انور عباس انورتازہ ترینکالم

ریاست بچاؤ تقریر۔۔ ۔تضادات کا ملغوبہ

anwar abas logoسیاست کرنا اور ریاست کو بچانا ہر پاکستانی کا بنیادی حق اور فریضہ ہے۔سیاست کے میدان میں موجود ہر سیاسی کھلاڑی کا دعوی بھی یہی ہے کہ وہ ریاست کی حفاظت اور ریاست میں بسنے والوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سیاست کر رہا ہے۔ طاہرالقادری کو بھی پاکستان کا آئین سیاست کرنے اور ریاست بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا حق دیتا ہے۔کیونکہ پاکستان پر جتنا حق میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کا ہے اتنا ہی محترم طاہر القادری کا ہے ۔انہوں نے لاہور میں مینارے پاکستان کے سائے تلے ایک بڑا عوامی جلسہ تو کرلیا ہے ۔اور آج کل ایسے جلسے منعقد کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں جس شہر میں جلسہ ہوتا تھا اسی شہر کے عوام جلسے میں شریک ہوا کرتے تھے۔ پورے ملک سے عوام کو جمع نہیں کیا جاتا تھا۔ سوال پیدا یہ ہوتا ہے 249 کہ کیا قادری صاحب ایسے ہی عوامی جلسے پورے ملک میں کرنے کا تسلسل جاری رکھ پائیں گے؟ تقریر تو بہت اچھی تھی ۔لیکن چند ایک باتیں ایسی ہیں جن کی وضاخت نہایت ضروری ہے۔ مجھے ان کے فقیدالمثال خطاب میں کئی ایک تضادات دکھائی دئیے ہیں۔اور کئی ایک بڑی اہمیت کے حامل معاملات میں انکی لاعلمی بھی میرے لیے باعث ندامت بنی ہے۔یوں تو محترم طاہر القادری کی بات کو جھٹلانا آسان کام نہیں 249کیونکہ محترم عالم فاضل ہیں۔ اور علامہ بھی۔۔۔ ڈکٹریٹ کی ڈگری بھی رکھتے ہیں اس کے علاوہ وہ قائد انقلاب کا سرٹیفیکیٹ بھی انہیں حاصل ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ محترم طاہر القادری پیر طریقت بھی ہیں۔ محترم طاہر القادری صاحب نے جتنی باتیں کی ہیں اور جتنے بھی مطالبے پیش کیے ہیں وہ سب کے حق میں آئین کے آرٹکلز کے حوالوں کے انبار لگادئیے ہیں ۔ او راپنے اس جلسے کے حوالے سے مخالیفین کی جانب سے لگائے گے الزامات کہ وہ الیکشن ملتوی کروانے کنیڈا سے پاکستان آ رہے ہیں۔جس کی انہوں نے بھر انداز میں اور وہ بھی حلفا واشگاف تردید کر دی ہے۔ لیکن اتنا ضرور اعتراف کیا ہے کہ کسی ضروری کام کی انجام دہی کے لیے کچھ عرصہ کے لیے الیکشن کو ملتوی کیا جاسکتا ہے ۔آئین اسکی اجازت دیتا ہے۔انہوں کہا کہ ان کی منشا ء بھی یہی ہے کہ الیکشن کروائے جائیں لیکن آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اور عوامی نمائندگی کے لیے آئین میں درج شرائط کو پورا کرنے کے بعد الیکشن کروائے جائیں۔اگر ایسا کیے بغیر الیکشن منعقد کرائے گے تو یہ آئین سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔ قائد انقلاب حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی کہی باتیں درست اور بڑی وزنی ہیں مگر انہوں نے خود بھی آئین سے متصادم مطالبات کر کے آئین پاکستان کی نفی کی ہے ۔مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ دو سیاسی جماعتوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ نگران سیٹ اپ کا فیصلہ کریں۔علامہ طاہر القادری صاحب کے اپنے الفاظ ہیں کہ وہ دو پارٹیوں کو ڈرائینگ روم میں مک مکا کی اجازت نہیں دیں گے ۔انکا کہنا ہے کہ نگران سیٹ اپ کا فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مشورے سے ترتیب دیا جائے ۔تمام اسٹیک ہولڈر سے انکی مراد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان کے سربراہوں اور چیف جسٹس آف پاکستان ہیں۔مطلب ان سب کے مشورے سے نگران سیٹ اپ تشکیل دیا جائے تو پیر طریقت حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری مدظلاعلی تعالی کو منظور ہوگا ورنہ نہیں۔حضرت صاحب کا یہ مطالبہ صریحا آئین پاکستان کے خلاف ہے ۔کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد نگران نگران وزیر اور انکے وزرا ء کا انتخاب حکمران اور اپوزیشن یعنی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف کریں گے اور اگر یہ حضرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو پھر یہ کام چیف الیکشن کمشنر سرانجام دیں گے۔یہ تو کہتا ہے آئین پاکستان مگر علامہ صاحب اسکے برعکس کہہ رہے ہیں۔جس کا واضع مطلب آئین سے روگردانی کرنا ہے۔ آئین پاکستان میں کہیں نہیں درج کہ حکومت کی تشکیل میں چاہے وہ نگران ہی کیوں نہ ہو عدلیہ اور افواج پاکستان کا کوئی کردار ہوگا ۔۔۔یاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی فرشتوں نے زمین پر اترنے کا فیصلہ کیا ہے اس وقت ایسی ہی آوازیں کانوں میں رس گولنے لگتی ہیں۔انیس سو اٹھاون کا انقلاب ہو یا انیس ستترکا اسلامی شب خون مارنا ہو یا پھر جنرل پرویز مشرف کا لبرل انقلاب ہو ۔سب انقلابی جرنیلوں نے سیاست کو شجر ممنوعہ قرار دیا۔۔۔ اور پاکستان کی تمام خرابیوں کا زمہ دار سیاست دانوں کو ہی قرار دیتے ہوئے فوجی انقلاب کا جواز بنایا اور پھر آئین پاکستان کے ساتھ وہ کھیل کھیلا کہ اللہ کی پناہ۔۔۔طاہر القادری کہتے ہیں کہ میرا مقصد ملٹری ڈکٹیٹر شپ کی راہ ہموار کرنا نہیں اور اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو سب سے پہلے میں اسکا راستہ روکوں گا۔۔۔لیکن مائی ڈئیر علامہ صاحب ماضی میں بھی ایسا ہی کہا گیا لیکن بعد میں کیا ہوا وہ آپ شائد نہ جانتے ہوں مگر عوام سب کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں۔۔۔جنرل اصغرخان نے بھی انیس ستتر میں فوج کو خط لکھا مگر بعد میں یہی کہا کہ انہوں نے فوج کو مارشل لا لگانے کی دعوت نہیں دی تھی ۔انہوں نے اس اجتماع کے لیے کسی خفیہ ادارے کی طرف سے معاونت کی بھی تردید کی لیکن اخبارات بتا تے ہیں کہ کئی خفیہ اداروں کے اعلی حکام اجتماع کا نظارہ کرنے کے لیے وہاں موجود تھے اسکا کیا مطلب ہوا جناب علامہ صاحب؟اتنا فقیدالمثال اجتماع کرنے اور لانگ مارچ کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی جبکہ انکی اپنی کوئی سیاسی جماعت ہی نہیں اور نہ ہی انہیں الیکشن میں حصہ لینا مقصود ہے۔جب حضرت علامہ صاحب نے بار ب

یہ بھی پڑھیں  جمبر: ٹھٹھی اوتاڑ میں پسند کی شادی کرنے پرعیسائی جوڑے کو قتل کردیا گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker