پاکستانتازہ ترین

رمشا کے خلاف ثبوت نہیں ملے: پولیس

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس کا کہنا ہے کہ کوئی ثبوت نہیں کہ عیسائی لڑکی رمشا توہینِ مذہب کی مرتکب ہوئی۔یاد رہے کہ اسلام آباد کے گاؤں میرا جعفر کی رہائشی مسیحی بچی رمشا کو سولہ جولائی کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔رمشا آٹھ ستمبر تک راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رہیں جہاں سے ان کو پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں پر ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ان کو اڈیالہ جیل سے پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹر میں نامعلوم جگہ پر منتقل کیا گیا تھا۔امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق پولیس چالان کے مطابق رمشا کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔اس کیس کے تفتیشی افسر منیر جعفری نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اشارے ملے ہیں کہ میرا جعفر گاؤں کے مسجد کے امام نے نے قرآنی صفحات اس شاپنگ بیگ میں ڈالے جو رمشا نے اٹھا رکھا تھا۔انگریزی اخبار ڈان کے مطابق پولیس کے چالان میں کہا گیا ہے کہ اس شاپنگ بیگ اور اس میں پڑے مواد کو لاہور میں فارنسک لیباریٹری بھیجا جا رہا ہے۔تاہم ڈسٹرکٹ اٹارنی نے اس چالان پر کئی اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے بعد میں اس چالان پر اپنے اعتراضات درج کر کے دستخط کردیے۔چالان میں کہا گیا ہے کہ کسی نے بھی اس جگہ کی نشاندہی نہیں کی ہے جہاں پر رمشا نے مبینہ طور پر قرآنی صفحات جلائے۔ڈان اخبار کے مطابق چالان میں مزید کہا گیا ہے کہ درحقیقت شاپنگ بیگ پھینکنے رمشا کی چھوٹی بہن چھ سالہ سویرا آئی تھی۔ اس نے یہ بیگ مقبول احمد کے مکان کے سامنے پھینکا اور اس بات کی تصدیق دو عینی شاہدین نے کی ہے۔چالان کے مطابق مقبول احمد کی بیٹی نے پہلے جلے ہوئے اوراق دیکھے اور اس نے اپنے والدین کو وہ بیگ دیا جنہوں نے مقامی امام مسجد کو دیا۔واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں رمشا وہ پہلی کم سن لڑکی ہیں جس پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا۔پولیس نے اسی مقدمے میں مقامی مسجد کے پیش امام خالد جدون کو توہین مذہب کے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہوا ہے جو اب اڈیالہ جیل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ :معروف ڈاکٹر سرجن شجاع الرحمان کے انتقال پرسٹی پریس کلب(رجسٹرڈ) میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker