شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / رپورٹس / طالبان کی لاشیں خراب نہیں ہوتیں۔ ریڈ کراس کی رپورٹ میں انکشاف

طالبان کی لاشیں خراب نہیں ہوتیں۔ ریڈ کراس کی رپورٹ میں انکشاف

مریکی ادارے ریڈ کراس کی ویب سائٹ نے غیر ملکی فوجیوں کے مقابلے میں طالبان کے شہدا کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی ہےمذکورہ ادارہ جو مزار شریف میں مُردوں کوجمع کرنے اور انہیں دفنانے کی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے،نے اس بات پر انتہائی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ نہ تو طالبان کی لاشیں خراب ہوتی ہیں اور نہ ہی ان سے بدبو آتی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا کہاُس وقت ماہرین نے اس کی وجہ موسم کے سرد ہونے کو بتایاتھا،مگر ان ماہرین کی رائے اس وقت غلط ثابت ہوئی جب اسی لڑای میں شمالیاتحاد کے مردوں کو دیکھا گیا جن کی لاشیں گل سڑ گئی تھی اور ان سے سخت قسم کی بد بوآرہی تھی،رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب ماہرین اس خوراک کےبارے میں تحقیق کررہے کہ جو طالبان کے فوجی کھاتے ہیں،ماہرین اس بات کی تحقیق بھی کررہے کہ وہ یہ سمجھیں کہ خوراک اور خون کے مابین رشتہ ہے یانہیں،کیونکہ بعض طالبان کا خون موت کے بعد بھی گرم رہتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہاس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ سرکاری فوج سے بھاگنے کی ایک بڑی وجہ طالبان کے شہدا کی کرامات کو دیکھناہے۔صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل میں فوج سے بھاگ جانے والے ایک گروپ کےایک فوجی اپنے بھاگنے کیوجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ آمنے سامنے اور دوبدو جنگ میں طالبان نے پسپائی اختیار کی ،درحالکے دونوںجانب سے لاشیں میدان میں رہ گئی تھیں،ہمیں حکم دیا گیا کہ صبح تک وہاں پرقیام کریں،لیکن بہت ہی کم وقت گزرنے کے بعد ہماری فوجیوں کی لاشوں سےایسی بو آنے لگی جس سے وہان ٹھہرنا انسان کے بس میں نہیں تھا،اور دوسر جانب طالبان کی لاشوں سے انتہائی خوبصورت سہ مہلک اُٹھ رہی تھی، تو یہی بات تھی کہ ہمارے ساتھیوں [افغان آرمی] نے اپنا کام شروع کیااپنی لاشیں چھوڑ کر طالبان کی لاشوں کے پاس کھڑے ہوگئے،ان بھگوڑے فوجیوں کا کہنا تھا کہ جب صبح ہوئی ہم چند ساتھیوں نے سب کچھ چھوڑ دیاباوجود ہے کہ تنخواہ ملنے میں ابھی دو تین روز باقی تھے اور ہم اپنےگھروں کی طرف بھاگ نکلے۔

یہ بھی پڑھیں  بدین ،گولاڑچی،ٹنڈوباگوکی ساحلی پٹی کے 14 لاکھ سے زیادہ لوگ زیرزمین ،کڑوا ،اورزھریلہ پانی پینےپرمجبور
error: Content is Protected!!