شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / امتیاز علی شاکر / رشوت،کرپشن اورگداگری کی وزارت قائم کی جائے

رشوت،کرپشن اورگداگری کی وزارت قائم کی جائے

غربت،مہنگائی،لگاتار بے روزگاری،ناانصافی،بدامنی ،رشوت ستانی،اقرباپروری اور ان جیسی کئی اور فیکٹریاں بھیک منگے یعنی گداگر پیداکرتی رہتی ہیں۔وطن عزیزمیں توانائی کے شدید بحران کے باوجود یہ کارخانے بہترین کارگردگی دیکھاتے ہوئے اپنی پروڈیکشن بڑھا رہے ہیں۔اکثر بھیک منگے نشے کے عادی ہوتے ہیں یابھیک منگے بننے کے بعد نشے کے عادی ہوجاتے ہیں۔وزیر رشوت و کرپشن سازی کے ایک محتاط اندازے کے مطابق آج 70لاکھ افراد چرس، افیون اور ہیروئن جیسی جان لیوا منشیات کے عادی ہو چکے ہیں منشیات کے نتیجہ میں نشہ آور شربت، پاؤڈر، گولیاں، کیپسولز اور انجکشنز چلتے ہیں اور انسان سسک سسک کر، ایڑیاں رگڑ رگڑ کر، ذلت آمیز اور دردناک موت مرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔نشے کے عادی افراد سے کہیں زیادہ لوگ گداگری کی لعنت میں مبتلا نظر آتے ہیں جن پر نہ تو وزیررشوت و کرپشن سازی کی نظر پڑھتی ہے اور نہ ہی وزات اَن بڑھ کچھ توجہ دیتی ہے۔خیر یہ ہمارا کام نہیں۔جس کا کام اُسی کو ساجھے کہہ کر آگے بڑھتے ہیں۔اور پھرہم خود دنیا جہان کے نکمے ٹھہرے ہمیں کیا کوئی وزارت کام کرے نا کرے۔ہماراکام ہے لکھنا اور لکھتے جانا کوئی پڑھے نہ پڑھے۔سوچوں کی گھمن گھیری میں زندگی بسر کرتے کرتے اب تو لکھتے لکھتے کہیں کے کہیں پہنچ جانا بھی عادت ہوچکی ہے۔اللہ کے نام پہ دے،خیرہووے،اللہ بوتادیوے ،اللہ تجھے زیادہ دے یہ الفاظ ہمیں گھر،گلی محلے،بازار،گاڑی،سڑک،دفتر،دوکان ،تھانہ،کچہری سے لے کر مراکز صحت پر سننے کو ہر وقت ملتے ہیں۔ کل صبح ایک انوکھا واقع دیکھنے کوملا ،صبح سویرے ہی بچوں کے اصرار پر ناشتے کے لئے ڈبل روٹی اور انڈے خریدنے محلے کے جنرل سٹور پر پہنچاتو جنرل سٹور والا ابھی سٹور کے تالے کھول رہا تھا میں ایک طرف کھڑا ہو کر سٹور کھلنے کاا نتظار کررہا تھا کہ اتنے میں ایک گداگر تشریف لے آیا میں نے حسب توفیق اسے کچھ پیسے دے دیئے ،پیسے لے کر گداگردکان دار کی طرف متوجہ ہوکر بولااللہ خیر کرے ،اللہ تجھے زیادہ دے۔دکان دار بڑی خوش مزاجی سے بولا اللہ تعالیٰ کی بڑی خیر ہے اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اتنا دے رکھا ہے کہ اب زیادہ کی تمنا نہیں رہی تم جاؤ اور تمہیں اللہ تعالیٰ پر اتنا ہی اعتبار ہے کہ تیرے کہنے سے وہ دوسروں کو نوازتا ہے تو پھر اپنے لئے بھی اْسی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلاؤ ،کیونکہ جو مالک عطاکرتا ہے اور جس کے سوا کوئی اور عطاکرنے کی حیثیت نہیں رکھتا وہ اپنے بندوں کو کسی غیر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے سختی سے منع کرتا ہے۔تجھے اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے کا یقین ہے تو پھر اس کی بارگاہ سے مانگ۔جااللہ تیری بھی خیر کرے اور تجھے بھی زیادہ دے۔عام طور پر لوگ گداگروں پر غصہ ہوجاتے ہیں پر دکان دار نے سارا لیکچر بڑی ہی خوش مزاجی سے دیا اور گداگر بھی خاموشی سے سن کر آگے بڑھ گیا۔میں نے دکان دار سے کہابھائی کیوں ان مانگنے والوں سے الجھتے ہیں روپیہ دو روپے دے دیا کریں۔دوکان دار بولا بھائی اب اس کو کیا بتاؤں کے دن بھر جتنا کماتے ہیں اتنے میں تو گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے اور اس پر کل 21ہزار روپے بجلی کا بل آگیا ہے۔پریشان ہوں کہ یہ بل کہاں سے ادا کروں گا؟دکان میں اتنا سامان نہیں ہے کہ 21ہزار روپے نکا لنے پر بھی چلتی رہے اور کوئی آسرا بھی نظر نہیں آتا۔ان مانگنے والوں کوکیا پتا کہ سفید پوش کس طرح زندگی بسر کررہے ہیں۔آپ کے سامنے یہ گداگر سو ،پچاس کما چکا ہے جبکہ میں تو ابھی دکان کھول رہا ہوں ،ابھی ایک روپے کا بھی کام نہیں کیااس کو کہاں سے پانچ دس دے دوں ؟رنجیدہ لہجے میں بولا بھائی میں تو سوچ رہا ہوں کہ میں بھی گداگر بن جاؤں کم از کم دکان کا کرایہ،بجلی و گیس کے بل ادا کرنے سے تو جان چھوٹ جائے گی۔ان گداگروں کا کوئی خرچہ نہیں ہوتا امتیاز بھائی بس کمائی ہی کمائی ہوتی ہے۔آپ یقین کریں ہمارے ملک میں اس وقت گداگری بہت بڑا کاروبار ہے۔دوکان دار نے چونکادینے والا انکشاف کیا کہنے لگا میرے ایک جاننے والے نے ایک سال پہلے اپنا گھر بیچ کر ایک لاکھ روپے کے 2چوہے(چھوٹے سر اور منہ والے دبلے پتلے انسان) خریدے اور باپ بیٹا ان کو لئے مانگنے نکل پڑے آج تین ،تین کنال کے دو گھر گاڑی ،بینک بیلنس اورضروریات زندگی کی ہر چیز خرید کر اپنے محلے کی امیر ترین شخصیت بن چکا ہے۔اس کے علاوہ اپنے کاروبارکو وسعت دینے کے لئے مزید چار چوہے خرید کر ان کے ساتھ مانگنے کے لئے ملازم بھی رکھ لئے ہیں۔جبکہ میں اپنی بیوی کے زیور بھی بیچ کر دوکان میں سامان ڈال چکا ہوں پھر بھی کاروبار کا کوئی حال نہیں ہے۔ میں انڈے اور ڈبل روٹی تھامے چپکے سے گھر کی طرف چل دیا ،میرا ذہن وہیں اٹکا رہا ابھی تک میرے کانوں میں گداگر اور دکان دار کے فقرے گونج رہے ہیں۔ہمارے ہاں گداگری اتنی عام ہوچکی ہے کہ ہر قدم پر ایک دو گداگر مرد،عورتیں،بچے اورخواجہ سرا پائے جاتے ہیں۔ سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ پریشان ہے۔تھوڑے پیسوں سے شروع ہونے والے تمام کاروبار تباہی کا شکار ہیں اور زیادہ پیسے سفید وں کے پاس ہیں نہیں۔بھیک بھی نہیں مانگ سکتے اور مزدوری سے آنے والی آمدنی سے کاروبار زندگی نہیں چلتا۔انہیں سوچوں میں گم تھا کہ میرے اْستاد محترم مشتاق احمد سلطانی صاحب کا فون آگیا ،وہ ہمیشہ کی طرح ہشاش بشاش لہجے میں بات کررہے تھے۔سلام دعا کے بعد انہوں نے میرا حال پوچھا تو میں نے دکان دار اور گداگر کے درمیاں ہونے والی گفتگوکا سارا واقع بیان کردیا۔استاد محترم بولے تو تم کیوں پریشان ہورہے ہو؟میں نے کہا سر جی میں بھی تو اسی ملک کا شہری ہوں آج دکان دارحالات کی خرابی کی وجہ سے پریشان ہے تو کل مجھے بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔مشتاق صاحب کہنے لگے ارے بھائی یہ صرف ہمارے ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کائنات میں جہاں جہاں انسان بستے ہیں وہاں وہاں پریشانی کاعالم ہے۔سچ تو یہ ہے کہ انسان نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنا اوراس کا شکر ادا کرنا چھوڑ دیا ہے۔امتیاز اس دنیا میں وہی انسان خوش ہے جو اپنے مالک کا شکرادا کررہا ہے باقی سب کے سب پریشان ہیں چاہے کسی غریب کو دیکھ لو چاہے دنیا کے سب سے امیر کو دیکھ لو۔شاعر نے ساری حقیت بیان کرتے ہوئے کیا خوب بات کہی ہے کہ ’’
کوئی تو تمنائے ز ر،و ،مال میں خوش ہے
اور کوئی تماشائے خدوخال میں خوش ہے
پرہم سے پوچھوتو نہیں کوئی بھی خوش حال
خوش حال وہی ہے جو ہر حال میں خوش ہے
حکومت پاکستان سے درمندانہ اپیل ہے کہ منشیات کی عادت انسان کی جان لے لیتی ہے اس لئے منشیات فرشوں کیخلاف سخت کارروائی کرکے ان کاخاتمہ کیاجائے جبکہ رشوت اورگداگری انتہائی منافع بخش ہے اس لئے ایک وزارت گداگری،رشوت وکرپشن ستانی قائم کردی جائے،ممکن ہے باقی اداروں کی تباہی کی طرح رشوت،کرپشن ستانی اورگداگری بھی باقائدہ محکمہ بننے کے بات تباہ وبرباد ہوجائیں

یہ بھی پڑھیں  ’’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘‘