پاکستانتازہ ترین

دہری شہریت کیس، رحمن ملک سمیت11ارکان پارلیمنٹ ہمیشہ کیلئےنااہل

اسلام آبا(بیوروچیف) سپریم کورٹ آف پاکستان نے دہری شہریت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک سمیت تمام 11ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ ان افرادپرآئین کی دفعہ 63 ون سی لاگو کی گئی ہے۔
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے عدالتی فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ ارکان پارلیمنٹ ہمیشہ کے لیے نااہل ہوگئے ہیں اور اب وہ کبھی الیکشن نہیں لڑسکیں گے۔ عدالت کی جانب سے نااہل قرا ر پانے والوں زاہد اقبال، فرح ناز اصفہانی، فرحت محمود خان، جمیل ملک، محمد اخلاق، اشرف چوہان شامل ہیں،نادیہ گبول، وسیم قادر، ندیم خادم، آمنہ بٹر اور احمد علی شاہ کو بھی نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ نااہل ہونے والے 11ارکان میں پیپلز پارٹی کے 2ن لیگ اور متحدہ قومی مومنٹ کےایک ایک ایم این اے شامل ہیں ۔پنجاب اسمبلی کے 5 اور سندھ اسمبلی کے 2 ارکان بھی شامل ہیں۔ جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان نے دہری شہریت کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ رحمن ملک نے 2008ء میں ڈیکلریشن دینے میں غلط بیانی کی ،جس کی وجہ سے وہ صادق اور امین نہیں رہےجب کہ آئین کے تحت صادق اور امین ہونا لازمی شرط ہے۔لہٰذا رحمن ملک 2008ء سے ہی نااہل ہوگئے ہیں۔ عدالت نے نااہل ارکان کو حکم دیا کہ وہ 2ہفتے کے اندر اس عہدے پر رہتے ہوئے حاصل کیے گئے تمام مالی فوائد واپس کریں جب کہ حکومت کو ان 11افراد کو دی گئی مراعات ختم کرنے کی ہدایت دی۔
اس اہم ترین فیصلے میں الیکشن کمیشن کو یہ بھی ہدایت جاری کی گئی کہ وہ دیگر اراکین اسمبلی سے دہری شہریت سے متعلق دوبارہ حلف کے کہ ان کے پاس صرف پاکستانی شہریت ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسپیکر،چیئرمین سینیٹ آئین کے تحت ایسے ارکان کامعاملہ الیکشن کمیشن کوبھیجتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ کو الیکشن سے قبل آرٹیکل 62 اور 63 کا حلف دینا ہوتا ہے، اس حلف میں کہنا ہوتا ہے کہ وہ الیکشن لڑنے کےلیےاہل ہے اور حلف میں غلط بیانی کرنے والے کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی ہوگی۔ عدالتی آرڈر میں کہا گیا کہ نااہل ارکان اسمبلی کا معاملہ براہ راست الیکشن کمیشن کو بھیجا جائےگا اور الیکشن کمیشن ،تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی کرکے2ہفتوں میں عدالت کوآگاہ کرے گا۔ واضح رہے کہ دہری شہریت سے متعلق محمود افضل نقوی نامی شخص نے عدالت عظمی میں درخواست جمع کرائی تھی،جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھاکہ دہری شہریت کا حامل کوئی بھی شخص قانون ساز ادارے کا رکن نہیں رہ سکتا۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی تھی جس نے منگل کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک کے وکیل انور منصور خان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل اب بھی سینیٹر اور وزیرداخلہ ہیں ،عدالت نے انہیں نااہل قرار نہیں دیا۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ عدالت عظمی نے ملک کے اہم ترین مقدمے میں واضح فیصلہ دیا۔ ادھر سابق وزیرقانون سینیٹر بابراعوان نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ۔ ان کا کہنا تھاکہ دہری شہریت سے متعلق عدالت کا فیصلہ آئین وقانون کے مطابق ہے۔

یہ بھی پڑھیں  سانحہ مچھ میں شہید کان کنوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker