تازہ ترینصابرمغلکالم

ریکوڈک منصوبہ۔ ملک دشمن احتساب عدالت میں

صوبہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے این اے 40 کے ذریعے558کلومیٹر دورسنگلاخ پہاڑوں اوربیابانوں میں افغانستان اور ایرانی سرحد کے قریب ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے شہرت یافتہ ضلع چاغی واقع ہے یہاں سے دوسری جانب افغانستان کا ویران علاقہ جبکہ شامل مغرب میں سرحدی قصبہ تفتان کے ذریعے یہ ایران سے منسلک ہے،سرحد پر واقع ایرانی قصبہ چاوہ سے زاہدان صرف45منٹ کی مسافت پر ہے،عمومی طور پر چاغی کو پاکستانی محض ایٹمی دھماکے ہی اس کی وجہ شہرت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ وہ علاقہ ہے جس سے ملک کی تقدیر تک بدل جاتی مگر ایسے ناسور جو اس وطن کی ہر چیز کو اپنے باپ کا مال تصور کرتے ہیں یہاں بھی ملک دشمنی اور لوٹ مار کا بازار گرم کر گئے جس کی وجہ سے ملکی ترقی کو شدید دھچکا پہنچا،بلوچستان مجموعی طور پر قدرتی وسائل سے اس قدر مالا مال ہے کہ اگر ان کا درست استعمال کیا جاتا تو آج ہم کسی اور ملک کے محتاج نہ ہوتے،نہ ہماری افرادی قوت دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہوتی اور نہ ہی ہم قرضہ جیسی لعنت کی دلدل میں دھنسے ہوتے،مگر یہ سب اپنوں کا ہی کمال ہے کہ ہم 7طرح کے موسموں،پہاڑوں،ریگستانوں،میدانوں،چشموں اور دنیا کے زرخیز ترین میدانی علاقہ ہونے کے باوجود ہم جہاں تھے وہی پڑے ہیں اس محتاجی،غربت اور افلاس کے ذمہ داران اپنے ہی ہیں جو غیر ملکی کمپنیوں سے بھی رشوت لینے کو فخر اور فریضہ سمجھتے ہیں،ایسے خبیثوں نے ہمیشہ وہ کام کیا جس سے وطن کو اس میں بسنے والی عوام کو ہی نقصان پہنچے ایسے بد بودار کردار کئی بار سامنے آئے قدرتی طور پر نشان عبرت بنے مگر ان کی نئی نسل ہم پر مسلط ہو کر اسی بے غیرت ڈگر پر گامزن رہی،ضلع چاغی رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کے چھوٹے سے اور سرحدی گاؤں ریکودک جس کا مفہوم ریت کا ٹیلہ دنیا کی اس قیمتی ترین پٹی پر واقع ہے جو اربوں ڈالرز کی معدنیات سے مالامال ہے،اسی ایریا میں بہترین شکار گاہیں بھی ہیں جو عربی شہزادوں کے لئے مختص ہیں جبکہ پاکستانی شکاریوں نے بھی یہاں اپنا شکار ڈھونڈ لیا،جیوجیکل ماہرین کے مطابق ضلع چاغی ٹیتھیان میگنیمکآرک نامی ایک ایسی پٹی کا حصہ ہے جو یورپ سے منگولیا تک ہزاروں کلومیٹرزیر زمین پھیلی ہوئی ہے،یہ پٹی سنٹرل،جنوبی اور مشرقی یورپ،ہنگری،بلجیریا،گریسی،ترکی،ایران،پاکستان،ہمالین ریجن میانمار،ملائشیا،انڈونیشیاء،پپوا،نیو گینیا قابل ذکر ہیں جو عرب،انڈیا اور افریقہ میں موجود زیر زمین مخالف پلیٹوں کے آپس میں ٹکرانے سے وجود میں آئی جہاں اکثر طوفان آتے اور گرمی کی انتہا،دور دور تک نہ پانی نہ آبادی میگننک کا حصہ ہونے کی بنا پر یہاں معدنیات موجود ہونے کا ماہرین کو یقین تھا،یہ پٹی نایاب ترین معدنیات کے حوالے سے مشہور ہے جس میں پاکستان حصہ چاغی سے شمالی وزیرستان تک نیچے ہے،اس بلاک کی قدر3کھرب ڈالر بتائی جاتی ہے مگر ماہرین ارضیات کے نزدیک یہ قدر بھی انتہائی درجہ کم ہے،یہ دنیا کی پانچویں بڑی سونے اور تانبے کی کان ہے،ایک تحقیق کے مطابق 33لاکھ473ہزار ایکڑ پر مشتمل اس علاقہ میں اعلیٰ ترین کوالٹی کے ایک کروڑ 80لاکھ ٹن تانبے اور 3کروڑ20لاکھ اونس سونے کے ذخائرپائے جاتے ہیں،1993میں امپورٹڈ وزیر اعظم معین قریشی کے دور میں نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان۔۔۔نے معدینات کی تلاش کے نام پر دستخط کرکےBHPنامی کمپنی کو چاغی کے پورے علاقے میں تلاش کے حقوق دے دالے،اس تاریخی کرپشن کی بنیاد معین قریشی رکھ دی گئی اس بد تر انتظامی فیصلے سے پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مذموم کاآغاز ہوا،مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قومی اسمبلی نعیم اعوان نے اس معاملہ کو سپریم کورٹ میں اٹھایا تھا ان کے مطابق کہ جیسے ہی عالمی کان کن غیر ملکی کمپنی کوریکودک کی اہمیت کا اندازہ ہواتو انہوں نے نہایت خاموشی سے اپنے مفادات حاصل کرنے کا آغاز کر دیااور جو کچھ ہو رہا ہے اسے کھلاڈاکہ کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا قومی مفادات کی نگرانی کرنے والے نظریں چرانے میں مصروف ہیں یہ اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ 1993میں ہی تلاش کے دوران 14ممکنہ علاقوں کی نشاندہی کے بعد48جگہوں پر کھدائی کا آغاز کر دیا گیا اس ایریا کو ریکودک کمپلیکس کا نام بھی دے دیا گیا، اس کمپنی نے قلیل عرصہ میں ہی سائٹ5۔ELمیں کم گہرائی پر ہی سونے اور تانبے کے ذخائر دریافت کرلئے تھے،حکومت نے اس معاہدے میں عالمی کمپنی کو75اور بلوچستان کو محض25فیصد کے حقوق دئیے اور صوبہ کے لے رائلٹی2فیصد رکھی گئی،اس قدر سونا اور تانبے موجود ہونے کے باوجودکیوں سینڈک کی کانوں کو حکومتی سطع پرنظر اندازکرتے ہوئے سونا نہ نکالا گیا؟اور چاغی کی اس عظیم جگہ پر تلاش کرنے کی ڈیل 75/25رکھی گئی اس پر نگران سیٹ اپ جسے اس قدر اختیارات ہی نہیں ہوتے نے ایسا کیوں کیا جو سب قومی مفادات کے بر عکس تھا،یہ معاہدہ پھر2000میں باقاعدہ ایک نئی تحریری دستاویز کی شکل میں دیا گیا جس سے کمپنی کو مزید حقوق تفویض کر دئے گئے،اسی سال مشہور آسٹریلین کمپنی مینکور ریسورسزنےBHPکے حصص خرید لئے مگر اس نے ایک ذیلی کمپنی TCCکو آگے رکھا تا کہ مفادات ٹھیک طرح حاصل ہوں سکیں حصص کی خریداری کے نئے معاہدے میں یہ شق بھی شامل کر دی گئی کہ وہ تمام کام سونے اور تانبے کو ریفائنرنگ کے لئے پاکستان سے باہر لے جانے کا بھی حق رکھے گی،حالانکہ اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کا ہوا تھالیکن پہلی کمپنی نے حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر ٹھیکہ اطالوی کمپنی کو دے دیا جس کی کوشش رہی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے سونا اور تانباکینیڈا،اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے،اپریل2006میں ایک تجدیدی معاہدہ کے ذریعے CHJVAکے تحت BHPکے تمام حقوق اور ذمہ داریاں حاصل کر لیں جس کے مطابق انسنونگٹ اور بیرک گولڈ کا حصہ 37.5..37.5فیصد اور صوبہ کا وہی 25رکھا گیا،TCCنے اس سال تک کھدائی اور دریافت میں 400ملین ڈالر تک کرچ کر لئے تھے جو در حقیقت دوسری بڑی کمپنیوں کے تھے جبکہ دوسری جانب یہی کمپنی آہستہ آہستہ اپنے حصص فروخت کرنے کے عمل میں غیر محسوس طریقے سے شامل رہی،پہلے اس کے شئیر بیرک پھر Minor Resourses NLنے ٹیک اوور کر لیا یہی وہ دنیا کی چند بری کان کمپنیوں میں ایک تھی جس نے TCCکو بطور مہرہ استعمال کیااس منصوبے کو بعد میں اسرائیلی اور کینڈین کمپنی بارک گولڈ نے حاصل کر لیا،بارک گولڈ دنیا کی سب سے بڑی کان کنی فرم ہے،پہلی10بڑی کمپنیوں میں 5کینیڈا،2جنوبی افریقہ اور1۔1آسٹریلیا،امریکہ اور روس کی ہیں کینیڈا کی بڑی کمپنیوں میں اسرائیلی سرمایہ کاری بڑی حد تک شامل ہے کتنی شرمناک بات ہے کہ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جسے پاکستان نے آج تک قبول نہیں کیااور نہ ہی ہمارے پاسپورٹ پر کوئی اسرائیل کا سفر کر سکتا ہے مگر ہمارے چند گھٹیا ترین کرداروں کی وجہ سے اسرائیلی سرمایہ کار پاکستان کو لوٹنے آن پہنچے،بارک گولڈ13ممالک میں 16مقامات پرکام کر رہی ہے،بالآخر یہ کیس سپریم کورٹ جا پہنچاجہاں یہ کیس5 سال تک زیر سماعت رہاجسے7جنوری 2013کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اجمل سعید شیخ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ایکودک گولڈ معاہدیکو ملک قوانین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہایہ معاہدہ ملک کے منرل رولزاور ملکیت کی منتقلی اور بعد میں کی گئی تمام ترامیم غیر قانونی ہیں،دوران سماعت عدالت نے مئی2011کو بلوچستان حکومت کو حکم تھا کہ وہ شفاف کاروائی کرتے ہوئے کسی سیاسی مداخلت کے بغیرTCCکا نہ صرف لائسنس منسوخ کرے بلکہ TCCکو دی گئی سائٹس کے گردو نواح میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لئے مزید لائسنس جاری کرے،حکومت اس وقت 11لائسنس جاری کئے،حیرت انگیز طور پر ان 11میں سے5لائسنس پاکستان اور چین میں بننے والی مشترکہ نئی کمپنیوں کو دئے گئے یہ نا تجربہ کار کمپنیاں سپریم کورٹ کے حکم کے بعدصرف4ماہ کے اندر قائم ہوئیں اور لائسنس حاصل کر لیا،عدالتی حکم کے بعد وہ کمپنیاں عالمی عدالتوں میں چلی گئیں جبکہ وفاقی نے اس نوعیت کے تصفیئے پر زور دیتا رہا کہ ماضی کی طرح انہی کمپنیوں کو کام کرنے دیا جائے،وفاق نے عالمی ادارے میں کیس کی پیروی کے لئے رقم فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا، ICSIDجو ایک بین الاقوامی ثالثی ادارہ ہے جو واشنگٹن کے ورلڈ بینک گروپ کے فنڈز سے کام کرتا ہے نے پاکستان کو 6ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا جس پر پاکستان نے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کر لیا،عالمی ثالثی ادارے اور پاکستان کے درمیان یہ کیس 7سال تک زیر سماعت رہا،اگر یہ فیصلہ لاگو رہتا ہے تو اس کے تباہ کن معاشی نتائج سامنے آئیں گے،اب ریکودک منصوبہ کیس میں نیب بلوچستان نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگانے کے الزام میں کوئٹہ کی احتساب عدالت میں 26افراد کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا ہے جن میں سابق افسران،اہلکاران اور بین الاقوامی کمپنیوں کو نامزد کیا گیا ہے،یہ ریفرنس ٹھوس اور نا قابل تردید شواہدکے بعد چیرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی منطوری کے بعد دائر کیا گیا ہے،ریفرنس میں آسٹریلوی کمپنی کو نوازنے،اراضی الاٹمنٹ میں گھپلے،قومی مفاد کے بر عکس ملزمان مالی مفاد حاصل کرنے کا عتراف کر چکے ہیں یہ اعتراف بھی سامنے آیا ہے کہ TCCآپریٹوزحکومتی عناصر کو رشوت دے کر غیر قانونی مفادات حاصل کرتے رہے،نیب کی یہ تفتیش بھی کئی سالوں پر محیط ہے جسے ڈی جی آپریشن اور DGکوئٹہ نیب نے انجام دیا،نیب ٹیم نے متعدد محکموں کی سکروٹنی کی اور کئی بار بیرون ملک بھی بیانات حاصل کرنے گئے، بد عنوان عناصر کی وجہ سے ریکودک منصوبہ جس کے ذریعے ملک کو اربوں ڈالر آمدنی یقینی تھی مطلوبہ نتائج کیا سب برباد کر دیا،بلوچستان حکومت کے مطابق یہاں سے روزانہ کی بنیاد پر15ہزار ٹن تانبا اور سونا نکالا جا سکتا تھا جس سے سالانہ اربوں ڈالر آمدنی ہوتی، 6نومبر2012میں وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے انکشاف کیا تھا کہ ریکودک کی وجہ سے مخصوص قوتیں اسے عہدہ سے ہٹانا چاہتی ہیں،یہ صوبہ جو ہمیشہ مالیاتی خسارے کا شکار رہااس غیر معمولی معاشی ترقی سے محروم ہو گیاجو اسے چاغی میں عالمی سطع کی سونے اور تانبے کی کانوں سے حاصل ہونے والے تھے،اس سے قومی خزانے کو بھی300ارب ڈالر کے قریب نقصان اٹھانا پڑا،ایٹمی دھماکوں سے شہرت یافتہ چاغی کا ایک چھوٹا سا قصبہ اس وقت ریکودک کی وجہ سے عالمی تنازعات کی زد میں ہے،وطن عزیز دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر طرح کی نعمتیں وافر مقدار میں اور اس کی جغرافیائی حیثیت ساری دنیا کی مجبوری ہے اس کے باوجودہم اپنے ہی لٹیروں کی وجہ سے معاشی استحکام آج تک حاصل نہیں کر پائے جس کی بنیادی وجہ یہاں احتساب کا شرمناک حد تک فقدان ہے البتہ استحصال عروج پر ہے،ضرورت ہے کہ قومی خزانے سے کھلواڑ کرنے والے اور ملکی ترقی کے منصوبوں کواپنے مفادات ی بھینٹ چڑھانے والوں کو نشانہ عبرت بنایا جائے،نیب ریفرنس سرکاری افسران بارے ہے اس میں وہ سیاسی شخصیات کیوں نہیں جنہوں نے اس مکروہ فعل میں اپنا اپنا دبودار کردار ادا کیااور وہ جو جنہوں نے نا اہلی اور غفلت کا مظاہرہ کیا۔۔

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد:سورج غروب ہونے سے پہلے جلوس ختم کردیں،رحمان ملک کی اپیل

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker