پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

وزارتِ عُظمیٰ مبارک ہو

قوم کو سلور جوبلی وزیرِ اعظم مبارک ہو ۔ویسے امید یہی ہے کہ اگلے چند ماہ میںمزید دو چار نئے وزرائے اعظم کا دیدار بھی نصیب ہو ہی جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ اپنے مولانا فضل ا لرحمٰن صاحب کی باری بھی آ ہی جائے لیکن اس بار تو وہ بال بال بچ گئے ۔پہلے تو اُن کی جیب میںایم ایم اے کے بہت سے ووٹ تھے،پھر بھی اُن کا نشانہ خطا گیا لیکن اِس بار وہ محض سات ووٹوں کے ساتھ میدان میں کود پڑے۔شاید پامسٹ ’’سامعہ خاں‘‘نے بتلایا ہو گا کہ سات نمبر بڑا لکی ہوتا ہے اس لئے رام بھلی کرے گا ۔مولانا آخری لمحے تک ڈٹے رہے لیکن پتہ نہیں کیوں اچانک حوصلہ ہار بیٹھے اور دست بردار ہو گئے۔ہو سکتا ہے کہ آخری لمحے میں کوئی معجزہ رونما ہو ہی جاتا حالانکہ یہ معجزوں کا دور ہر گز نہیں ہے اب تو ہم اُنہیں یہی حوصلہ دے سکتے ہیں کہ ’’گرتے ہیں شاہسوار ہی میدانِ جنگ میں‘‘ خیر مولانا صاحب تو جذبات کے ہاتھوں مار کھا ہی گئے لیکن زرداری صاحب کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ بیٹھے بٹھائے ’’راجہ رینٹل‘‘کو قوم پر مسلط کر دیا ۔غُصہ اُنہیں سپریم کورٹ پر تھا اور نکال دیا بیچاری قوم پر ۔ویسے یہ حضرتِ انسان بھی بڑا نا شُکرا ہے جوکسی حال میں خوش نہیں رہتا ۔پہلے سبھی مُلتان کے سید زادے کے پیچھے لٹھ لے کرپڑے رہے اور اب راجہ صاحب کے مہا راجہ بننے کے بعد کہتے ہیں کہ اس سے تو اپنے ’’گدی نشیں‘‘ ہی بہتر تھے ، سمارٹ ، خوش لباس اور خوش خوراک۔لیکن لوگوںکا کیا ہے ، یہ احسان نا سپاس تو مشرف کو بھی زرداری صاحب پر ترجیح دینے لگے ہیں حالانکہ محترم زرداری کے دورِ حکومت میں مال ’’نُکرے‘‘ لگانے کے جتنے گُر ہم نے سیکھے، وہ پہلے کبھی سیکھے اور نہ آئیندہ سیکھ پائیں گے۔
اُدھر تمام لکھاری، صحافی اور دانشور بھی ہاتھ دھو کر راجہ پرویز اشرف کے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔کوئی اُنہیں پراپرٹی ڈیلر کہتا ہے تو کوئی راجہ رینٹل، کوئی راجو بن گیا جنٹل مین تو کوئی راجہ بن گیا مہا راجہ۔دست بستہ سوال ہے کہ اگر راجہ صاحب وزیرِ اعظم نہ بنتے تو پھر کیا آپ بنتے ؟۔وہی جاٹ والی بات جس کے بیٹے نے کہا تھا کہ ’’ابا ! اگر بادشاہ مر جائے تو کون بادشاہ بنے گا ‘‘؟۔باپ نے کہا’’بادشاہ کا بیٹا‘‘۔ بیٹے نے پھر کہا ’’اگر وہ بھی مر جائے تو؟‘‘۔ باپ نے کہا ’’پھر اُس کا بیٹا ‘‘۔ بیٹے نے جب تین چار مرتبہ یہی سوال دہرایا تو باپ نے تنگ آ کر کہا ’’ اگر ساری دُنیا کے بادشاہ بھی مر جائیں تو پھر بھی جاٹ کا بیٹا بادشاہ نہیں بن سکتا‘‘۔ تو محترم لکھاریو اور دانشورو! اگر سارے پاکستان کے وزرائے اعظم اور متوقع وزرائے اعظم بحیرۂ عرب میں پھینک دیئے جائیں تو پھر بھی آپ نے تو قلم ہی گھسیٹنا اور دل کے پھپھولے ہی پھوڑنے ہیں ۔آپ تو وزیرِ اعظم بننے سے رہے۔ اس لئے پرائے پھڈے میں ٹانگ اڑانے کا فائدہ؟۔یہ پارلیمنٹ کا کام ہے ، اُسی کو کرنے دیں ۔البتہ موجودہ پارلیمنٹ میں اگر آپ کو کوئی بہتر ’’چوائس‘‘ نظر آتی ہے تو بتائیں۔بھائی یہ تو ’’گٹر ‘‘ ہے جس میں سبھی حشرات ایک جیسے ہی ہیں ، البتہ چھوٹے بڑے کا فرق ضرور ہو گا اور یہ پارلیمنٹ کوئی آسمان سے بصورتِ قہرِ خُدا وندی نازل نہیں کی گئی بلکہ ہماری اپنی ہی منتخب کردہ ہے اور آقا öکا فرمان ہے کہ رب جب کسی قوم پر قہر نازل کرنا چاہتا ہے تو اُس پر ظالم و جابر حُکمران مسلط کر دیتا ہے ۔جب ہم نے یہ عذاب اپنے لئے خود ہی پسند کیا تو پھر یہ شور و غُل کیسا؟۔
کہا جاتا ہے کہ ایک پراپرٹی ڈیلر کو قوم پہ مسلط کر دیا گیا جس نے کبھی سچ نہیں بولا ۔جنگ گروپ کے محمد مالک حلفاََ کہتے ہیں کہ اربابِ ایم کیو ایم نے اُنہں پوری قطعیت سے یہ بتلایا تھا کہ وہ کسی صورت میں راجہ پرویز اشرف کی حمایت نہیں کریں گے۔جب اُن سے وجہ پوچھی گئی تو اُنہوں نے کہا کہ وہ جھوٹ بہت بولتا ہے ۔راجہ صاحب پر یہ بھی الزام ہے کہ جب وہ ایک وزارت نہیں سنبھال سکے تو پورا مُلک کیسے سنبھالیں گے؟۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ رینٹل پاور سکینڈل میں نامزد مُلزم ہیں۔بجا ۔۔۔ سب کچھ بجا لیکن دست بستہ عرض ہے کہ یہاں کون پراپرٹی ڈیلر نہیں ؟۔ہم نے تو ملک ریاض کو اِس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا جس کا دھندہ ہی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ اور اُن کی خرید و فروخت ہے ۔ایم کیو ایم تب راجہ پرویز اشرف پر الزام دھرے جب اُس نے خود کبھی سچ بولا ہو۔محمد مالک صاحب کو تو ہم سے زیادہ پتہ ہے کہ ایم کیو ایم چار دفعہ حتمی اعلان کرکے حکومت سے الگ ہوئی اور پھر تھوک چاٹ کے واپس آئی ۔اُنہوں نے ایم کیو ایم کی باتوں پہ اعتبار کیا ہی کیوں؟۔کیا وہ نہیں جانتے کہ بلیک میلنگ میں ایم کیو ایم کا کوئی ثانی نہیں اور حکومت کے بغیر وہ رہ نہیں سکتی۔یہ بجا کہ راجہ پرویز اشرف پانی اور بجلی کی وزارت نہیں سنبھال سکے لیکن سوال یہ ہے کہ آج تک ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والوں نے کون سا ہمالیہ سر کر لیا ہے جو یہ نہ کر سکیں گے؟۔بجا کہ رینٹل پاور کے ملزم کو وزیرِ اعظم بنا دیا گیا لیکن عوام کی منتخب کردہ اسی پارلیمنٹ نے جنابِ زرداری کو بھی تو صدر بنایا تھا ۔اُن پر تو بیشمار کرپشن کے مقدمات ہیں ۔اگر وہ صدر بن سکتے ہیں تو اُن کے اشارۂ ابرو پر راجہ صاحب وزیرِ اعظم کیوں نہیں ؟۔شکر کریں کہ زاداری صاحب نے راجہ صاحب پر ہاتھ رکھا ۔اگر وہ کسی دہشت گرد یا ٹارگٹ کلرپر ہاتھ رکھ دیتے تو ہم اُن کا کیا بگاڑ لیتے ؟۔ق لیگ ، ایم کیو ایم ،اے این پی اور فاٹا والوں نے تو پھر بھی اُنہی کا ساتھ دینا تھا ۔کیونکہ ہر کوئی اپنی اپنی ذات کے گُنبد میں بند ہے ۔ملک جائے بھاڑ میں ۔
پاکستانی سیاست کا کوئی ضمیر ہے نہ سیاست دانوں کا ۔قول و فعل میں اتنا تضاد کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔راجہ پرویز اشرف کو ’’راجہ رینٹل‘‘ کا خطاب دینے والے اور رینٹل پاور سکینڈل میں سپریم کورٹ تک پہنچنے والے مخدوم فیصل صالح حیات نے کل اُنہی کے حق میں ووٹ ڈالا لیکن اُنہیں قطعاََ ضمیر کی خلش محسوس نہیں ہوئی ۔کل کی قاتل لیگ ڈپٹی پرائم منسٹر بن گئی ۔چوہدریوں کو یہ خوف دامن گیر کہ کہیں اُن کا سیاسی وارث این آئی سی ایل سکینڈل میں دوبارہ گرفتار نہ ہو جائے ۔اے این پی کو سوائے پیپلز پارٹی کے کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی کہ بڑی مشکل سے ہاتھ آئی حکومت کو کون جانے دیتا ہے ۔یہ سب کچھ ایک طرف لیکن قصورکس کا ہے؟۔ کیا سیاست دانوں کا ہے؟۔جی نہیں ! بُت کا کبھی قصور نہیں ہوتا ۔لائقِ تعزیر تو ہمیشہ بُت تراش ہوتا ہے ۔یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے اپنی ضرورتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایسے بُت تراش رکھے ہیں ۔ جس سیاستدان میں ہمیں امانت،دیانت،صداقت ،شرافت یا غیرت و حمیت کا شائبہ تک نظر آ جائے اُس کے ہم قریب بھی نہیں پھٹکتے کیونکہ ہمارے نزدیک ہر وہ شخص نا اہل ہے جو ہمارے غیر قانونی کام کروانے کے اہل نہیں اس لئے راجہ پرویز اشرف جیسے لوگ ہی اِس قوم کے مزاج کے عین مطابق ہیں ۔۔۔۔ راجہ صاحب کو وزارتِ عظمیٰ مبارک ہو ۔

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:ایک ہی رات میں ڈکیتی کی چار وارداتیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker