پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

انتخابی سروے اور سیاسی خوش گُمانیاں

آجکل عوامی رجحانات پر مبنی جائزہ رپورٹس کا بہت چرچا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے تک اکابرینِ تحریکِ انصافIRI کے سروے کو بنیاد بنا کر آشاؤں کے دیپ جلا تے اور تمناؤں کے محل تعمیر کرتے نظر آتے تھے ۔اب نواز لیگ کو محترم اعجاز شفیع گیلانی کے گیلپ سروے میں اپنی تشنۂ تکمیل آرزوئیں حقیقت کا روپ دھارتی نظر آنے لگی ہیں۔دونوں جماعتیں ان سروے رپورٹس کو لے کر بغلیں بجا رہی ہیں لیکن ان سروے رپورٹس سے ہٹ کر کچھ زمینی حقائق بھی ہیں ۔اگر اِن حقائق کو تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی آج بھی ملک کی مضبوط ترین سیاسی جماعت ہے جس نے زیادہ تر ضمنی انتخابات میں شاندار کر کردگی دکھائی ۔یہ کہہ دینا محض حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے کہ ضمنی انتخابات میں عوامی رجحانات عام انتخابات سے مختلف ہوتے ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ ضمنی انتخابات آنے والے منظرنامے کی تھوڑی بہت جھلک ضرور دکھا جاتے ہیں ۔
ہمارے ’’سیاسی افلاطون‘‘ خوب جانتے ہیں کہ پختہ عوامی شعور اور خواندگی کی بُلند ترین سطح کی بنا پر یہ جائزے ترقی یافتہ ممالک میں تو بڑی حد تک درست ثابت ہو سکتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں ہر گز نہیں جہاں عوامی شعور مفقود اور خواندگی کی شرح پست ترین ہے۔ہمارے ہاں تو ’’طبقۂ اشرافیہ ‘‘ ہی نہیں، شہروں میں بسنے والے پڑھے لکھے عوام کی غالب اکثریت بھی ’’رائے دہی‘‘ کو محض کورِ بیکار سمجھتی ہے ۔دیہاتوں میں ﴿جہاں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے﴾ ووٹ ڈالنے والا غریب طبقہ جاگیر داروں ، وڈیروں ، نوابوں ، گدی نشینوں اور چوہدریوں کے زیرِ اثر محض احکامات کی بجا آوری کرتا ہے ۔جس ملک کے ساٹھ فیصد سے زائد عوام حقِ رائے دہی کے استعمال کے لئے گھروں سے باہر نکلنا بھی پسند نہ کریں ، وہاں ایسے سروے اور جائزے بعید از قیاس اور ’’دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھّا ہے‘‘ کے مصداق ہی قرار دیئے جا سکتے ہیں ۔
ایسے عوامی جائزوں کی افیون کھا کر بے سُدھ ہو جانے والوں کے ہاتھ الیکشن کے ہنگام سوائے ہزیمت کے کچھ نہیں آنے کا اور نہ ہی پیپلز پارٹی کی طاقت کا غلط تخمینہ لگانے والے گوہرِ مقصود پا سکیں گے ۔محترم عمران خاں کو کاسہ لیسوں نے یہ یقین دلا دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کا خاتمہ ہوچُکا، صرف نواز لیگ باقی ہے۔خاں صاحب کے قریبی صلاح کار سینئر لکھاری یہ کہتے رہتے ہیں کہ مقابلہ تحریکِ انصاف اور نواز لیگ کے درمیان ہے لیکن مجھے تو انتخابی اُفق پر اب بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ہی چھائی نظر آتی ہیں۔تسلیم کہ مینارِ پاکستان کے کامیاب جلسے کے بعد خاں صاحب سیاسی اکھاڑے کے تن و مند پہلوان بن کے اُبھرے لیکن اُنہوں نے بھی وہی غلطی کر ڈالی جو جینئس بھٹو نے کی تھی۔ 1970 ئ کے الیکشن میں بھٹو مرحوم نے بڑے بڑے سیاسی گھرانوں کو اپنے ساتھ ملانا چاہا لیکن سبھی نے حقارت سے ٹھکرا دیا ۔لیکن اُن کے انقلابی نعرے کو عوام نے اتنی پزیرائی بخشی کہ ’’عامیوں ‘‘ نے بڑے بڑے سیاسی بُرج اُلٹ دیئے ۔اِس ذلت آمیز ہزیمت کے بعد وڈیروں اور جاگیر داروں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اوروہ دھڑا دھڑ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے لگے ۔ دوسری طرف وڈیرے ذو الفقار علی بھٹو نے بھی ’’کند ہم جنس باہم جنس پرواز‘‘ کے مصداق اُنہیں خوش آمدید ہی نہیں کہا بلکہ عامیوں سے دامن بھی چھُڑاتے چلے گئے ۔77ئ کے انتخابات میں اُنہوں نے اشرافیہ کی غالب اکثریت کو پارٹی ٹکٹ سے نوازہ جس کا خمیازہ اُنہوں نے یوں بھگتا کہ ضیائ الحق کے حکومت پر قابض ہوتے ہی وڈیرے تتّر بتّر ہو گئے اور خود سوزیاں کرنے ، کوڑے کھانے اور جیلیں بھگتنے کے لئے جیالے باقی رہ گئے ۔عمران خاں صاحب کو سیاسی اُفق پر یوں اُبھرتا دیکھ کر سیاسی گھرانے 1970ئ کی غلطی نہیں دُہرانا چاہتے تھے اس لئے وہ دھڑا دھڑ تحریکِ انصاف میں شامل ہونے لگے اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ ’’اصلی تحریکیوں‘‘ کی جگہ ’’ سونامیوں ‘‘ نے لے لی ہے اور اب تو سونامی کو مہمیز دینے کے لئے ’’فرزندِ راولپنڈی‘‘ محترم شیخ رشید احمد بھی با دلِ نخواستہ تشریف لا چُکے ہیں ۔شنید ہے کہ وہ ’’ضدی ‘‘ میاں برادران کو بار باریہ پیغام بھیجتے رہے
مہرباں ہو کے بُلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
بڑے میاں صاحب تو شیخ صاحب کے شَر سے محفوظ ہونے کے لئے عمرے کے لئے سُدھارے اور چھوٹے میا ںصاحب نے پہلے کونسی کسی کی بات مانی ہے جو اب مانتے ۔باقی بچے نذیر ناجی کے ’’سونامی خاں‘‘ جنہوں نے اپنے دِل کے بہت قریب سینئر لکھاری کے چیخنے چلانے کے باوجود کمال مہربانی کا ثبوت دیتے ہوئے شیخ صاحب کے 13 اگست کو سجائے گئے ’’التحریر چوک‘‘ ﴿لیاقت باغ﴾ میں جانا قبول فرما لیا ۔شیخ صاحب کے دشمن اور حاسد کہتے ہیں کہ لیاقت باغ کے جلسے میں اُتنے ہی لوگ تھے جتنے عام دنوں میں سیر کے شوقین آتے ہیں ۔میں حاسدوں کی بات کا کبھی یقین نہ کرتی لیکن بُرا ہو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا جس نے حاسدوں کے کہے کی تصدیق کر دی ۔لگتا ہے کہ میڈیا بھی شیخ صاحب کی مقبولیت کو دیکھ کر جَل بھُن کے کباب ہو گیا ہے ۔
اب ایک ایک سیٹ پر کئی کئی سونامی باہم دست و گریباں ہیں اور وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جونہی ’’ٹکٹ ہولڈرز‘‘ کا اعلان ہوا ، تحریکِ انصاف کو واقعی ہجرت کرنے والوں کے ’’سونامی‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اگر خاں صاحب ان ’’فصلی بٹیروں‘‘ کو گلے نہ لگاتے تو وہ یقیناََ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہو تے لیکن خاں صاحب کو فکرِ فردا میں مگن کئی ایسی جونکیں چمٹ چکی ہیں جو اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتی ہیں۔اُن کے ارسطوانہ تجزیوں کے مطابق بد دل جیالے تحریکِ انصاف کوووٹ دیں گے لیکن تاریخ تو یہی بتلاتی ہے کہ ناراض جیالا گھر تو بیٹھ رہتا ہے لیکن کسی دوسری جماعت کو کبھی ووٹ نہیں دیتا۔میرے نزدیک ’’جیالوں کی حمایت ‘‘جیسے احمقانہ خیال اور ایک بال سے دو وکٹیں گرانے جیسے مجنونانہ منصوبوں کو ذہن سے کھُرچ دینے میں ہی عافیت ہے اور اگر پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنا ہے تو پچیس سے تیس فیصد تک ووٹ حاصل کرنے والی اس جماعت کا بہ اندازِ حکیمانہ مقابلہ کرنا ہو گا محض جذباتی نعروں یا سروے رپورٹوں کے بَل پر نہیں۔یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ بی بی شہید کے دونوں ادوار میں پیپلز پارٹی کی ’’کولیشن گورنمنٹ‘‘ کبھی بھی اتنی مضبوط نہیں رہی جتنی چو مُکھی لڑائی کے ماہر محترم آصف زرداری کی ہے ۔ق لیگ اور اے این پی اُس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں اور سندھ سے تعلق رکھنے والی ایم کیو ایم کو بھی سوائے پیپلز پارٹی کے کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی ۔اندریں حالات پیپلز پارٹی کو ’’مُردہ گھوڑا‘‘ سمجھ لینا احمقوں کی جنت میں بسنے کے مترادف ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  منی لانڈرنگ سکینڈل،زرداری اور فریال جے آئی ٹی میں پیش نہ ہوئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker