شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی کی محنتوں کی وجہ سے2015کی نسبت2016میں جرائم کی شرح میں40فیصد کمی ہوئی

ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی کی محنتوں کی وجہ سے2015کی نسبت2016میں جرائم کی شرح میں40فیصد کمی ہوئی

قصور(خصوصی تحریر:محمد عمران سلفی)ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی نے دن رات محنت کرکے جرائم کی شرع میں واضع کمی کر دی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ سال کی نسبت40فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے، ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی نے اپنی تعینات کے دن سے ہی 20گھنٹے تک کام کرنا معمول بنا لیا تھا، دن بھر عوام کو انصاف کی فراہمی میں مصروف عمل جبکہ رات 11بجے12بجے ایس ایچ اوز سے میٹنگیں کرنا ان کا معمول رہا ہے، رات کو خود گشت کرنے کی وجہ سے ایس ایچ اوز حضرات نے بھی گشت کو معمول بنا لیا، ضلع بھر کی شاہراہوں پر مورچے بنوا پر پولیس اہلکار تعینات کر دئیے، امن و مان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کیلئے مساجد ، امام بارگاہوں ودیگر عبادت گاہوں کے سامنے بھی مورچے بنوائے، رمضان المبارک، محرم الحرام، عیدوں ربیع الاول ، 25دسمبر الیکشن ودیگر تہواروں پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے، مجاہد سکوارڈ کی وجہ سے سٹرئٹ کرائم میں کمی ہوئی،ضلع بھر میں کھلی کچہریاں لگا کر عوام کو انصاف ان کی دہلیز پر مہیا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، کرپٹ اہلکاروں کو نوکری سے بر خاست جبکہ محنتی افسران کی حوصلہ افزائی کیلئے نقد انعام و تریفی اسناد جاری کی گئی، ان کی دن رات محنتوں اور پولیس کی طرف سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا، درجنوں افراد واصل جہنم ہو چکے ہیں، ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی کی ان محنتوں کی وجہ سے ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر جرم یا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے سیاسی و سماجی جماعتوں کے نمائندوں، علما وصحافیوں کی طرف سے ضلع بھر میں ان کے حق میں ریلیاں نکالی گئی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا،قصور کے عوام سابقہ ڈی سی او قصور عبدالجبار شاہین کی طرح انہیں بھی ہمیشہ یاد رکھیں گے، امن و امان کی صورتحال میں بھی گزشتہ سال کی نسبت واضح بہتری آئی۔سال 2015کی نسبت رواں سال میں قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، رابری، راہزنی اور نقب زنی سمیت جرائم کی مختلف کیٹگریز کے گراف میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق سال 2015کے دوران ڈکیتی، رابری اور راہزنی کے کل 522مقدمات درج ہوئے جبکہ سال 2016کے دورا ن کل 316مقدمات درج ہوئے اس طرح ڈکیتی، رابری اور راہزنی جیسے سنگین کرائم میں 40فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔سال 2015کے دوران ڈکیتی کے دوران قتل کے 8مقدمات درج ہوئے جبکہ سال 2016کے دوران انکی تعداد صرف 2 رہی اس طرح ڈکیتی معہ قتل کی وارداتوں میں 75فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔سال 2015کے دوران پٹرول پمپ ڈکیتی اور رابری کے 7مقدمات درج ہوئے جبکہ رواں سال کے دوران 5مقدمات درج ہوئے ۔ اسی طرح ہائی وے ڈکیتی اور رابری میں 55فیصد کمی ریکارڈ کی گئی سال 2015کے دوران ہائی وے ڈکیتی اور رابری کے 43جبکہ رواں سال کے دوران انکی تعداد19رہی ۔اسی طرح موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی پچھلے برس کے دوران موٹرسائیکل چھیننے کے 134مقدمات درج ہوئے جبکہ رواں برس کے دوران انکی تعداد 54رہی ۔ گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 43فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور 2015کے 21واقعات کے مقابلے میں 2016میں12واقعات پیش آئے ۔موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں بھی نمایا ں کمی دیکھنے کو آئی رواں برس کے دوران موٹرسائیکل ودیگر وہیکل چوری کے 151مقدمات درج ہوئے جبکہ پچھلے برس کے دوران 204مقدمات درج ہوئے ۔2015کی نسبت 2016میں قتل کے واقعات میں مجموعی طور پر 9فیصد کمی واقع ہوئی ،2015کے دوران قتل کے مجموعی طور پر 175واقعات پیش آئے جبکہ سال2016کے دوران 160واقعات ہوئے

یہ بھی پڑھیں  ’’ غدار،مکار،عیاربڑے فنکار ہیں جناب‘‘