پاکستانتازہ ترین

سینٹ اجلاس ‘اپوزیشن اراکین کی تنقید کے باعث رحمن ملک کو بیماری کے باوجود حاضر ہوناپڑا

rehmanاسلام آباد (بیورو رپورٹ) سینٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین کی تنقید کے باعث وزیر داخلہ رحمن ملک کو بیماری کے باوجود ایوان میں حاضر ہونا پڑا‘ ن لیگ کے سینیٹر مشاہد اﷲ خان کے بے نظیر بھٹو بارے متنازعہ ریمارکس پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے اراکین میں شدید تلخ کلامی کی وجہ سے ایوان میں شور برپا رہا ‘ جے یو آئی (ف) نے بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف سینٹ اجلاس سے واک آؤٹ کیا جبکہ اراکین نے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام یوسف کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ‘ سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی جماعتیں نیا وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر منتخب کرکے ڈرامہ کرنا چاہتی ہیں تاکہ اپنی مرضی کا نگران سیٹ اپ لایا جاسکے بدھ کے روز سینٹ اجلاس کے دوران نکتہ اعتراض پر سینٹ میں اپوزیشن لیڈر اسحاق ڈار نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے بیان کہ ملک کے حصے بخرے ہونے والے ہیں پر بریفنگ دیں رحمن ملک ایوان کو ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کے بارے میں بتائیں جبکہ اجلاس ان کیمرہ تھا اور وہ ایوان میں نہیں آئے پوری قوم سے غلط بیانی کی ہے جب کوئی سنجیدہ کام ہورہا ہو تو وہ بیمار ہوجاتے ہیں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک قوم اور ملک کے ساتھ ڈرامے کرتے ہیں انہیں ہمارے حوالے کیا جائے وہ بالکل درست ہوجائیں گے انہوں نے کہاکہ ڈپٹی چیئرمین صابر علی بلوچ نے رحمن ملک کے ساتھ کچھ کھا لیا یا لگتا ہے دونوں نے کچھ غلط پی لیا ہے وزیر داخلہ بات کرکے فوری طور پر مکر جاتے ہیں ‘ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے سابق وزیر بلوچستان جام محمد یوسف کی مغفرت کیلئے دعا کرائی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے آزاد سینیٹر ہمایوں سعید خان مندوخیل نے کہا کہ سینٹ کی ملازم فرزانہ خان کے ساتھ نامناسب رویہ رکھا ہے اس کی بہن معذور ہے اور انہیں گراؤنڈ فلور پر فلیٹ دلوایا جائے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہاکہ مجھے بہانہ کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے میرے گلے سے آواز نہیں نکلتی اور نہ ہی میں نے گلے میں کوئی آواز دبانے والا آلہ لگایا میں حقیقت میں بیمار ہوں بیمار کی بھی عزت کرنی چاہیے عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ ہنگو کو ابھی تک گیس فراہم نہیں کی گئی جبکہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جلسہ میں اعلان کیا تھا ٹل کے لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اگر حکومت نے پندرہ فروری تک گیس نہ دی گئی تو پورا ضلع سڑکوں پر احتجاج کرے گا اور انتہائی قدم بھی اٹھا سکتے ہیں صوبہ خیبر پختونخواہ سے گیس اور ایک بیرل تیل بھی ملک میں سپلائی نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ڈائریکٹو کے باوجود کام شروع نہیں کیا جارہا ہے پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے خلاف درخواستیں دائر ہوئی ہیں لیکن نئے صوبوں کے حوالے سے ججز کے ریمارکس کہ پارلیمنٹ کو نئے صوبے بنانے کا کس نے اختیار دیا ہے کہ پارلیمنٹرین کو معلوم نہیں بہاولپور صوبہ تھا یا نہیں اس پر نہیں آئی ۔ہم اس کی مذمت کرتے ہیں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری ہنے کہا کہ مک میں جید علماء قتل ہورہے ہیں یہ قوم کے خلاف سازش ہے بلوچستان میں فوج کشی کی گئی جس کی وجہ سے نواب مری افعانستان چلے گئے اور حکومت کی طرف سے بلوچستان میں گورنر راج لگا غیر جمہوری اقدام کیا جو کہ جمہوریت پر بدنما داغ ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گھروں سے نکال کر اغواء کیا جارہا ہے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدام ملک دشمن ہیں جبکہ ہماری آواز میں عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اضافہ کیا ہے بلوچستان میں گورنر راج ختم کیا جائے انہوں نے کہا کہ الیکشن کے التواء کیلئے حکومت کبھی طاہر القادری کو خریدتی ہے تو کبھی عمران کو ایجنڈا دیا جاتا ہے غیر جمہوری قوتوں کے خلاف سیاسی قوتوں کو آگے آنا چاہیے اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں گورنر راج کے خلاف مولانا عبدالغفور حیدری نے واک آؤٹ کیا بلوچستان نیشنل نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ 1973 ء میں جو بلوچستان میں ہوا وہ عوام کی سوچ کے خلاف ہوا کاش کہ بلوچستان حکومت کام کرتی پچاس ارب روپے اسے دیئے گئے اور صوبے میں آئے روز لاشیں گررہی ہیں بلوچستان میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم بلوچستان پہنچے تو ان کا کسی صوبائی وزیر نے استقبال نہیں کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت ملٹری انٹیلی جنس کی پیداوار ہے بلوچستان کی حکومت بحال کرکے نام نہاد اپوزیشن لیڈر بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں الٹے سیدھے کام چھوڑیں ورنہ نتائج بہت بھیانک نکلیں گے جس کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر ہوگی عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر داؤد اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان پیکج میں پچھلے پانچ سالوں میں لوگوں کو روزگار نہیں دیا گیا صوبے کے مسئلے کا حل کس سیاسی جماعت نے پیش کیا ہماری جماعت نے خان آف قلات کا فارمولہ دیا اگر اس پر عمل کیا جائے تو صوبہ کے حالات بہتر ہوجائیں گے پیپلزپارٹی کے سینیٹر مختار دھاوا نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا دھرنا ناکام تھا بارش اور ٹھنڈ کی وجہ سے 13 سیاسی جماعتوں نے اپنا دھرنے کا پروگرام تبدیل کیا لیکن موسم کا مقابلہ نہ کیا بی این پی کی سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ صوبے کا نظام ٹھیک کرنے کی باتیں چار سال پہلے کرنی چاہیے تھیں آخر وقت ان کی باتیں سمجھ سے بالاتر ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے واک آؤٹ کیا مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا دھرنا عوامی نہیں تھا بلکہ یہ تو کراچی کی صورتحال پر احتجاج کیا گیا حکومت اس لئے اس دھرنے کی مخالفت کی یہ صرف طاہر القادری کے دھرنے کو سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیربھٹو کی لاش راولپنڈی میں پڑی ہوئی تھی تو میاں نواز شریف ہسپتال میں گئے تھے سارے جیالے بھاگ گئے تھے یہ طاہر القادری کے مطابق پچیس لاکھ کا دھرنا تھا میاں نواز شریف ایک اعلان میں لاکھوں لوگ اکٹھے کر سکتے ہیں اس کی مثال عدلیہ تحریک سب کے سامنے ہے مسلم لیگ ن نے جمہوریت کی خاطر قربانی دی پیپلزپارٹی محترمہ بی بی کے خون کو بھول چکے ہیں اس پر مسلم لیگ ن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا چیف وہیپ اسلام الدین شیخ نے کہا کہ محترمہ بے نظیربھٹو کی لاش چھوڑ کر نہیں بھاگے اس پر ن لیگ کے سینیٹر کو معافی مانگنی چاہیے محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے متنازعہ بات کرنے پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ طالع آزماؤں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی ہے بلوچستان میں گورنر راج کی حمایت نہیں کی ملک میں شفاف الیکشن ہونے کی امید ہے سیاستدان جمہوری نظام میں بہتری لائیں انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہمارے ورکروں اور علماء کو قتل کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کررہی اور پولیس میں چودہ سو کرپٹ افراد کو بھرتی کیا گیا جو کہ زیادتی ہے مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ بلوچستان میں گورنر راج لگانے کا حکومت کا فیصلہ میرٹ پر ہوا ہے کیونکہ حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے تھے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کو خوبصورت انداز میں حکومت نے ہینڈل کیا ہے انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو عظیم بہادر اور جرات مند خاتون تھیں ایم کیو ایم کے سینیٹر کرنل (ر) طاہر مشہدی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ قابل احترام ہیں ان کی عزت کرنی چاہیے اور انہیں متنازعہ نہیں بنانا چاہیے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف کے انتقال پر ان کی مغفرت کیلئے دعا کی گئی اور انہیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جن میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی ‘ مسلم لیگ ق کے سینیٹر مشاہد حسین سید‘ ایم کیو ایم کے سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی شامل تھے سینٹ کا اجلاس اب جمعہ کی صبح دس بجے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں  تین شرائط کے ساتھ کالعدم طالبان جنگ بندی پرمشروط رضامند

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker