پروفیسر رفعت مظہرکالم

لوڈ شیڈنگ یاعذابِ مسلسل

شب بیداری صوفیوں اور اللہ کے مقرّب بندوں کو بہت مرغوب ہے اور شب بیدارتو ہم بھی ہیں لیکن ہماری شب بیداری کا سبب لوڈ شیڈنگ ہے جو ہماری عوامی حکومت کا قوم کے لئے تحفہ ہے ۔شدید گرمی اور حبس میں جب کئی کئی گھنٹے بجلی بند رہتی ہے اور ہمارا ننھا مُنا یو پی ایس بھی احتجاجاََ ٹیں ٹیں کرنے لگتا ہے تو ہم کھولتے ہوئے خون اور تپتے ہوئے ذہن کے ساتھ دہشت گردی کے کئی منصوبے سوچنے لگتے ہیں لیکن ہر منصوبہ اپنی نا معقولیت کی بنا پر ابتدا ہی میں دم توڑ دیتا ہے ۔ پتہ نہیں کتنے منصوبے بنے اور بگڑے لیکن نہ تو ہم دہشت گرد بن سکے اور نہ ہی حکومت لوڈ شیڈنگ جیسی دہشت گردی سے باز آئی ۔ہماری مجبوری تو یہ ہے کہ ہمارا طالبان سے بھی کوئی رابطہ نہیں وگرنہ ان سے ہی کوئی دو چار گُر سیکھ لیتے ۔ویسے ہم نے اپنے تئیں یہ کوشش بھی کرکے دیکھ لی ۔ہوا یوں کہ ہم نے پچھلے دنوں ایک موٹے تازے ’’مولوی صاحب‘‘ کو سرِ راہے روک کر پوچھا کہ کیا اس کا طالبان سے کوئی رابطہ ہے ؟۔اس ذاتِ شریف نے ہماری طرف دیکھا ،گھُورا اور دوڑ لگا دی ۔جب سے مولوی صاحب فرار ہوئے ہیں تب سے ہمیںیقین ہو چلاہے کہ امریکہ جھوٹا اور مکار ہے جو ’’ایویں خواہ مخواہ ‘‘ ہمارے دینی مدارس پر افغانستان میں جنگجو بھیجنے کا الزام دھرتا ہے ۔۔۔ ہیلری کلنٹن کہتی ہے کہ ایمن ا لظواہری پاکستان میں ہے ۔ہمارا اس ’’پاکستانی ساس‘‘ سے بھی کوئی رابطہ نہیں وگرنہ اس سے ہی ایمن الظواہری کا پتہ پوچھ کران کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کر دیتے۔ ISI والوں سے اس لئے پوچھنے کا رسک نہیں لیا جا سکتا کہ اس میں ہمارے ’’غائب‘‘ہو جانے کا قوی امکان ہے ۔اور جوں ہی ہماراشمار ’’مسنگ پرسنز‘‘ میں ہوا میرے میاں نے قہقہے لگاتے ہوئے کہنا ہے کہ ’’خس کم جہاںپاک‘‘ ۔ اگر اپنے چیف صاحب ہماری گُم شدگی کا از خود نوٹس لے بھی لیں تو کچھ فرق نہیں پڑے گا کہ پہلے گُمشدگان کون سے گھروں کو لوٹ آئے جو ہمارے واپس آنے کی اُمید ہو ۔ویسے بھی اپنے میاں کو ایسی غیر متوقع خوشی دینے کی میںہرگز روادار نہیں ۔ مختصر یہ کہ چاروں طرف سے مایوس ہو کر میں محض خون کے گھونٹ پینے پر اکتفا کرتی ہوںاور کمزور انسانوں کی متاعِ خاص یعنی ’’مغلظات‘‘سے بھی پرہیز کرتی ہوں کہ ہم ادبی لوگوں کو یہ بے ادبی زیب نہیں دیتی لیکن دل میں مغلظات کے کتنے سونامی جنم لیتے ہیں؟۔ نہیںبتا سکتی کیونکہ دلوں کے بھید تو صرف ربّ جانتا ہے اور ان رازوں میں بندوں کو شریک نہیں کیا جاتا ۔بہرحال اس لوڈ شیڈنگ سے مجھ پر یہ تو عیاں ہو گیا کہ لوگ خود کُش بمبار کیوں اور کیسے بنتے ہیں۔ہم صرف ایک لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں مرنے مارنے کو تیار ہو گئے لیکن جن کے پورے کے پورے خاندان ڈرون کی نذر ہو جاتے ہیں وہ خود کُش بمبار نہیں تو کیا امن و آتشی کے پیامبربنیں گے؟۔
دوسری طرف ہمارے سزا یافتہ وزیرِ اعظم صاحب ہمیں گرمی میں بلکتا چھوڑ کر خود لندن کی سیر کو نکل گئے ۔سُنا ہے کہ حکومتِ برطانیہ نے صرف چھ افراد کو دورے کی دعوت دی تھی لیکن ہمارے گیلانی صاحب 90 مریدین بھی ساتھ لے کر پہنچ گئے ۔شاید حکومتِ برطانیہ پر رعب شوب ڈالنا ہو گا ۔مریدین کے لئے برطانیہ کے مہنگے ترین ’’چرچل ‘‘ہوٹل میں 90 کمرے بُک کروائے گئے ہیں جن کا کرایہ دروغ بر گردنِ راوی چھ کروڑ اور دورے کے کُل اخراجات کا تخمینہ پچیس سے تیس کروڑ ہے ۔اگر ہمارے گدی نشین اس مجبور و مقہور قوم پر رحم فرماتے تو ان روپوں سے چھ سات دن کی بجلی کا بندوبست تو ہو ہی سکتا تھا۔ اگر ایسا ہو جاتاتو ہم بھی دہشت گردی کے منصوبے نہ بناتے ۔لیکن کیا کریںکہ ہماری تو خاتونِ اوّل کو تو لندن کے مہنگے ترین سٹوروں سے کئی کئی لاکھ پونڈ کی خریداری کا شوق ہے ۔انہوں نے کہا ہو گا کہ ’’شاہ جی‘‘اب موقع ہے، اور ایسے موقعے بار بار ہاتھ نہیں لگا کرتے اس لئے جتنا ہاتھ مار سکتے ہیں مار لیں۔ اب کی بار کتنے لاکھ پونڈ کی خریداری ہو گی ؟۔مجھے تو پتہ نہیں لیکن ہماراجاسوس میڈیا سب پتہ لگا لے گا وہ کوئی CIA سے کم ہے؟۔
گیلانی صاحب کو انگلینڈ جیسے’’ غریب ‘‘ملک میں جا کر اپنی توہین کروانے کی کیا ضرورت تھی؟دیکھیں ناں ! ان کے وزیرِ اعظم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا کہ گیلانی صاحب کے لئے الگ سے گاڑی منگوا لیتے ۔انہوں نے گیلانی صاحب کو اپنی گاڑی میں اپنے ساتھ بٹھایا اور جب باہر نکلے تو ٹریفک جام کی وجہ سے تقریباََ ایک گھنٹہ رش میں پھنسے رہے۔ہمارے گدی نشین سوچتے تو ہونگے کہ کن کنجوسوں سے پالا پڑ گیا ہے ۔کہاں پاکستان جیسا امیر ترین ملک جہاں وزیرِ اعظم ستّر ستّر گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ سفر کرتا ہے۔سفر سے کئی کئی گھنٹے پہلے وزیرِ اعظم کی سلامتی کی خاطر ٹریفک بند کر دی جاتی ہے ، عورتیں رکشوں میں بچے جنم دیتی ہیں اورہم بڑے فخر سے ان کا نام ’’رکشہ خاں‘‘ رکھ دیتے ہیں۔ دوسری طرف کہاںیہ مفلس برطانیہ کہ ایک گاڑی ، دو وزرائے اعظم اور وہ بھی ٹریفک میں پھنسے ہوئے ۔ حکومتِ برطانیہ کو کم از کم اتنا تو احساس کرنا چاہیے تھا کہ ہمارے دبنگ وزیرِ اعظم ابھی تازہ تازہ سپریم کورٹ سے پھڈا ڈال کے آئے ہیں ۔ہے کوئی دنیا میں ایسا دلیر وزیرِ اعظم جو اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پہ رکھ کے غیر مُلکی دورے پر نکل جائے ؟۔ ’’ان سا ہو تو سامنے آئے‘‘۔
سچی بات ہے کہ گیلانی صاحب سے اتنی جُرأت اور ہمت کی توقع تو ہمیں بھی نہیں تھی ۔لیکن ہماری بے خبری کی انتہا دیکھیے کہ ہمیں اتنا بھی پتہ نہیں تھا کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ تو سندھ کی ڈپٹی سپیکر محترمہ شہلا رضا کی تنخواہ دار ہے ۔انہوں نے فرمایا ’’یہ تنخواہ ہم سے لیتے ہیں او ر ہمیں ہی اخلاقیات کا درس دیتے ہیں ‘‘۔واقعی ان کا غصے سے کھولنا بلکہ کھولتے چلے جانا بالکل بجا تھا کہ ، ایک تنخواہ دار کی اتنی جرأت؟۔ میں تو خود بھی اعلیٰ عدلیہ کی اس جرأت پر بھری بیٹھی تھی لیکن میری ایک جاننے والی نے یہ بتلا کر مجھے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا کہ تنخواہ دار تو شہلا رضا بھی ہے بلکہ وزیرِ اعظم سمیت سارے وزیر مشیر اور اراکینَ پارلیمنٹ بھی اور جن سے عدلیہ تنخواہ لیتی ہے انہی سے شہلا رضااور دیگر اصحاب کو بھی ملتی ہے ۔ میں نے پوچھا ’’انہیںتنخواہ کون دیتا ہے‘‘؟۔جواب ملا ’’قومی خزانہ جسے عوام کی نس نس سے خون نچوڑ کر بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے ‘‘ ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پسینہ لوڈ شیڈنگ نکال لیتی ہے اور خون قومی خزانہ۔باقی بچے ہم جو ہمیشہ گنگناتے رہتے ہیں کہ ’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘۔ کچھ افلاطونی دانشور اس مصرعے کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ہمارے اندر خونِ گرم کی لہریں موجزن ہیں اور کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی تڑپ بھی ۔یہ ادب نا شناس بھلا کیا جانیں کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اتنی ذلتوں اور رُسوائیوں کے باوجود بھی ہم میں زندگی کی رمق ابھی باقی ہے۔کتنے ڈھیٹ ہیں ہم۔

یہ بھی پڑھیں  بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker