پروفیسر رفعت مظہرکالم

اتفاقات ، نا اہلی یا عذابِ الٰہی

                ہنستے ، مسکراتے ، اٹکھیلیاں کرتے 127 مسافر اپنی منزل کی طرف رواں تھے۔آنے والے کل کے منصوبے بناتے ان مسافروں کو کیا خبر تھی کہ وہ تو لوہے کے تابوت میں موت کے کندھوں پہ سوار ہو کر اپنی آخری منزل کی طرف رواں دواں ہیں ۔ ۔۔۔ اسلام آباد کے مضافات میں ایک چھوٹے سے گاؤں کے باسی آسمان پر چھائے ہوئے گہرے سیاہ بادلوںاور تیز ہوا کے جلومیں موسمِ بہار کی ٹھنڈی پھوار سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ لیکن یہ بھیگی شام شاید وہ اب کبھی بھُلا نہ پائیں گے ۔انہوں نے گہرے سیاہ بادلوں کو چیرتا ہوا ایک جہاز دیکھا ۔ چیختا چنگھاڑتا یہ دیو قامت تابوت چند لمحوں میں زمین سے ٹکرا کر اوپر اُچھلا اور پھر زور دار دھماکے سے پھٹ کر ایک کلو میٹر کے علاقے میں پھیل گیا اور ہنستے مسکراتے موت کے مسافروں کے ا عضائ بھی جہاز کے ٹکڑوں کے ساتھ بکھرتے چلے گئے ۔ پھر چند لمحوں کی خاموشی ، موت کی سی گہری گھمبیر خاموشی ۔اس لمحاتی خاموشی کے بعد جیسے لوگوں کو ہوش آ گیا ۔ سبھی دوڑ اُٹھے ۔ کوئی بیڈ شیٹ پکڑ لایا ، کسی کے ہاتھ میں چادر لیکن وہاں تھا کیا سوائے لوہے اور انسانی ٹکڑوں کے ۔ حیرت سے گُنگ لوگ سوچنے لگے کہ کس ٹکڑے کو کس کے ساتھ جوڑا جائے ۔ ایک چھوٹی سی بچی کا آدھا دھڑ سلامت اور کس کے بندھا ہوا ’’پیمپر‘‘ لیکن پیمپر باندھنے والے ہاتھ کہاں تھے ؟۔ بکھرے ہوئے برتن ، ایک ننھا سا کلر بکس ، ایک کلائی کی خون آلود گھڑی لیکن پتہ نہیں کون سی کلائی ہو گی ۔ بکھرے ہوئے پرس ، جلے ہوئے جوتے اور جا بجا ٹکڑوں میں بٹے انسانوں کے سوا اور وہاں تھا ہی کیا ۔ آفرین ہے اُن جی داروں پر جنہوں نے ان ٹکڑوں کو اکٹھا کرکے چادروں میں باندھا لیکن چادریں بھی کم پڑ گئیں ۔تھوڑی دیر بعد ایدھی کے ساٹھ کفن بھی آ گئے اور یوں دو سلامت لاشوں کو کفن میں لپیٹ کر باقی اعضائ کو گٹھڑیوں میں باندھنے کی تگ و دو شروع ہو ئی۔ پھر اندھیرے کی سیاہ ڈائن نے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ان جگمگ کرتے محلوں کے باسیوں کو اتنی توفیق بھی نہ ہوئی کہ روشنی کا بند و بست بھی کر سکیں۔ ایک سولہ سترہ سالہ نوجوان اپنے موبائل فون کی ٹمٹماتی روشنی میں کچھ تلاش کر رہا تھا ۔کسی نے پوچھا کہ کیا اس کا کوئی اپنا حادثے کا شکار ہو گیا ؟۔اس نے آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا اور ’’نہیں تو ‘‘ کہہ کر اپنے ننھے مُنّے موبائل کی لرزتی روشنی میں انسانی اعضائ کی تلاش میں جُت گیا ۔پتہ نہیں یہ معصوم فرشتہ کون تھا ؟۔
شنید ہے کہ اسلام آباد کے سینکڑوں باسی بڑی بڑی چمچماتی گاڑیوں میں جائے حادثہ پر پہنچے ۔ میک اپ زدہ چہروں کے ساتھ اشرافیہ کی خواتین کی ضد تھی کہ انہیں آگے جانے دیا جائے کیونکہ ان کے بچوں نے جہاز دیکھنا ہے ۔ان کے لئے تو شاید یہ صرف ایک تماشہ ہو گا یا تفریح کا ساماں لیکن وہ بھول گئے کہ کائینات کی ناپائیدار ترین شئے یہی زندگی ہی تو ہے ۔ اور یہ تماشہ تو اب یہاں شب و روز ہوتا ہے ۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ آج ہم نے تماشہ دیکھا کل ہمارا تماشہ دوسرے دیکھ رہے ہوں گے ۔
یہ حادثہ اتفاقی تھا یا اس میں کسی کی نا اہلی کا دخل تھا ، اس کا پتہ تو کم از کم موجودہ حکمرانوں کے عہد میں چلایا نہیں جا سکتا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو جس کی قبر کی طفیل ووٹ حاصل کرکے اونچے ایوانوں تک پہنچے ہیں ، اس کے قاتلوں کا سراغ تک نہیں لگا سکے ۔ کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ سُراغ لگانا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں ۔یہ موضوع پھر کبھی فی الحال تو میں جنابِ وزیرِ اعظم کے اس مزاحیہ حکم کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔انہوں نے فرمایا کہ ’’میں نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے ‘‘ ۔پہلی بات تو یہ کہ کیا پہلے کبھی کسی جوڈیشل انکوائری کا کسی کو پتہ چلا ہے جو اب چلے گا اور دوسری یہ کہ یہ کیسی جوڈیشل انکوائری ہے جس کے ممبران بھی حکومت نے خود ہی منتخب کئے ہیں ؟۔جہاں تک میں جانتی ہوں جوڈیشل انکوائری کے لئے چیف جسٹس کی ایمائ پرحاضر سروس جج کی سربراہی میں کمشن مقرر کیا جاتا ہے ۔ شاید حکمرانوں کا عدلیہ سے اعتماد ہی اٹھ گیا ہو گا یا پھربہت سے سر بستہ رازوں سے پردہ اُٹھنے کا خطرہ ہو گا کیونکہ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ سول ایوی ایشن میں اوپر سے نیچے تک سبھی سفارشی اور ڈیپوٹیشن پر لئے گئے نا اہل لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے ۔ لیکن میرا موضوع یہ بھی نہیں ۔
میں توصرف یہ سوچ رہی ہوں کہ کیاپے در پے ہونے والے حادثات محض اتفاقی ہیں یا پھر ہم واقعی عذابِ الٰہی کا شکار ہیں ؟۔علم و حکمت کی عظیم ترین کتاب میں درج ہے ’’کیا یہ نہیں دیکھتے کہ یہ ہر سال ایک دو بار مصیبت میں پھنسا دیئے جاتے ہیں۔ پھر بھی توبہ نہیں کرتے نہ نصیحت پکڑتے ہیں ‘‘ ﴿سورہ توبہ﴾۔میں دیکھ رہی ہوں کہ خود کُش حملوں ، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ سے پچاس ہزار سے زاید انسانی جانوں کے زیاں سے قطع نظر 2005 ئ کے زلزلوں سے لے کر آج تک ہم ہر سال کسی نہ کسی بڑی آسمانی آفت میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں ۔کبھی زلزلے قیامتِ صغریٰ بن کر سب کچھ ملیا میٹ کر دیتے ہیں تو کبھی سیلاب بصورتِ طوفانِ نوع بستیوں کی بستیاں اجاڑ کے رکھ دیتے ہیں ۔ کبھی ڈینگی کا عذاب مسلط ہو جاتا ہے تو کبھی فضاؤں کو چیرتے جہاز ٹکڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ہم تو جمعے کے مبارک دن میں گیاری کے جرّی جوانوں کی سلامتی کی دعائیں مانگ کے ابھی فارغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اجل نے تقریباََ اتنے ہی معصوموں کی موت کا پروانہ جاری کر دیا جتنے گیاری میں برف کے سفیدگھر میں سوئے پڑے ہیں ۔ ہمیں سوچنا ہو گا ، سیاست سے ہٹ کر سوچنا ہو گا کہ کہیں یہ ہمارے اپنے اعمال کی سزا تو نہیں ؟۔اور اگر خاکم بدہن ایسا ہی ہے تو پھر یاد رکھیے کہ یہ تو میرے اور آپ کے ربّ کی طرف سے صرف ایک ’’وارننگ‘‘ ہے اور سورہ الاعراف کے مطابق ’’ہر قوم کے لئے ایک مہلت مقرر ہے ۔ لیکن جب مہلت تمام ہو جاتی ہے تو پھر ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں ہوتی ‘‘۔ اور سورہ نوح میں یوں ارشاد ہوا ہے ’’اللہ کا کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا‘‘۔ مانا کہ اس دورِ جدید نے ہمیں اپنے اسلاف ، اجداد اور ایمان سے بہت دور کر دیا ہے لیکن پھر بھی اگر ہم پے در پے ہونے والے سانحات کا چودہ سو سال پہلے آقاö پہ نازل کی گئی حکمت کی عظیم الشان کتاب کو سامنے رکھ کر جائزہ لیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہمیں ان سانحات کی شکل میںبار بار تنبیہ کی جا رہی ہے جس کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر مہلت تمام ہو گئی تو پھر ؟۔ فرعون نے بھی نیل کی لہروں میں بہتے ہوئے یہ کہہ دیا تھا کہ ’’موسیٰ میں تیرے ربّ پر ایمان لے آیا ‘‘ ۔لیکن مہلت تمام ہو چکی تھی اور درِ توبہ بند۔

یہ بھی پڑھیں  بہادر سپہ سالار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker