پاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ نےرینٹل پاورکیس میں نیب کی رپورٹ کوغیرتسلی بخش قراردیدیا

rental-pawerاسلام آباد(بیورو رپورٹ)سپریم کورٹ نے رینٹل پاور کیس میں قومی احتساب بیورو کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے چیئرمین نیب کو انکوائری کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 23 جنوری تک ملتوی کردی ہے جبکہ چیف جسٹس نے ملزمان کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ رینٹل پاور کیس میں ایسے بھی لوگ ہیں جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں،قانون سے بالاتر کوئی نہیں، پراسکیوٹرز جنرل نیب کا کہنا تھا کہ عدالت اپنے اختیارات سے تجاوز کررہی ہے ۔ رینٹل پاور عملدرآمد کیس کی سماعت جمعرات کو چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کی ،عدالت نے وزیر اعظم سمیت ملزموں کو گرفتار نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس نے اس دوران ریمارکس دیے کہ 15 جنوری کو راجہ پرویز اشرف سمیت تمام ملزمان کو گرفتار کرنے اور چالان پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔انہوں نے نیب سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدر آمد کیوں نہیں ہو رہا؟چیئرمین نیب نے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ ہماری تحقیقات میں رقم کی رضا کارانہ واپسی ہوئی ہے قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ تفتیشی افسر نے اہم پہلوؤں کا خیال نہیں کیا۔ تفتیشی رپورٹ ناقص ہے۔سپریم کورٹ نے نیب رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تمام فائلیں اور ریکارڈ طلب کرلیا جس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے کہا کہ تفتیش کے دوران فائلیں عدالت میں پیش نہیں کی جاسکتیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم وہ فائلیں اور ریکارڈ پہلے بھی دیکھا اور اس کی روشنی میں ہی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیاہے۔ کے کے آغا نے اس موقع پر کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے۔ چیئرمین نیب فصیح بخاری کا کہنا تھا کہ تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کردوں گا لیکن پراسیکیوٹر جنرل نے اہم قانونی نکتہ اٹھایا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو نیب حکام کو ملزموں کے خلاف ریفرنس دائر کر کے چالان پیش کرنے اور ان کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس ہونا تھا جو تاحال نہیں ہو سکا جس کے باعث عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق رینٹل پاور کیس سے متعلق نیب کے پراسیکیوٹر اور دیگر افسروں کی چیئرمین سے غیر رسمی مشاورت جاری رہی لیکن کسی با ضابطہ اجلاس میں ریفرنس کی منظوری نہ دی جا سکی ۔ رینٹل پاور کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رینٹل پاور کیس میں ایسے بھی لوگ ہیں جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ہم ایک بات جانتے ہیں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں 30 مارچ 2012ء کو فیصلہ نیب کی میز پر تھا تفتیش اب تک کیوں مکمل نہیں ہوسکی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رینٹل پاور کیس کا فیصلہ سرکاری دستاویزات پر مبنی ہے۔چیئرمین نیب فصیح بخاری نے کیس سے متعلق رپورٹ جمع کرائی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کی تحقیقات میں رقم کی رضا کارانہ واپسی ہوئی قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا نہ ہی نقصان پہنچانے کا الزام ثابت ہوا۔تفتیشی افسر نے اہم ریکارڈ سے پہلو تہی کی اس رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس داخل کیا تو ملزم بری ہوجائینگے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے چیئرمین نیب کی پیش کردہ رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کی بجائے وکیل صفائی نے رپورٹ تیار کی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ تیار کرنے والے ایڈیشنل پراسکیوٹر کیخلاف کارروائی کی جائے اور رینٹل پاور کے تمام کیسز کی فائلیں عدالت میں پیش کی جائیں اس پر نیب کے پراسکیوٹر جنرل کے کے آغا نے کہا کہ سپریم کورٹ اختیارات سے تجاوز کررہی ہے سپریم کورٹ نیب کی تفتیش کا ریکارڈ نہیں دیکھ سکتی چیئرمین نیب نے کہا کہ وہ نیب آرڈیننس کے تحت ہی کام کرے گی اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چیئرمین نیب میں سپریم کورٹ کے جج نہیں سپریم کورٹ کے تمام دستاویزات دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ دیا چیف جسٹس نے چیئرمین نیب کو پندرہ منٹ میں تمام فائلیں لے کر آنے کا حکم دیا اس کے بعد چیئرمین نیب نے فائلیں جمع کروانے کی حامی بھری لیکن اٹارنی جنرل سے مشورے کے بعد کہا کہ عدالت تحریری طور پر حکم جاری کرے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک حکم ہے اور حکم حکم ہوتا ہے ۔ وقفے کے بعد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیئرمین نیب فصیح بخاری نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ عدالت تحریری حکم دیگی تو پھر ریکارڈ لے کر آئیں گے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے برہمی کا اظہار کیا اور پراسکیوٹر نیب کے کے آغا کو بلوایا اور کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیس مارچ سے حکم دے رکھا ہے عدالتوں کا مذاق مت بنائے ہم آپ کو حکم دے رہے ہیں اور ریکارڈ لے کر آئیں جس پر پراسکیوٹر نیب نے کہا کہ ریکارڈ لانے میں بہت وقت لگ سکتا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ چاہے جتنا بھی وقت لگے ہم عدالت میں بیٹھے ہیں عدالت میں ریکارڈ فراہم کیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا عرصہ گزر گیا لیکن اس کے باوجود ایک ریفرنس بھی عدالت میں داخل نہیں کیا چیئرمین نیب عدالتی حکم کو مذاق سمجھ رہے ہیں۔اس پر پراسکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ریکارڈ بہت حساس ہے رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس جمع کروادینگے اس دوران عدالت نے ایڈیشنل پراسکیوٹر رانا زاہد الرحمن کے حوالے سے کہا کہ ہم آپ کے خلاف بھی حکم جاری کرینگے کیونکہ یہ رپورٹ عدالت میں داخل کی گئی ہے وہ ایڈیشنل پراسکیوٹر کی جانب سے داخل کی گئی ہے کہ شواہد کافی نہیں عدالت نے تین ماہ تک مقدمے کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا اور اب ایک تفتیشی افسر سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے رہا ہے ۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ آپ نے ملزمان کو کلین چٹ دے دی ہے اگر کوئی شخص غیر ذمہ دار ہے تو چیئرمین نیب کارروائی کریں عدالت عملدرآمد کے حوالے سے چیئرمین نیب سے پوچھے گی عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ رینٹل پاور کیس میں ہونے والی تحقیقات کی جامع رپورٹ پیش کی جائے۔بعد ازاں مقدمہ کی سماعت 23 جنوری دن 1بجے تک ملتوی کردی گئی

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل:عوام سے کیے گئے وعدے مسلم لیگ ن کو پورے کرنے چاہیے،عظمت اللہ خان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker