شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پروفیسر رفعت مظہر / آئینِ پاکستان اور نظریۂ ضرورت

آئینِ پاکستان اور نظریۂ ضرورت

میں کافی عرصے سے پریشان بلکہ پشیمان اور احساسِ کمتری میں مبتلا تھی کہ سو ، سوا سو صفحات پر مشتمل آئین نامی مقدس دستاویز دیکھی نہ پڑھی البتہ سُنی ضرور اور وہ بھی مختلف ٹاک شوزمیں۔ لیکن جو کچھ سُنا وہ بھی مضحکہ خیز کہ عدلیہ ، وکلا ، اپوزیشن اور حکمرانوں سبھی کا اپنا اپنا آئین ۔عدلیہ آئین کی کچھ تشریح کرتی ہے تو ایوانِ صدر میں بیٹھے بزرجمہروں کے ہاں اُس تشریح کا تصوّر بھی غیر آئینی ہے ۔اپوزیشن اپنے آئین کا ڈھنڈورا پیٹتی نظر آتی ہے تو دینی درسگاہوں میں کسی اور بھی آئین کا درس دیا جاتا ہے ۔اب بندہ کس کے آئین پہ اعتبار کرے ؟۔اپنی تو اب یہ حالت ہے کہ
ایماں جو مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کُفر
کعبہ میرے پیچھے ہے ، کلیسا میرے آگے
میرا یہ احساسِ کمتری اُس لمحۂ خوشگوار میں یکلخت ختم ہو کے رہ گیا ہے جب مجھ پر عیاں ہوا کہ آئین کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے بھی ہماری طرح ’’نہلے‘‘ ہی ہیں ۔ شک تو مجھے پہلے بھی تھا کہ ’’گدی نشینوں‘‘ کے پاس ایسی فضولیات کا مطالعہ کرنے کا وقت کہاں لیکن یقین تب آیا جب محترم گیلانی صاحب نے یہ فرمایا کہ آئین اراکینِ اسمبلی اور سینیٹرزپر دوہری شہریت رکھنے کی کوئی قدغن نہیں لگاتا ۔گیلانی صاحب کے اِس بیا ن کے بعد میرا پہلا ردِ عمل تو یہی تھا کہ اعلیٰ عدلیہ نے ’’ایویں خوامخواہ ای‘‘ معصوم سی فرح ناز اصفحانی اور دبنگ رحمٰن ملک کی رُکنیت معطل کر دی لیکن تھوڑی سی مغز ماری کے بعد پتہ چلا کہ آئین کے آرٹیکل 63-1-C میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص پاکستان کا شہری نہیں رہتا یا وہ کسی دوسرے مُلک کی شہریت حاصل کر لیتا ہے تو وہ پارلیمنٹ یا مجلسِ شوریٰ کا رُکن رہنے یا چُنے جانے کا اہل نہیں ہو سکتا ۔تب سے اب تک میں یہی سوچ رہی ہوں کہ اکیلے آئین کے محافظ گیلانی صاحب ہی آئین سے نا بلد نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سمیت ’’اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں‘‘ کہ اراکینِ پارلیمنٹ تو رہے ایک طرف ہمارے ہاں تو معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے ’’غیر مُلکی‘‘ بھی دھڑلے سے وزارتِ عظمیٰ کے مزے لے کر اپنے وطن لوٹ بھی چُکے لیکن الیکشن کمیشن کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ لیکن پھر یہ خیال آتا ہے کہ شاید الیکشن کمیشن تو دستور سے واقف ہی ہو گا البتہ ہو سکتا ہے کہ ’’نظریۂ ضرورت ‘‘آڑے آ گیا ہو ۔اللہ بھلا کرے اس نظریۂ ضرورت کاجس کی بدولت یہ مُلک قائم و دائم ہے ۔اگر یہ نہ ہوتا تو ہمیں آرٹیکل 3 پر عمل کرتے ہوئے اُردو کو قومی اور دفتری زبان بنانا پڑجاتا جس سے پورے ’’گلوبل ولیج‘‘ کو پتہ چل جاتا کہ کتنی ان پڑھ ، اُجڈ، جاہل اور گنوار ہے یہ قوم کہ جسے انگریزی بھی نہیں آتی ۔پچھلے دنوں جب برادر مُلک تُرکی کے وزیرِ اعظم طیّب اُردوان نے ہماری پارلیمنٹ سے اپنی قومی زبان تُرکی میں خطاب کیا تو مجھے اُن پر بہت ترس آیا کہ بیچارے تعلیمی میدان میں کتنے پیچھے رہ گئے ۔البتہ جب ہمارے راہبروں نے فَر فَر انگریزی بولی بلکہ جھاڑی تو میری گردن غُرور سے تن گئی اور مجھے اپنے غُلام ابنِ غُلام ہونے پر فخر محسوس ہونے لگا ۔ میں اسی لئے خادمِ اعلیٰ کو بہت پسند کرتی ہوں کہ وہ بچوں کو ’’انگلش میڈیم‘‘ بنانے میں اربوں روپئے صرف کر رہے ہیں اور کرتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔اگر میری اُن تک رسائی ہوتی تو میں اُنہیں ضرور مشورہ دیتی کہ ’’خادمِ اعلیٰ‘‘ اُن کے شایانِ شان نہیں کیونکہ اس میں گنوارپنے کی مہک آتی ہے ۔کیا ہی اچھا ہو کہ وہ Great servent کہلانے لگیں۔
یقین مانیے کہ یہ نظریۂ ضرورت بہت کار آمد شے ہے ۔ اگر یہ نہ ہوتا تو آرٹیکلز 62/63 پر عمل در آمد بھی ضرور ہوتا جس سے ہم نہ صرف اپنے راہبروں سے محروم ہو جاتے بلکہ ہماری اسمبلیوں میں بھی اُ لّو بولنے لگتے کیونکہ اگر اِس معیار پر پورا اُترنا ہی مقصود ہے تو پھر الیکشن لڑنے کا فائدہ؟۔بھاڑ میں جائے ایسی اسمبلی کی رُکنیت جو انسان کو ارب پتی بھی نہ بنا سکے ۔یہ بھی نظریۂ ضرورت کا شاخسانہ ہے کہ ہر آمر غداری کے آرٹیکل 6 کی چھاتی پر اپنے فوجی بوٹ رکھ کر آیا اور ہم نے نہ صرف اُسے خوش آمدید کہا بلکہ دس ، دس بار وردی میں منتخب کروانے کے دعوے اور وعدے بھی کیے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنے وعدے ایفا ئ نہ کر سکے ۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وعدے قُرآن و حدیث تو نہیں ہوتے ۔ اگر نظریۂ ضرورت نہ ہوتا تو تحقیق کہ قوم ضیائ الحق اور پرویز مشرف جیسے محبّ ِ وطن راہنماؤں سے محروم رہ جاتی ۔
مجھے کبھی یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر بھٹو مرحوم نے کیا سوچ کر آئین میں آرٹیکل227 اور 228 کو شامل کرنے کی اجازت دی اور اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ان آرٹیکلز کی دہشت ناکی کی طرف کسی کا دھیان تک نہیں گیا ۔ ان آرٹیکلز کے مطابق سارے قوانین سات سال کے عرصے میں اسلامی سانچے میںتو نہ ڈھل سکے لیکن اگر آج بھی کوئی مردِ قلندر ان پر عمل درآمد کی ضد کر بیٹھا تو ہمیں کتنی خطرناک صورتِ حال کا سامنا کرنا ہو گا کیونکہ دین تو چور کا ہاتھ اور ڈاکو کا ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کی سزا دیتا ہے ۔ذرا چشمِ تصوّر سے دیکھیے کہ ہماری اسمبلیوں میں کتنے لوگ صحیح سالم بیٹھے ہونگے اور بیوروکریسی میں کتنے؟۔اس دورِ جدید میں ایسے آرٹیکل کی قطعاََ کوئی گنجائش نہیںجو ہمارے راہبروں کو معذور کر دیں البتہ آرٹیکل 248 زندہ باد ۔لیکن اس کا دائرہ صرف صدر اور گورنرز تک محدود کیوں؟۔سارے اراکینِ اسمبلی اور بیوروکریٹس کو بھی اس سے بھرپور استفادے کا موقع ملنا چاہیے کیونکہ ہم جمہوری لوگ ہیں اورآئین کے مطابق سبھی کے حقوق برابر ہیں البتہ عوام کے نہیں کہ عوام کے لئے صرف فرائض ہی فرائض ہیں۔
تسلیم کہ مجھے آئین کی کوئی شُد بُد ہے نہ میرا اس سے کوئی سرو کار کہ میرا آئین تو پیٹ سے شروع ہو کر پیٹ پر ہی ختم ہو جاتا ہے اور بقول نظیر اکبر آبادی میرا آئین تو یہ ہے کہ
پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کس لئے؟
وہ سُن کے بولا ، بابا خُدا تُم کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سورج نہ تارے ہیں جانتے
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں
دیوانہ آدمی کو بناتی ہیں روٹیاں
خود ناچتی ہیں اور نچاتی ہیں روٹیاں
لیکن شاید مہر بانوں کو یہ ادراک نہیں کہ یہی دیوانگی انقلاب کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔۔۔۔انقلاب اور وہ بھی خونی انقلاب ۔

یہ بھی پڑھیں  اسلامی انقلاب کے اثرات