تازہ ترینکالممیرافسر امان

روشن خیال معاشرہ اور پاکستان میں مشرف کی بے سود کوشش

پاکستان میں پرویز مشرف کی روشن خیالی کے نفاذ کی بے سود کوشش اور پاکستان کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے سے پہلے کچھ بات روشن خیالی پر کر لیتے ہیں ۔کیمونزم نظام کے آقاو،ں نے جب اس کی بنیاد رکھی تھی تو اس کی سب سے نمایاں بات مساوات کے علاوہ روشن خیالی تھی۔ویسے تو ہر مادر پدر آزاد معاشرہ روشن خیال ہے چاہے ، کیمونزم ہو،سرمایا دارانہ یا کو ئی دوسرا نظام ہو۔مذہب بیزاری کیمونزم کی بنیاد تو تھی ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ مروجہ انسانی اخلاقی روایات کو بھی اس نے ختم کر دیا تھا اور انسان کو ایک معاشی حیوان بنا دیا تھا۔
کیمونزم کی مشہور کہاوت تھی﴿ نعوذ باللہ﴾ خدا کا خیا ل فرسودہ ہے مذہب ایک افیون ہے اس کا خیال کودل سے نکال دو ۔ دوسرے لفظوں میں معاشی جانور بن جاو،۔ کارل مارکس کمیونسٹ لیڈر خدا کے وجود یا ذات کا انکاری تھا۔لیکن مرتے وقت اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے ’’اے خدا اگر کوئی خدا ہے تو میری مدد کر اگر تو کر سکتا ہے‘‘آخر مرتے وقت اُسی خدا کو پکارنے لگا تھاجس کا انکاری تھا۔ روس کی طرف سے جب پہلااسپٹنک راکٹ فضاو،ں میں بھیجا گیا اور جب وہ واپس زمین پر اُترا تو اس کے بعد کیمونزم کے ترجمان پر ا ودا اخبار نے اپنی اشاعت میں اعلان کیا تھاکہ ہمیں فضائوں میں فرشتے اُترتے چڑتے ہوئے نہیں ملے ۔نہ ہی جنت دوزخ کا نام و نشان ملا یہ خدا بیزاری کا ایک نمونہ ہے۔ کیمونزم جب شباب پر تھاتو اس زمانے میں کیمونزم پر گرفت کرتے ہوئے مرحوم مولانا مو دودی (رح) نے یہ با ت کہی تھی’’ حتیٰ کہ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میںاپنے بچاو، کے لیے پریشان ہو گا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہو گی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن او ر پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہو گا۔نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمہنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پا سکے گی‘‘ ﴿ماخوز تقریر 30 دسمبر 1946کتابچہ شہادتِ حق﴾مولانا مودودی (رح)نے فرعون اور خروشیف روسی وزیر اعظم کے کردار کے متعلق سورت القصص آیت 38 حاشیہ 53 تفسیر تفہیم القرآن جلد 3 صفحہ 638 میں بیان کیا ہے جو درج کر رہا ہوں، فرعونی ذہنیت کی تشرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’یہ اس قسم کی ذہنیت تھی جیسی موجودہ زمانے کے روسی کمیونسٹ ظاہر کر رہے ہیں ۔ یہ اسپٹنک اور لُونک نامی راکٹ چھوڑ کر دنیا کو خبر دیتے ہیں کہ ہماری اِن گیندوں کو’’ اوپر کہیں خدا نہیں ملا‘‘۔ یہ باتیں روس کے ایک سابق وزیر اعظم خروشیف کی باتوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں جو کبھی ’’خدا کا انکار کرتا ‘‘اور کبھی بار بار خدا کا نام لیتا ہے۔کیمونسٹوں نے تقریباّ 70 سال تک دنیا کے کافی حصے پر اپنے روشن خیال نظام کو زبردستی قائم رکھا۔ مگر اپنی بنیادی کمزوری کی وجہ سے ،یعنی اس دنیا جہاں کے مالک سے بغاوت کی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچا۔دنیا میں کبھی بھی ،کوئی بھی معاشرہ اللہ تعالیٰ کے نام نا واقف نہیں رہا۔ کسی نہ کسی نام سے لوگوں کے دِلوں میں اللہ کا نام رہا۔ قدیم زمانے میں لوگ جو شرک کرتے تھے وہ اس کی یہ توجیہی بیان کرتے تھے کہ مانتے تو ہم اسی ربّ کو ہیں جس نے یہ زمین آسمان بناے ہیں ، یہ بت ہمارے ربّ کے سامنے ہمارے سفارشی ہیں،اِن کے بغیر ربّ تک ہماری آواز نہیں پہنچ نہیں سکتی۔اس طرح زمانہ قریب میں عربوں نے جوتین سو ساٹھ بت خانہ کعبہ میںرکھے ہوے، تھے اُن کا عقیدہ بھی اپنے ربّ کے لیے یہی تھا کہ ہم مانتے تو ربّ ہی کو ہیں جس نے یہ سارا جہاں بنایا یہ بت تو اللہ کے سامنے ہمارے سفارشی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے متعلق مشرکانہ خیال سب شیطانی تہذیبوں میں مشترک رہا ہے ۔اب بھی ہندوستان میں لوگوں کا یہی عقیدہ ہے کہ بت ہمارے سفارشی ہیں۔مگر افسوس ہوتا ہے کیمونزم کے ایجاد کرنے والے یہودی ذہن پر کہ اس نے خدا کے وجود کا سرے سے انکار کیا اور شیطانی نظام کی بنیا درکھی جو صرف 70 سال میں ہی زمین بوس ہو گیا۔جو بھی عقیدہ حقیقت سے ہٹ کر پیش کیا جاے، گا اس کو فنا ہی ہوناہے۔ یہی تعلیم ہمیں قرآن شریف سے ملتی ہے یہی ابدی حقیقت ہے اوراسی کو قائم ودائم رہنا ہے اسی لیے کیمونسٹ روشن خیال معاشرے کو اپنے دامن میں پناہ نہیں ملی ۔
قار ئین کیونزم روشن خیال تہذیب کا بیڑا ا فغان مجاہدین کے ذریعے ختم ہوا اور کیمونزم ماسکو تک سُکڑ گیا۔اور اس کی تباہی کے نتیجے میںکئی ریاستیں وجود میں آئیں مشرقی یورپ کے علاوہ چھ اسلامی ریاستیں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئیں جس میںقازقستان،کرغیزستان،اُزبکستان،ترکمانستان، آزربائیجان ، اور تاجکستان شامل ہیں ۔اس کے بعد گوربچوف نے اصلاحات کر کے کیمونزم کابیڑا غرق کر دیا اور ایک کیمونز م روشن خیال نظام سے دوسرے سرمایادارانہ روشن خیال نظام کی طرف سفر شروع کیا۔
دوسر ا روشن خیال معاشرہ امریکی اور مغربی معاشرہ ہے۔ عرف عام میں سرمایادارنہ معاشر ہ ہے اس کے سرخیل امریکہ بہادر نے نیو ورلڈ آڈر دنیا پر مسلط کر دیا گیا ایک عرصہ سے یہ نظام دنیا میں چل رہا ہے اور کیمونسٹ دنیا نے بھی اپنی ہار کے بعد اس کو اپنایا ہوا ہے اب دوسری انتہا بھی اپنی منطقی منزل تک پہنچ رہی ہے لوگ اس نظام سے تنگ ہیں یورپ اور امریکہ کے تمام شہروں میں اس کے خلاف عوام مظاہرے کر رہے ہیں اور ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ دنیا کی دولت اس نظام کے تحت چند ہاتھوں میں جمع ہو گئی ہے اس نظام میں چند لوگ عوام کی اکژیت کا استحصال کر رہے ہیں عوام کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے اور دولت جو چند لوگوں کے ہاتھ میں جمع ہو گئی ہے اس کی تقسیم کا منصفانہ انتظام ہو نا چاہیے۔ اس معاشرے میں بھی کیمونسٹ معاشرے کی طرح انسان معاشی مشین کی طرح کام کرتا ہے اور تمام اخلاقی روحانی انسانی قدریں ختم ہو چکی ہیں اس میں اِن کے اپنے سروے کے مطا بق 40 فی صد بچے ناجا ئز ہیں ان کو اپنے باپ کا پتہ ہی نہیں۔یہ عورت اور مرد کے آزاد ملاپ سے پیدا ہوے، ہیں۔ان کا خاندانی نظام بکھرا ہوا ہے۔انسانی اخلاقی قدریںختم ہوچکی ہیں۔ایک ہی پانی کے تا لاب میں ماں باپ نوجوان بیٹی ،نوجوان بھائی، نوجوان بہن اور دوسرے افراد اکھٹے نہاتے ہیں جس سے خرابیاں پیدا ہوتیں ہیں۔ایک ہی ہوٹل میں باپ بیٹا کھانا کھاتے ہیں اور ادائیگی علیحدہ علیحدہ کرتے ہیں، 18 سال کی بچیوں کو معاشرے میں آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جاو، اور اپنی معاش تلاش کرو۔بواے، فرینڈ کا رواج عام ہے ۔ اس سے سیکس سوسائٹی وجود میں آئی جو خرابی کی جڑ ہے، مردشام میں مزدوری کرکے گھر آتا ہے تو بیوی موجود نہیں ہوتی ایک کاغذ پر خط لکھا ہوا ملتا ہے میں دوسرے شوہر کے ساتھ جا رہی ہوں کل صبح کور ٹ میں آ جانا میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی میںنکاح منسوخ کرتی ہوں۔بوڑھے ماںباپ کو ہوسٹلز میں رکھا جاتا ہے سال تک ماں باپ اپنے بیٹوں ،بیٹیوں،نواسے، نواسیوں کو دیکھنے کے لیے ترستے رہتے ہیں سال بعد کرسمس کے موقعہ پر کچھ لوگ پھولوںکے گل دستے کے ساتھ ان کے پاس ہوسٹلز میں آتے ہیں مم ڈیڈ کہتے ہیںاورپھر سال بھر کے لیے فوراّ چلے جاتے ہیں اور دنیاداری کے سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں مم ڈیڈ کے آنسوں روتے روتے پھر خشک ہو جاتے ہیں یہ ہے ان کا اپنے ماں باپ کے ساتھ سلوک جبکہ قرآن کہتا ہے اگر تم اپنے بوڑھے ماں باپ کو پائو تو ان کے سامنے اُف تک نہ کہو والدین اگر کافر بھی ہوں تو ان کی خدمت کرو ۔آرام و آسائش ودنیاداری نے مغربی معاشرے کو اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ اسے عام انسانی اخلاقی روحانی قدروں کا پتہ ہی نہیں۔
غالب تہذیب کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ دنیا میں اسی کا بول بالا ہو۔ امریکہ اپنی اس مشترکہ یعنی کیمونسٹ اور سرمایہ دارانہ روشن خیال تہذیب کو دنیا میں رائج کرنے کی کوشش کرتارہتا ہے۔اس میں غریب ممالک کے آدھے تیتر آدھے بٹیراور ان کے مشنری اسکولوں سے فارخ التحصیل پرویز مشرف صاحب جیسے لوگ کام آتے ہیں یعنی جو آدھے اپنی مسلم تہذیب اور آدھے مغربی تہذیب سے متاثر ہوتے ہیں غالب تہذیب کے کام آتے ہیں۔قرآن شریف میں ہے کہ ’’ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے‘‘رسول (ص) نے فرمایا اے خانہ کعبہ تیری بڑی عظمت و احترام ہے مگر اس سے بڑھ کر مسلمان کی عزت واحترام ہے نبی (ص) مہربان نے فرمایا’’ میں مکارم ِاخلاق کے لیے اٹھایا گیا ہوں تاکہ اخلاق کی تکمیل ہو‘‘ اسلام سے پہلے انسانی قدریں ختم ہو گئی تھیں اسلام کے آنے سے ظلم و زیادتی کا نظام ختم ہوا ۔پڑوسی کے حقوق متعین ہوے،، حقوق میں سب برابر ہیں۔آج جو بھی اچھائی دنیا میں ہے وہ اسلام کی وجہ سے ہے۔بادشاہ فقیر سب برابر بقول شاعر ’’تیری دربار میں پہنچے توسبھی ایک ہوے،‘‘ عدل کا نظام قائم کیا، انصاف سب کے لیے برابر، لڑائی ہو گی تو فی سبیل اللہ،عورتوں کے حقوق،بادشاہت کا خاتمہ اور خلافت کا قیام ،فحاشی پھیلانے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ،سود کے نظام کو اللہ اور اس کے رسول (ص) سے جنگ کہا،شخصی آزادی کا اتنا رواج کہ ایک عام مسلمان کا اپنے خلیفہ سے کہنا کے اگر تم اللہ اور رسول (ص) کے راستے سے ہٹو گے تو ہم تمیں سیدھا کر دیں گے۔نکاح کا عام اور سادا نظام، کسی کی تجسس کرنے سے ممانعت ،ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائی کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر، برائی سے ایک دوسرے کو روکنا اور نیکیوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا،رزق حلال عام ہونا،بغیر ثبوت کے کسی کو پابند سلاسل نہ کرنا،قانون کی حکمرانی، مشاورت کے نظام کا رواج، عورتوں کے حقوق ان کو والدین اور شوہر کے ترکے سے دوگناحصہ،ماں کے پاو،ں میں جنتّ،باپ کی دعا میں اللہ کی رضا کی مرضی وغیرہ یہ تھی اسلامی تہذیب کی ایک جھلک جو رسول (ص) نے مدینے کے اندر قائم کی اور خلفاے، راشدین نے اپنے دور میں اس پر عمل کیا۔
پرویز مشرف جب امریکہ میں صدر بش سے کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات کر کے واپس پاکستان آے، تو سب سے پہلے ترکی اور تیونس کا بیرونی دورہ کرنے گے، تھے ۔ ان دونوں ملکوں میں اسلامی تہذیب کا بیڑ ا غرق کیا گیا تھا اب ترکی میں اربکان صاحب ﴿مرحوم ﴾نے اسلام کے لیے کام کیااور ان کے ساتھی مذید کام کر رہے ہیں۔تیونس میں علی بن زین العابدین اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے اور وہا ں بھی اسلام پسند اقتدار میں آچکے ہیں اور اسلام کے لیے کام کر رہے ہیں یہ دورہ اس نے امریکی صدر بش کے کہنے پر کیا تھا تاکہ وہاں اسلامی روشن خیالی کا مشاہدہ کر کے آئیں اور اس کو پاکستان میں رائج کریں۔
قارئین ہم سب کو پتہ ہے کسطرح ان دونوں اسلامی ملکوں نے اسلام اور اسلامی قدروں کو تباہ کیا ہوا تھا۔ پرویز مشرف نے روشن خیال پاکستان کے امریکی ایجنڈے پر کام کرتے ہوے ایک فون کال پر پاکستان کو امریکہ کی گود میں ڈال دیا ، ہمارے مسلمان پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف امریکہ کو لاجسٹک سہولیات دے کر اُس کو اپنا مخالف بنا لیا،اب ہماری مشرقی سرحد غیر محفوظ ہو گئی جس کا نقصان اب تک پاکستان اُٹھا رہا ہے۔ تعلیمی نصاب میں سے اسلامی شخصیات کے نام نکال کر این جی اوئز کے نام ڈال دیے،،جہاد کے مضامین،قرآنی آیات اور اسلامی تہذیب کے نام و نشان مٹا د ینے کی کوشش کی ۔ اسمبلی سے بدنامِ زمانہ حدودآرڈیننس پاس کروایا اور کہا’’ نسواں بل کے مخالف جھوٹے اور منافق ہیں خواتین اعتدال پسندوں کو ووٹ دیں ، نسواں بل تبدیل نہیں ہوگا‘‘، جامعہ لال مسجد اور مدرسہ حفصہ پر فاسفورس کے بم ما رکر اس میں قوم کی بیٹیوں کو ناحق شہید کیا، اسلام آبادکی مساجد کو شہید کیا، اسلامی مدارس پر طرح طرح کے الزامات لگاے، اور انہیں تباہ کرنے کی پوری پوری کوشش کی ،میراتھن ریس قوم کی خواتین سے کروائی، ملک میں فحاشی کا طوفان
بدتمیزی برپا کیا۔ صدر مملکت ہوتے ہوئے اپنے ایک شہری اکبر بگٹی کو اعلانیہ قتل کروایا۔600 مسلمانوں کو امریکہ کے حوالے کیا اس کے عوض امریکہ سے ڈالر حاصل کیے۔ان میں اب بھی بہت سے گوانتا موبے کی جیل میں امریکی اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا جرم امریکی اور دوسری مغربی خفیہ ایجنسیوں کو پاکستان میں کھلے عام اپنی کاروائیاں کرنے کی اجازت دی ابھی چند دن پہلے آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی اور سابق چیف آف جنرل آسٹاف ﴿ر﴾ جنرل شاہد عزیز صاحب کا انٹرویو ایک مقامی اخبار میں شائع ہوا اس میں انہوں نے فرمایا کہ پرویز مشرف کو اعلیٰ فوجی قیادت ہر آن امریکی خفیہ ایجنسیوں کی کاروائیوں سے مطلع کرتی رہتی تھیں مگر پرویز مشرف نے اس پر کچھ کاروائی نہیں کی جس کی آج تک سمجھ نہیں آرہی اسی طرح انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امریکیوں کے فنڈ سے قائم کیمپوں کے متعلق اور افغانستان سے اسلحے سے بھرے ٹرک بلوچستان میں داخل ہونے کی بھی اعلیٰ فوجی قیادت کی تشویش کی کوئی پرواہ نہیں کی بلکہ مشرف کو اطلاع دی مگرانہوں نے کچھ کاروائی نہیں کی ۲۰۰۲سے ۳۰۰۲ کے دوران فاٹا میں بھارتی کھلے عام پھرتے رہتے تھے اورلوگوں کو دہشت گردی کی تربیت دیاکرتے تھے باوجود اطلاع کے کاروائی نہیں کی گئی اس کی تصدیق دو دن پہلے بھارتی حکومت کی طرف سے بیان کہ بھارت امریکہ اور دوسروں کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کام کر رہا ہے۔پاکستانی قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو ڈالر کے عو ض امریکہ کے حوالے کیا جو اب بھی امریکی جیلوں میں بند ہے۔ اور 86 سال کی سزا کاٹ رہی ہے۔ مختاراں مائی کو امریکہ کے حوالے صرف اس لیے کیا کہ وہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر اسلام کو مغرب میں بدنام کرتی پھرے جبکہ ایسے واقعات مغرب میں آے، دن رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ہزاروں پاکستانیوں کو دن دہاڑے امریکی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کیا جوآج تک غائب ہیں ان کا اتا پتا نہیں لگ رہا۔پاکستان کے محسن ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دنیا کے سامنے ذلیل کیا اور ان سے زبردستی جھوٹ بلوایا بلکہ اُن کو امریکہ کے حوالے کرناچاہتا تھا سابق وزیر اعظم جمالی صاحب کا انکشاف اور ڈاکڑعبدالقدیر خان نے خود اس بات کی تصدیق کی۔ امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کو مختلف وقتوں میں تقاریر کر کے دنیا کے سامنے ذلیل کیا۔ پاکستان اسٹیل مل کو سستے داموں بیچنے کی کوشش کی جسے پاکستان کی عدلیہ نے بچایا۔حبیب بینک کو کوڑیوں کے دام پر فروخت کیا ۔کیا کیا بیان کیا جائے ایک ٹیلیفون کال پر امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور ایک اسلامی ملک کا بیڑا غرق کروا دیا جبکہ ایران نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ۔کیاامریکہ ایران کوکھاگیا؟سب سے بڑی غلطی ،پاکستان کے آئین کو دو دفعہ توڑا۔عدلیہ کے ججوں کو قید کیا ۔ کیاپرویز مشرف اپنے پڑوسی اسلامی ملک افغانستان کے خلاف امریکی کاروائی میں شریک نہیں ہوا؟کیا اس سے ہماری مغربی سرحد غیر محفوظ نہیں ہو گئی؟کیا ہمارا ازلی دشمن بھارت اس سے فائدہ نہیں اُٹھا رہا ہے؟۔ا پنے ہی لوگوں پر ایف سولہ جٹ تیاروں سے بمباری کی اور اب بھی ہو رہی ہے،امریکی کہنے پر اس کی صلیبی جنگ کوپاکستان میں لے آیا جسے پاکستانی قوم اب تک بھگت رہی ہے۔ اپنے ہی ملک میںدنیا کی سب سے بڑی ہجرت ﴿سوات﴾ پاکستانیوں کو برداشت کرنی پڑی اور ابھی تک برداشت کر رہے ہیں، ملک تباہ و برباد ہو چکا ہے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے مطابق ملک کے 9 نامور جرنیل شہید ہو چکے ہیں دوسرے فوجی 3500 سے زائد ہیں جو شہید ہو چکے ہیں کچھ ہی دن پہلے سلالہ میں امریکیوں نے ہماری چوکی پر 24 ہماے فوجیوں کو شہید کیا ہے0 4000 سے زیادہ پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں اور ڈرون حملوں کی وجہ سے اب بھی شہید ہو رہے ہیں پرویز مشرف خود ملک چھوڑ کر فرار ہو گیا ہے۔ اور واپس آنے کے لیے ترس رہا ہے ۔جھوٹ پر مبنی ٹیلی تھون پر پروگرام بھی کیااور پاکستانیوں کی نفرت کا سامنا کیا۔ کچھ عرصہ قبل اپنی پارٹی کا اعلان برمنگھم میں کیا اور اس دن سے جھوٹ بول رہا ہے پاکستان مخالف بیان دے رہا ہے بار بار بیانات کے باوجودمگر ملک میں نہیں آسکتا۔ اس کی پارٹی کے لوگ پارٹی چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں
قارئین !ڈکٹیٹر کی حسرت پر غور فرمائیں ،فرما تے ہیں مجھے 5 سال مزید اقتدار میں رہنا چاہئیے تھا مجھے نہیں پتہ تھا فوج میری وردی اُترنے کے بعد میری مخالف ہو جائے گی۔ یہ ہے مکافات عمل جو اللہ نے پرویز مشرف کی قسمت میں لکھا ہوا تھا جو بھی اسلام کے ساتھ ٹکرایا اس کو اللہ تعالیٰ نے نشانِ عبرت بنا دیا۔یہ ہے زبردستی اسلامی سوسائٹی میں روشن خیالی کے نفاذکا تجربہ جو برُی طرح ناکام ہوا اور اس کی باقیات کا بُرا حشر ہوا ۔الحمداللہ پاکستان اب بھی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اورانشااللہ آئندہ بھی اسلام کا قلعہ رہے گا چائے دشمنوں کو کتناہی ناگوار ہو۔

یہ بھی پڑھیں  دلیر مہندی پر انسانی اسمگلنگ کا جرم ثابت، 2 سال قید کی سزا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker