رپورٹس

سینٹ ارکان کے ظاہر کردہ اثاثوں میں ایک سال میں کمی واقع ہوئی ہے، رپورٹ

اسلام آباد ﴿بیورو رپورٹ﴾ سینٹ کے ارکان نے ظاہر کردہ اثاثوں کی جانچ پڑتال کے موثر نظام کے فقدان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثاثوں سے متعلق آدھا سچ بیان کیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ظاہر کئے گئے اثاثوں کارگر گزشتہ سے پیوستہ سال کے اثاثوں سے موازنہ کیا جائے تو انکشاف ہوتا ہے زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ نے اپنے اثاثوں کی قیمت، ذرائع آمدن ظاہر کرنے سے زیادہ مخفی رکھے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ﴿ق﴾ کی رکن پارلیمنٹ محترمہ گلشن سعید جن کی میعاد چند روز قبل ختم ہوئی ہے نے اپنے برطانیہ کے گھر کی فروخت کے 72.5 ملین روپے کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال کے اپنے بیان میں ذرائع واضح کئے بغیر 3 ارب روپے کی ترسیلات موصول ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ ان کے اثاثوں میں 60ملین روپے کے 2 گھر اور ایک زرعی فارم 12.83 کلوگرام سونا اور 9 ملین روپے نقد شامل ہیں جبکہ ان کے پاس موجود سونے کی قدر ایک سال میں 44 ملین سے 60 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خطیر رقم سٹاک ایکسچینج اور دیگر بچت سکیموں میں لگائی ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے گل محمد لاٹ 64 ایکڑ زرعی اراضی ڈیفنس ہاؤسنگ میں 2 پلاٹ اور سلور لینڈ میں ایک فلیٹ کے مالک ہیں کے اثاثے ایک سال میں 76.4 ملین روپے سے کم ہو کر 39.5 ملین روپے تک آ گئے ہیں۔ 2010ئ میں ان کی زرعی اراضی 13.9 ملین روپے مالیت کی تھی جب اب اس کی قیمت کم ہو کر فقط 2.5 ملین روپے رہ گئی ہے۔ ان کا سلور لینڈ کا فلیٹ جو 2010ئ میں 7.5 ملین روپے کا تھا اب فقط 20 لاکھ روپے کا رہ گیا ہے۔ ان کی بیوی کے نام پر اراضی کی قدر 60 ملین سے کم ہو کر 30 ملین رہ گئی ہے جبکہ اس کے بیٹے کے نام پر 2010 ئ میں 30 ملین روپے کے اثاثے اور جائیداد اب ظاہر نہ کئے گئے تھے جبکہ ان کی دبئی میں موجود جائیداد کی قدر 575 ملین روپے سے کم ہو کر 300 ملین روپے تک آ گئی ہے۔ ان کے بیرون ملک نقد اثاثے جو 2010ئ میں 1.18 ارب روپے تھے کم ہو کر 600 ملین تک آ گئے ہیں۔ فاٹا سے آزاد امیدوار محمد ادریس خان سیفی نے اپنے خاندان کی جائیداد 520 ملین روپے اور 200 ملین روپے کی ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروبار ظاہر کیا تھا اور 4 ملین روپے کی دو کاریں ہیں لیکن اب ان کے پاس کوئی کار نہیں ہے۔ سینیٹر ملک رشید نے 2010ئ میں الحمرا اور اسلام آباد میں ایک فارم ہاؤس اور کرم میں 4 ملین کا ایک گھر اور کوئلے کی کانیں وغیرہ ظاہر کی ہیں۔ ان کے پاس گاؤں میں زرعی زمین 2011ئ میں ظاہر نہ کی گئی ہے۔ فخر امام اور سیدہ عابدہ حسین کی بیٹی صغریٰ امام نے 158 ملین روپے کے اثاثے 130 ایکڑ خانیوال اور جنگ میں زمین اور بینکوں میں 13.7 ملین روپے ظاہر کئے ہیں جبکہ اس کے پاس کوئی کار نہیں ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے پرویز رشید کے بینک اکاؤنٹ میں 124000 روپے میں اور اس کے پاس نہ گھر ہے نہ کار اور نہ ہی کاروبار مولانا محمد خان شیرانی کے پاس ایک کلوگرام سونا اور ایک لاکھ روپے نقد ہے اس کے علاوہ کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے جہانگیر بدر سمیت چند سینٹ ارکان تکنیکی اعتبار سے دیوالیہ ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker