تازہ ترینصدف گیلانیکالم

رحمان ملک ۔ ڈاکٹر رمیش۔جمشید دستی

sadiefیقیناًآپ اس واقعے سے باخبر ہوں گے جو ہم سب کیلئے ایک امید کا چراغ بنا ہوا ہے۔جس سے کو دیکھ کر سب کے دل خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ۔قوم جب جاگتی نظر آ رہی ہے خواب خرگوش سے بیدار ہوتی قوم کا جو پیغام 235افراد نے جہاز میں دیا ہے ان لوگوں کی جرات و بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں ،ان کی اس حمیت نے مجھ سے جیسے فر د جو مایوس کی دلدل میں دھنستا جا رہا تھا، نکال کر کھڑا کر دیا اس وقت بے ساختہ اقبال کاشعر یاد آ رہا ہے
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
تبدیلی کا خواب جو ہم سب نے دیکھ رکھا ہے تعبیر کے انتظا ر میں ہیں مجھے آج اس کی جھلک دکھائی دی۔خان صاحب کو قوم نے ستر لاکھ ووٹوں سے نوازا لیکن افسوس خان صاحب کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمیں وہ خواب 2018سے پہلے پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔سیاسی جماعتیں اس وقت ن لیگ کی ہمنوا بن چکی ہیں لیکن دل یہ بھی کہنے کو مجبور ہے کہ خان صاحب نے ان کو ساتھ نہ ملا کر اچھا کیا تاکہ انقلاب فرانس کی طرح کوئی انقلاب آئے جہاں صرف غریب کی حکومت چلتی ہوانقلاب خون مانگتا ہے تبدیلی وقت لیتی ہے ،دعا اور امید یہ ہے کہ قوم ایسی جاگے لٹیرے خوداپنی موت مریں ان کو مارنا نہ پڑے یہ واقعہ اندھیرے میں ایک چراغ سہی لیکن امید تو ہے ،جس طرح ان لوگوں نے ہمت و جرات کا مظاہرہ کیا ذہنی بیداری کا ثبوت دیا ہمیں بھی ان کے نقش قدم پہ چلنا ہو گا ان کا خوف اپنے دلوں سے نکالنا ہو گا۔ہم نے جو محبت شہباز شریف کو دے رکھی ہے کہ وہ سیلاب کے دوران پانی میں کھڑا نظر آتا ہے وہ ڈینگی کے دنوں میں صفائی کرتا نظر آتا ہے یہ سب ڈرامے ہوتے ہیں،کام ادارے کرتے ہیں سیاستدان کا کام اداروں کو سنبھالنا ہوتا ہے ان سے کام لینا ہوتا ہے خود فیصلے کرتے ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے شہباز شریف اس میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں جب تک اداروں کو مضبوط نہیں کرو گے اس وقت سفر ہوتا تو دیکھائی دے گا لیکن منزل تک نہیں پہنچ پاو گے ان لوگوں کے دھوکہ سے نکلو پی پی پی کی محبت سے نکلو کب تک ان کو اس وجہ سے ووٹ دیتے رہو گے کہ یہ مظلوم جماعت ہے۔اس سے محبت کرو جو کام کر کے دیکھائے،جس میں خلوص ہو جو ایمانداری سے خدمت کرے یہ جو قوم کی خدمت (ظلم)کرتے ہیں جبکہ اپنا پیٹ پھرتے ہیں۔ان لوگوں کے چنگل سے نکلنا ہو گا ہمیں سچائی کی طرف لوٹنا ہو گا حق کا ساتھ دینا ہو گاجذبات سے نہیں عقل اور ہوش سے کام کرنا ہو گا۔ہم لوگ تقسیم در تقسیم کیوں ہو رہے ہیں آخر پنجاب صرف مہاجر کو ووٹ دیتا ہے سرائیکی جاگیردار تک کھڑا ہے سندھ پی پی پی کو کراچی کو ایم کیو ایم تک محدود ہے پشتون اپنے قبائل اور بلوچ سردار کا حکم پہلے مانتے ہیں کب تک ہم ان دیواروں میں محدود رہیں گے کیا ہم صاحب نظر ہوتے ہوئے اندھے ہیں کیا سننے کی سکت کے باوجود بہرے ہیں ،کیا ہمارا دماغ پیٹ تک سوچتا ہے اس کے آگے جام کیوں ہو جاتا ہے ۔ہم لوگ قائدین کے پیچھے کب تک بھاگتے رہیں گے۔کیا راحت اندوری انڈیا نے ہمارے لئے کہا تھا
یہ لوگ پاوں سے نہیں ذہن سے اپاہج ہیں
ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ہے
جو بھی جماعت جلسہ کرے اس کو رونق بخشنے پہنچ جاتے ہیں تاکہ اس کی امید بن سکیں ہم لوگوں کے لیڈر ایسے ہیں جن کو اپنی بات منوانے کیلئے غنڈہ گردی کی ضرورت پڑتی ہے افسوس کی بات ہے طاہر عالم اپنی سیٹ پکی کرنے کیلئے بچوں کو جیل میں ڈالنا پڑا اس کو جس طرح اس عہدے پہ لگایا گیا ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے عورتوں میں جیل میں ڈال کر جو نام ن لیگ نام کما رہی ہے اس کا صلہ جلد ملے گا۔کہتے ہیں عمران صاحب قانون کی خلاف ورزی کی ہے ان کو تھانے نہیں جانا چاہیے تھا باقی ان لوگوں نے جو کیا وہ کام آئینی اور جمہوری تھا۔
زندہ قوم کا ثبوت ایک فلائیٹ میں 235افراد نے دیا جنھوں نے ڈاکٹررمیش پھر رحمان ملک کو بھگایامیرے تو خوشی سے آنسو چھلک پڑے جمشید دستی کو لوگوں نے مارا دل بڑا خوش ہو ا کہ لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کون دوست ہے کون مخالف۔جمشید دستی کو عوام کا ہمدرد سمجھنے والے خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔اس کا نسب ،حقیقت ،سچائی سے خوب واقف ہو یہ آدمی ایک مکمل ڈرامہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔
کیا جب 235 افراد جہاز سے ان کو دیر سے آنے پر نکال سکتے ہیں کیا ان لوگوں سے ہم پارلیمنٹ کو پاک نہیں کر سکتے ضرورت صرف جزبے کی ہے ۔جن لوگوں کا مقدر جیلیں ہونا چاہیءں تھیں وہ لوگ آپ کے اور میرے مقدر کا فیصلہ کر رہے ہیں جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں وہ انصاف کر رہے ہیں ہم لوگوں کو ان کا گند صاف کرنا ہے شروعات اپنے حلقے سے کریں آپ کے ہاں جو گندے انڈے ہیں جن کے دامن پہ غریب کا خون ہے مظلوم کی آہ ہے نادار کی بد دعا ہے اس کے اپنے علاقے کو صفا کریں ۔ان کا خوف ختم کریں خوف ایسی طاقت ہے جو ہمیں ان کے سامنے اٹھنے نہیں دے رہی ۔خوف گلہ دباو ورنہ ماضی کی طرح آئندہ بھی جوتے ہمارا مقدر ہوں۔ حکمرانوں کا رویہ دیکھنے کے بعد ان کو لگام دینا ہوگیا خالد ندیم شانیؔ کے اس شعر پہ ختم کروں گا
ہمارے خون سے بولی بھی ہوچکی اب تو
امیر شہر کو آخر کب لگام دو گے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button