو گمراہ کن ہیں . انہو ں نے کہا کہ اس سانحہ میں کل دس افراد جاں بحق اور 56 زخمی ہوئے جن میں سے 32 ابتدائی طبی امداد کے بعد اسی روز ہسپتالوں سے فارغ ہو کر اپنے گھروں کو چلے گئے .اس وقت 12 افراد زیر علاج ہیں . صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ واریت اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے . انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کے سانحے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا.وہ سوموار کے روز پنجاب ہاؤس راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے . صوبائی وزیر محنت راجہ اشفاق سرور249 پاکستان مسلم لیگ (ن) سٹی راولپنڈی کے صدر سردار نسیم249 ارکان قومی اسمبلی ملک ابرار249 اور دیگر مسلم لیگی رہنما اس موقع پر موجود تھے .صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کا عز م ہے کہ وہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے حوالے سے اس سانحہ کو ایک مثال بنائیں گے اور واقع کے ذمہ داروں اور انتظامی لحاظ سے اگر کسی کی طرف سے کوئی کوتاہی برتی گئی ہے تو اس کے ساتھ کوئی رو رعائیت نہیں برتی جائے گی . انہو ں نے کہا کہ گرفتاریوں سے لے کر قصورواروں کو سزا تک کا عمل قانون کے مطابق مکمل شفاف ہو گا اور کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو گی اور نہ ہی کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی ہو نے دی جائے گی. رانا ثنا ء اللہ نے صحافیو ں کو بتایا کہ سانحہ راولپنڈی میں مسجد249 مدرسہ اور دیگر نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیئے حکومت نے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی ہیں . انہو ں نے کہا کہ وزیر اعلی نے سانحہ کی عدالتی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج سے کروانے کے پہلے ہی احکامات دے دیئے ہیں . انہوں نے کہا کہ اس سانحہ میں انتظامی غفلت ا ور کوتاہی کا جائزہ لینے کے لیئے بھی وزیر اعلی پہلے ہی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں . جو سات دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی . انہو ں نے کہا کہ مدرسہ تعلیم القرآن او رمسجد کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیئے ایم این اے ملک ابرار احمد کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ایکسیئن بلڈنگ قاضی عرفان اور مدرسہ تعلیم القرآن کا ایک نمائندہ اور دیگر سرکاری افسران شامل ہوں گے . یہ کمیٹی 48 گھنٹے میں مسجد اور مدرستہ کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگا کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی . رانا ثنا ء اللہ نے مزید بتایا کہ ایک دوسری کمیٹی جو مدینہ مارکیٹ میں دکانوں اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا سروے کر کے تخمینہ لگائے گی . یہ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) راولپنڈی سٹی کے صدر سردار نسیم کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے اور اس میں راجہ حنیف ایڈوکیٹ ایم پی اے 249 سابق ایم این اے حنیف عباسی 249 ایوان صنعت و تجارت کے صدر ارشاد اعوان249 عبدالغفور پراچہ249 شرجیل میر اور بعض دیگر تاجر نمائندوں پر مشتمل ہو گی .صوبائی وزیر نے پریس کانفرنس میں 15 نومبر 10 محرم الحرام کو راولپنڈی میں ہونے والے واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ محرم الحرام کا جلوس معمول اور پروگرام کے مطابق تقریبا ڈیڑھ بجے فوارہ چوک پر رکا ہوا تھا اور اس جلوس کے آگے تقریبا ڈیڑھ سو افراد چل رہے تھے جو چلتے چلتے مسجد تعلیم القرآن کے سامنے آ گئے جس کے بعد فریقین میں تصادم کی فضا پیدا ہوئی . انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین سانحہ کے بارے میں اپنا اپنا موقف رکھتے ہیں جو عدالتی اور انتظامی تحقیقات سے متعلق کمیٹیوں میں تفصیل سے سامنے آئے گا . اور اس حوالے سے وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کر نا چاہتے. انہوں نے کہا کہ حکومت اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ صحیح حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں. انہو ں نے کہا کہ وہ وزیر اعلی محمد شہباز شریف او رحکومت پنجاب کی طرف سے یقین دلانا چاہتے ہیں کہ سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات ہر لحاظ سے منصفانہ اور شفاف ہوں گی اور واقع میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا . صحافیو ں کے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ واقعہ کے دوران پولیس اہلکاروں سے چھینی گئی 6 رائفلیں برآمد کروا لی گئی ہیں اور گرفتاریوں اور ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کا عمل وقوعہ کے روز سے ہی شروع کر دیا گیا تھا.انہوں نے کہا کہ پولیس کی مدعیت میں واقعہ کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے صوبائی وزیر محنت راجہ اشفاق سرور نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت پنجاب کی طرف سے علمائے کرام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے سانحہ راولپنڈی کے بعد صبر و تحمل 249 تدبر اور معاملہ فہمی سے امن کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اپنا تعاون فراہم کیا . انہوں نے کہا کہ علماء اور حکومت کے درمیان تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا چکے ہیں اور اس کے بعد احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہونا چاہیے. رانا ثنا ء اللہ اور اجہ اشفاق سرور نے پریس کانفرنس کے دوران کرفیو کی وجہ سے راولپنڈی کے شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات پر شہریوں سے معذرت کی اور کہا کہ تحفظ عامہ کے وسیع تر مفاد میں یہ اقدام اٹھایا گیا . انہو ں نے سانحہ راولپنڈی کے موقع پر امن و امان قائم کرنے کے سلسل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button