پاکستانتازہ ترین

صوبائی حکومتوں نے موبائل بندش کی سفارش کی ہے، رحمان ملک

rehmanاسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ملک کے کئی شہروں میں موبائل فون بند کرنے کا فیصلہ آج رات تک کیا جائے گا، صوبائی حکومتوں کی جانب سے موبائل سروس بند کرنے کی درخواست موصول ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان حکومت نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سیکیورٹی خدشات کے باعث کئی شہروں میں صبح 7 سے رات 10 بجے تک موبائل سروس بند رکھنے کی درخواست کی ہے، سندھ کے شہروں کراچی، حیدرآباد اور خیرپور جبکہ پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، اٹک، شیخو پورہ، ننکانہ صاحب، سیالکوٹ، جہلم، چکوال، فیصل آباد، گوجرانوالہ، بھکر، جھنگ، چنیوٹ، لودھراں، ساہیوال ، راجن پور، مظفر گڑھ، نارووال اور سرگودھا میں موبائل بندکرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت نے صرف کوئٹہ میں موبائل فون بند کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ فروری تک موبائل کمپنیوں کے آوٴٹ لیٹس پر بائیو میٹرک سسٹم نصب کردیں گے، موبائل سم خریداروں کے انگوٹھے کے نشانات لئے جائیں گے، غیر قانونی سمز اب بھی دہشتگردی میں استعمال ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عام انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالے گا اس پر جرمانے کی تجویز زیر غور ہے، ووٹ نہ ڈالنے والوں کو گیس، بجلی اور دیگر سہولتوں سے محروم کیا جاسکتا ہے، نادرا ایسا سافٹ ویئر تیار کرے جس سے پتا چلے کس نے ووٹ نہیں ڈال۔ رحمان ملک نے کہا کہ سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق کا نام 19 جنوری 2012ء کو ہی نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا، جو اب بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں موجود ہے، ثبوت کے بغیر کسی کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈال سکتا چاہے نیب کہے یا کوئی اور۔ ان کا کہنا ہے کہ جہانگیر بدر نے کبھی بھی مجھ سے توقیر صادق کی سفارش نہیں کی، توقیر صادق کی روانگی معلوم کرنے کیلئے تمام ایئر پورٹس کی سی سی ٹی وی منگوالی۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور پولیس نے بتایا کہ کامران فیصل نے خودکشی کی، عدالتی کمیشن قائم کیا اور نوٹی فکیشن 20 جنوری کو جاری کیا، کمیشن پر عدم اعتماد ظاہر کیا گیا ہے، کامران فیصل قتل کیس کی تہہ تک جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  مسافروں کااحتجاج، پی آئی اے نےرحمان ملک اورڈاکٹررمیش کو آف لوڈ کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker