پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

رویتِ ہلا ل، عدلیہ اور راجہ جی

اللہ بھلا کرے خیبر پختون خواہ والوں کا جن کی بدولت ہمیں اکٹھی تین تین عیدیں منانے کا موقع ملااور ہم پورا ہفتہ فکرِ فردا اور غمِ دوش سے بے نیاز ۔ راوی عیش ہی عیش لکھتا رہا اور پوری قوم بھی ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کی زندہ تصویر بنی رہی ۔عید کی خوشیاں تو ایک طرف لیکن مجھے یہ ’’ٹرو اور مرو‘‘ کی آج تک سمجھ نہیں آئی ۔میں نے لغت میں تلاش کرنے کی سعی کی لیکن معنی ندارد۔ گزرے وقتوں کی عیدوں کو کھنگالا لیکن بے سود ۔ایک ’’لال بھجکڑ‘‘ سے ٹرو ، مرو کی وجہ تسمیہ جاننے کے لئے موبائل فون سنبھالا تو رحمٰن ملک صاحب کی ’’موبائلی دہشت گردی‘‘ آڑے آئی ۔تھک ہار کر اپنے افلاطونی دماغ کا سہارا لینا پڑا حالانکہ ہم اسے کم کم ہی تکلیف دیتے ہیں کیونکہ ہم بھی عوام میں سے ہیں اور ہمیں محترم عطاء الحق قاسمی کی طرح خود پر زیادہ بھروسہ کرنے کی عادت نہیں ۔ہمارے دماغ کی ایک پھڑکتی رگ نے انکشاف کیا کہ یہ ٹرو اور مرو دراصل عید الفطر کی ’’پاکستانی اولاد‘‘ ہیں جن کی وج�ۂ پیدائش یہ ہے کہ ہم مساوات کے قائل ہیں اور چونکہ عید الاضحیٰ تین دنوں پر محیط ہوتی ہے اس لئے زیادتی ہوتی اگر ہم پورا ماہ بھوکے رہ کر بھی عید الفطر صرف ایک دن ہی مناتے ۔
سُنا ہے کہ شر پسند یورپی اقوام نے سائنسی بنیادوں پر اگلے 200 سال کا قمری کیلنڈر بنا رکھا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے محترم مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور مفتی منیب الرّحمٰن کے خلاف گھناؤنی سازش ہے اور یہ دُشمنانِ دیں ہمیں گُمراہ کرکے دین سے دُور کرنا چاہتے ہیں۔ہم تو ایسے کینڈروں شلنڈروں پر ہر گز اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔لیکن مفتی منیب الرّحمٰن صاحب سے گزارش ہے کہ وہ بھی مفتی پوپلزئی کی طرح ماہرینِ فلکیات پر صاد کرنے کی بجائے کھُلی آنکھوں سے ’’ہلالِ عید‘‘ دیکھنے کی کوشش کیا کریں خواہ اِس میں ہفتہ دس دن کی دیر سویر ہی کیوں نہ ہو جائے کیونکہ اگرعوام نے ماہرینِ فلکیات کی رویت کو ہی حتمی سمجھنا شروع کر دیا تو پھر ’’رویت ہلال کمیٹی کا وجود بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ کچھ شر پسند (جن سے ہم ہر گز متفق نہیں) یہ بھی کہتے ہیں کہ ماہرینِ فلکیات کی رویت کا عُلماء اور عوام ، دونوں کو ہی فائدہ یوں ہے کہ اگر رویت ہلال کمیٹی نہ ہو تو اُس کے اتنے ڈھیر سارے ممبران(عُلماء) کو بھی اعتکاف میں بیٹھنے کا موقع مل سکتا ہے جو اُن کا دینی حق ہے ۔بھلے قوم کو اُن کے فتووں سے محروم ہی کیوں نہ ہونا پڑے لیکن اُنہیں تو قربِ الٰہی نصیب ہو جائے گا۔عوامی فائدہ یوں کہ دو مفتیوں کے درمیان ’’سینڈ وچ‘‘ بنی قوم بھی سُکھ کا سانس لے گی۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی مفتی صاحب کے فتوے کو رد کرنے کی ہمت نہیں رکھتے کیونکہ اِس میں ہم پر کُفر کا فتویٰ لگنے کے روشن امکانات ہیں۔ شہاب الدین پوپلزئی اور منیب الرّحمٰن دونوں پختون ہیں ، دونوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے اور دونوں ہی مفتی ہیں اس لئے ’’کیدی منیئے تے کیدی نہ منیئے؟‘‘ (ویسے کچھ لوگوں نے احتیاطاََ دونوں کی مان کر دو ، دو عیدوں کا مزہ بھی لوٹا ہے ۔ وہ تو وزیرستان میں جا کر تیسری عید بھی منانے کے چکر میں تھے لیکن پے در پے ہونے والے ڈرون حملوں نے ڈرا دیا)۔اگر کسی ایک مفتی کا تعلق پنجاب وغیرہ سے ہوتا تو ہم ٹھک سے کہہ دیتے کہ ’’پنجابی مفتی‘‘ سرحدی مفتی کا استحصال کر رہا ہے اور یہ سب کچھ میاں شہباز شریف کی شہ پر ہو رہاہے جو مِل بانٹ کر کھانا پسند نہیں کرتے لیکن سیّد خورشید شاہ نے رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین کا خیبر پختونخواہ سے انتخاب کرکے ہماری ساری اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ۔اب یہ جنگ دو سرحدی مفتیوں کے ما بین ہے اور مفتی چونکہ جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ سارا قصور چاند کا ہے جو سال کے دس ماہ تو متفقہ رویت کے مطابق نظر آتا رہتا ہے لیکن رمضان اور شوال میں کسی حسینۂ دلربا کی طرح کہیں چلمن کی اوٹ میں چلا جاتا ہے اور کہیں بام پہ آ کر دیدار کروا دیتا ہے ۔شاید یہ ’’وارداتیاچاند‘‘بھی ہمیں شک کی اندھی وادیوں میں دھکیل کر اپنے مفتیان سے دور کرنا چاہتا ہے ۔اس لئے ہمارے نزدیک اِس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم بھی اپنی عیدیں سعودی عرب کے ساتھ منانا شروع کر دیں۔
اُدھرمفتی شہاب الدین پوپلزئی اور مفتی منیب الرّحمٰن کامقابلہ جاری ہے تو اِدھر عدلیہ اور انتظامیہ کے پہلوان ’’کسرت‘‘میں مصروف ہیں اور قوم ’’نہ پائے رفتن ، نہ جائے ماندن ‘‘ کے مصداق اِدھر اُدھر لڑھکنیاں کھا رہی ہے ۔وہ مذہبی معاملہ ہے تو یہ مُلکی سلامتی کا لیکن بہتری کی کوئی صورت کہیں بھی نظر نہیں آتی۔آج (27 اگست )جنابِ راجہ پرویز اشرف سپریم کورٹ میں پانچ رُکنی بنچ کے سامنے پیش ہوئے اور فرمایا کہ گیلانی صاحب تو چار سال سے زائد وزیرِ اعظم رہے لیکن اُنہیں وزارتِ عظمیٰ سنبھالے ہوئے صرف ساٹھ روز ہوئے ہیں اِس لئے مذید چار چھ ہفتے کی مہلت دے دی جائے۔ اُنہوں نے یہ بھی فرمایاکہ وہ عدلیہ کے دروازے پر مہلت مانگنے آئے ہیں کیونکہ وہ چین کے دورے پر جا رہے ہیں ۔ایسے میں دُنیا کیا کہے گی کہ ایک ’’نوٹس زدہ‘‘ وزیرِ اعظم دورے پر آیاہے۔ جوں جوں الیکٹرانک میڈیا پر خبر آ رہی تھی ، میری ساری ہمدردیاں راجہ جی کے ساتھ ہوتی چلی گئیں اورایک جذبہء ترحم اُبھرتا چلا گیا ۔اگر میں بنچ کی سر براہ ہوتی تو یقیناََ کہتی ’’تو ں لنگ جا ، ساڈی خیر اے‘‘ لیکن بنچ کے سر براہ محترم آصف سعید کھوسہ نے بھی کوئی کَم شفقت کا مظاہرہ نہیں کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ راجہ جی خط لکھنے کی تسلّی کروا دیں اور عیش کریں۔لیکن راجہ جی بھلا ایسی تسلّی کہاں سے کرواتے ؟۔لیکن یہاں اُن کی پُرانی ’’پراپرٹی ڈیلری‘‘ کے گُر کام آئے اور وہ بغیر کوئی تسلّی کروائے بائیس دن کی مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔محترم اعتزاز احسن نے بہت غصّے اور دُکھ سے کہا کہ انجام تو راجہ جی کا بھی گیلانی صاحب جیسا ہی ہونا ہے لیکن اُنہیں بار بار مہلت مِل رہی ہے جب کہ ہمیں ایسی کوئی مُہلت نہیں دی گئی۔اعتزاز صاحب کا غُصّہ بالکل بجا ہے کیونکہ چیف جسٹس صاحب کے سابقہ ’’ڈرائیور‘‘ کا بہرحال اتنا حق تو بنتا تھا ۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ خط کا نہ لکھا جانا پتھر پہ لکیر ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ راجہ جی سپریم کورٹ سے مذید مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔لیکن رقیبانِ ’’ راجہ رینٹل ‘‘کے خوش ہونے کی پھر بھی کوئی جا نہیں کہ ’’There is many a slip between the cup and the lip‘‘۔ابھی تو راجہ صاحب کو ’’ملزم ‘‘ بھی نہیں ٹھہرایا گیا ۔پہلے وہ مُلزم ٹھہرائے جائیں گے ، پھر چارج شیٹ تیار ہو گی ۔بعد ازاں وکلاء کے دلائل اور پھر کہیں جا کر فیصلہ۔اگر انتخابات 2014ء میں ہونے ہیں تو پھر تو راجہ جی کی گوجر خاں واپسی کا سوچا جا سکتا ہے لیکن اگر واقعی مارچ 2013ء تک انتخابات کاہونا ٹھہر گیا تو پھر راجہ جی کے بعد نگران وزیرِ اعظم ہی آئے گااور سپریم کورٹ کی طرف سے مہلت نہ سہی لیکن تاریخ پہ تاریخ تو ملتی چلی جائے گی کیونکہ ہمارے وکلاء اِس فَن میں بہت طاق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  کارٹون

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker