شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / گلگت بلتستان میں RAWنیٹ ورک گرفتار

گلگت بلتستان میں RAWنیٹ ورک گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی RAWاپنے قیام سے ہی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے جیسی ناپاک سازشوں میں میں مصروف عمل ہے مگر دنیا کی نمبر ون اور قابل فخر پاکستانی ایجنسی ISIاور دیگر حساس اداروں نے اس کے ان گنت مکروہ عزائم کو خاک میں ملا دیا حالانکہ RAWکو نہ صرف افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (NDS)بلکہ اسرائیلی موساد امریکی سی آئی اے متعدد دیگر پاکستان مخالف ایجنسیوں کی بھی ہمیشہ سے بھرپور معاونت رہی ہے،را۔ دیگر غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں بد امنی کی شدید لہر لے آیا مگر پاکستانی فورسز نے مسلط کردہ دہشت گردی کی بہت بڑی جنگ کو لازوال قربانیوں کے ساتھ شکست سے دوچار کیا،بھارت ایک ایسا امن دشمن ملک ہے جس کی ہمیشہ سے کوشش رہی کہ وہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو اپنے زیر تسلط رکھے گذشتہ ماہ سری لنکا میں جو خونی کھیل کھیلا گیا اس کے ماسٹر مائند اور کارندوں کے بارے اطلاع ملی کہ انہوں نے بھارت میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی،RAWنے اس حوالے سے مکمل طور پر نیپال کو یرغمال بنا رکھا ہے نیپال کی سر زمین کو RAWکی بھیانک اور انسان دشمن سرگرمیوں کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے اس کے بعد اس نے افغانستان میں کئی تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں جنہیں وہ پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے،بھارت اور دیگر طاغوتی طاقتوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو سبوتاژ کرنے کے لئے پاکستان کو ہر لحاظ سے کمزور،غیر مستحکم کے لئے اربوں ڈالر جھونک دئیے ابھی حال ہی میں بھارتی حکومت نے پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کے لئے دو ارب روپے کے فنڈز جاری کئے ہیں،بھارتی وزیر اعظم برملا اس بات کا اظہار کر چکا ہے کہ وہ پاکستان کو اندر سے کمزور کریں گے۔دہشت گردی کریں گے، پاکستان میں اپنے مکروہ عازئم کی تکمیل کے لئے انہوں نے سب سے زیادہ بلوچستان علیحدگی پسند تنظیموں پر بھاری فنڈنگ کی،پاکستان میں گرفتار حاضر سروس بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیوبھی ایران کے راستے پاکستان آتا جاتا رہا مگر پاکستانی حساس ادراوں نے اس کے نیٹ ورک کو بھی تباہ کر دیا، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں براہ راست بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد ملے،اب پاکستان کے مایہ ناز حساس اداروں نے کامیاب کاروائی میں گلگت بلتستان میں بھی بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی RAWکے نیٹ ورک کے بے نقاب کرتے ہوئے قوم پرست تنظیم بلاورستان نیشنل فرنٹ کے 14انتہائی متحرک کارکنوں کو بھاری اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا،یہ علیحدگی پسند تنظیم گلگت کے ضلع غذر میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھی،گلگت کا ضلع غذر جس کا صدر مقام گاہکوچ ہے پاکستان کا سب سے زیادہ شمالی ضلع ہے جو ودای واخان راہداری کے ذریعے افغانستان سے جا ملتا ہے پہاڑوں میں گھرے اس جنت نظیر علاقے کو ہر طرف سے پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے اور سردیوں میں برف کی دبیز چادر تنی رہتی ہے،غذر کے مشرق میں ہنزہ،نگر،گلگت،اور دیامیر جبکہ جنوب اور مغرب میں پختونخواہ کے کوہستان،سوات اور چترال ہیں،یہ ضلع چار تحصیلوں نیسال،گیونپس،وادی اشکوسن اور داوی گولا غمولی پر مشتمل ہے،اس ضلع کی ایک وادی یٰسین جس کا نام قرآن پاک کی سورہ مبارکہ کی وجہ سے رکھا گیا تھا میں بھارتی ایجنسی RAWنے اپنے مطلب کے غداروں کو ڈھونڈ نکالا، را نے اس کام کے لئے قوم پرست تنظیم بلاورستان نیشنل فرنٹ کے سربراہ عبدالحمید خان کو ڈھونڈ نکالا، گلگت بلتستان بدامنی اور انارکی پھیلانے کے لئے اس کی آبیاری کی گئی جس کا ہدف یونیورسٹیوں کے طلبا ء اور گلگت کی نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرکے دہشت کرنے اور دیگر ملک دشمن سرگرمیوں میں فعال کرنا تھا RAWاس وقت بھی ملک کے مختلف حصوں میں طلبا کو حمید خان کے ذریعے ہر طرح کی معاونت کر رہی ہے اس کام کے لئے ایک ارب روپے کی خطیر رقم بھی بھارت نے ان غداروں کو دی، ان سرگرمیوں میں BNFکے سٹوڈنٹ ونگ کی قیادت شیر نادر شاہی کر تا رہا شیر نادر شاہی ہی بلاورستان ٹائمز شائع کرتا رہا جس میں علیحدگی پسندی کو ہوا دی جاتی،را اورحمیدخان سے ہدایات لے کر راولپنڈی اور غذر سمیت ملک کے دیگر شہروں میں شر پسندی کے لئے مرکزی کردار ادا کرتا،شیر نادر شاہی کو۔را۔اور حمید خان کی مدد سے متحدہ عرب امارات گیا وہاں سے اسے نیپال منتقل کر دیا گیا،دبئی میں شیر نادر شاہی کو RAWکی لیڈی ایجنٹ نے شکار کیا تھا تاہم اس کی نپال سے بھارت روانگی سے قبل ہی پاکستانی ایجنسیوں نے اس واپس آنے پر مجبور کر دیا، چیرمین بلاورستان عبدالحمید خان کو بھارتی ایجنسی کی طرف سے 1999میں پہلے نیپا ل بھر بھارت لے جایا گیابھارت منتقل ہونے پردہلی کے 3سٹار اپارٹمنٹ میں رہائش دی گئی جہاں اس کی فیملی کو بھی بلوا لیا گیا اس کے بچوں کو دہلی کے مہنگے ترین سکولوں اور کالجز میں تعلیم دلوائی گئی پھر انہیں مزید تعلیم کے لئے بھارت سے یورپ اسپانسر کیا گیا،2003میں حمیدخان کو برسلز منتقل کر دیا گیاتا کہ عالمی فورمز پر پاکستان مخالف تقاریر کر سکے،بھارت نے حمید خان اور بیٹوں کو انڈین شناختی کارڈز پاسپورٹس اور دیگر سفری دستاویزات مہیا کیں،RAWکے اشارے پر ہی حمید خان نے عالمی مالیاتی اداروں کو خطوط کے ذریعے گلگت و دیگر 6مجوزہ جگہوں پر ڈیموں کے لئے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے میں روکنے کی کوشش کی تھی، سالہا سال سے قائم نیٹ ورک کاعلم ہونے کے باوجود اسے ناکام بنانے کے لئے پاکستانی انٹیلی جنس نے طویل اور صبر آزما منصوبہ بندی کی اور آپریشن Pusuit کے ذریعے BNFکا مقامی نیٹ ورک کو مکمل طور پر پکڑ کرRAWکے منصوبوں کو خاک میں ملا دیاخفیہ اطلاع پر کئی گئی اس کاروائی میں 14سرگرم افراد کی گرفتاری کے علاوہ بھاری تعداد اسلحہ،ایمو نیشن او رلٹریچر برآمد کیا گیا،اس سے قبل پاکستانی ایجنسیوں نے رواں سال8فروی کو حمید خان اور 28مارچ کوشیر نادر شاہی کو غیر مشروط طور پر سرنڈر رکنے پر مجبور کر دیا تھا،RAWکے اس اہم ترین نیٹ ورک کی گرفتاری حساس اداروں کی بہت بڑی کامیابی ہے،دوسری جانب پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)اور انٹیلی جنس بیورو(آئی بی)اہم آپریش کے دوران حضرت داتا گنج بخش ؒ دربار کے سامنے خود کش دھماکے کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا مشترکہ آپریشن میں پکڑے جانے والا چارسدہ کے علاقے شبقدر سے تعلق رکھنے والے بہرام خان کا بیٹا محسن خان ہے،ملزم نے بتایا کہ ضلع مہمند کے رہائشی طیب اسد عرف راکی نے افغان شہری صادق مہمند کے پاکستان پہنچنے پر اس سے ملاقات کی جو طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان داخل ہواجس نے اسے لاہور پہنچایا،دھماکہ خیز مواد الیکٹرانک سامان میں چھپا کر لایا گیا،سہولت کار،ہنڈلر اور خود کش بمبار بھاٹی گیٹ کے ایک مکان جو نور زیب نامی شخص نے کرائے پر لے رکھا تھا رہے،یہ واردات بھی افغانستان اور انڈیا کی مشترکہ تھی جس کی ذمہ داری حزب الاحرار نے قبول کی جس کی فنڈنگ بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ہی کرتی ہےِ،اب انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بربریت کا بازار مزید گرم کر رکھا ہے اس کی ریاستی جبر گیری کشمیریوں کا بلند حوصلے اور عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔

یہ بھی پڑھیں  نئے چیئرمین نیب نے قمر زمان جیسا کام کیا تو عوامی ردعمل آئیگا

error: Content is Protected!!