تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

روشنی اب بھی اندھیر کے پنجے میں ہے

shairایک بزرگ نے اپنے خدمت گزار کے لیے بہت دعا کی اور رب العزت کی رحمت سے اسے بہت زیادہ دولت اور شہرت ملی۔اپنے بہترین اخلاق،حسن عمل اور کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے کی وجہ سے اسکی شہرت اور عزت میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا۔اسکا ہمسایہ ایک مراثی تھا ۔جب اسے وجہ پتہ چلی تو وہ بھی اس بزرگ کے پاؤں پڑا لیکن اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہر جگہ ذلیل و رسوا ہوا۔آخر ایک دن پھر بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اورانکی خوب خدمت کی۔اور بزرگ سے کہا کہ میرے حق میں دعا نہ کریں کیونکہ میرے اعمال سے مجھے عزت نہیں ملنی۔آپ میرے ہمسایہ کے لیے دعا کریں کہ وہ پھر سے میرے جیساہو جائے۔اگر میری عزت نہیں ہے تو کسی کی بھی نہ رہے۔چند دن پہلے کچھ ایسا ہی کام ایم کیو ایم نے ن لیگ کے ساتھ کیا۔اوراپنی ساکھ بحال کرتی ن لیگ ایک بار پھر عوامی عتاب کا شکار ہوتی نظر آ ئی۔۔
نائن زیرو پر حکومتی عہدیداروں کی حاضری سے پورے ملک میں متوقع ردعمل سامنے آیا۔حیران کن بات یہ کہ حکومت کے مخالف اس بات پر مسحور کن ہیں جبکہ حکومت کے حامی سیخ پا نظر آتے ہیں۔حکومت کے حامی ایم کیو ایم سے راہ و رسم بڑھانے اور سیاسی گٹھ جوڑ کے حق میں نہیں ہیں اور انکی طرف سے ملک بھر میں اس پیش رفت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ باقی تمام پارٹیوں کے ووٹر اس لیے خوش ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا پرحکومت کو آڑھے ہاتھوں لینے کا موقع میسرآیا ہے ۔اس حکومتی فیصلے کے اسباب اور اسکے مثبت و منفی پہلوؤں کا بھر پور جائزہ لینے سے پہلے قارئین کو یہ بات باآور کروانا اشد ضروری ہے کہ ایک دوسرے کا مذاق اڑانے،بحث برائے بحث اور ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کا ملک وقوم کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ مثبت تنقید کا فائدہ ہوتا ہے۔صرف حکومتیں بدلنے سے قوموں کی حالت نہیں بدلتی جب تک کہ ہر شخص خود کو تبدیل نہ کرے۔نوجوانوں کی سوچ اور طریقہ کار سے لگتا ہے کہ روشنی اب بھی اندھیر کے پنجے میں ہے۔
ایم کیو ایم ملک کی چوتھی بڑی پارٹی ہے اور کوئی مانے نہ مانے کراچی میں اسکا سکہ چلتا ہے۔اسکی وجہ پارٹی کی ساکھ ہو یا بوری اور گولی کا ڈر بحرحال وہاں اسکا راج ہے۔اور کراچی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔کراچی کے خراب حالات کے ذمہ دارپیپلز پارٹی،اے این پی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم ہیں۔بعض مبصرین کے مطابق ایسٹیبلشمنٹ کا بھی کچھ عمل دخل ہے ۔بحرحال حقائق و واقعات ایم کیو ایم کو زیادہ ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ویسے تو ایم کیو ایم ہمیشہ حکومتوں کی گود میں پلی ہے لیکن اپنے مطالبات منوانے یا لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے جب جب حکومت سے الگ ہوئی تب تب حالات قابو سے باہر ہوئے۔کچھ تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کے مطابق نائن زیرو جانے اور ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کا پیغام دینے کے پیچھے بڑی وجہ یہی ہے۔بحرحال اسکے ساتھ ساتھ ن لیگ کے اپنے بھی بہت سے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔کیونکہ پیپلز پارٹی کے انتہائی احمقانہ اور غیر جمہوری اعلان کے بعد اگر ایم کیو ایم بھی صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کرتی تو باوجود اسکے کہ ن لیگ کا صدر بن جاتا پر وہ متنازعہ صدر کہلاتا جو کہ ن لیگ کو کسی حد تک قابل قبول نہ تھا۔اس کے علاوہ سندھ میں ن کی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے سندھ ووٹ کے حق سے محروم ہو جاتا اگر پی پی کے ساتھ ایم کیو ایم بھی بائیکاٹ کر دیتی تو۔اس لحاظ سے تو یہ ایک بہت اچھا اور جمہوری فیصلہ ہے۔
اگر جمہوری نظر سے دیکھیں تو وفاقی حکومت چونکہ پورے ملک کی حکومت ہے کسی صوبے یا جماعت کی نہیں اس لیے باقی جماعتوں کو ساتھ لے کے چلنا اسکی ذمہ داری ہے۔ جمہوری طور پر یہ ایک مشکل مگر بڑا فیصلہ تھا لیکن پچھلی حکومت کے اتحادیوں کو ساتھ نہ ملایا جاتا تو ملک اور حکومت کی ساکھ کے لیے زیادہ بہتر تھا۔وزیراعظم اگر حسن زن کا مظاہرہ کرتے اور جمہوریت کو اور زیادہ مستحکم کرنے کے لیے جسٹس وجیہ الدین کی حمایت کا اعلان کرتے۔یہ بات بہت سے لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی لیکن جسٹس صاحب ایک نیوٹرل شخصیت ہیں اور پڑھے لکھے اور باکردار ہونے کے ساتھ ساتھ تمام پارٹیوں کے لیے قابل قبول بھی تھے۔ ویسے بھی اگروہ صدر بن جاتے تو جتنے اختیار صدر کے پاس ہیں اس سے ن لیگ کو کوئی مشکل پیش نہیں آ سکتی تھی بلکہ اس سے ن کی سیاسی اور جمہوری ساکھ بھی بڑھتی۔اور اگر صدر صاحب نیوٹرل نہ رہتے تو آسانی سے انکا مؤاخذہ کیا جا سکتا تھا کیونکہ اکثریت ن لیگ کی ہے اور سینٹ کے انتخابات کے بعد یہ اور بڑھ جاتی۔
ایم کیو ایم چونکہ حکومت سے علیحدہ رہ ہی نہیں سکتی اور اب تو اسکے قائد بھی زیر عتاب ہیں خدا جانے کیا ہو لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ انکے غبارے سے ہو انکلنے والی ہے۔کچھ عرصہ پہلے انہوں نے میڈیا کو دھمکانے اور ملک کا بٹوارا کرنے کا جو راگ آلاپا تھا ہو سکتا ہے یہ اس مغروری اور خوش فہمی کاصلہ ہو ۔کیونکہ تکبر اللہ کو پسندنہیں۔ڈاکٹر عمران فاروق قتل اور منی لانڈرنگ کیس نے انکی سریلی لب کشائی کو کچھ دن کے لیے سقوت بخشاہے۔اور ساتھ ہی انکی اکڑ سگریٹ کے دھویں کی طرح غائب ہو گئی اور بغیر دعوت کے ہی صدارتی امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا۔بحرحال حکومت کو چاہیے کہ ہر جائز ناجائز مطالبات تسلیم کرکے پچھلی حکومت کی یاد تازہ کرنے کی بجائے ملکی ترقی و قومی سلامتی کے لیے چند پالیسیاں وضع کرے اور اپنے اتحادیوں کو سختی سے ان پر کاربند ہونے کا پابند کرے ورنہ انہیں حکومت سے علیحدہ کرے ۔کیونکہ یہ مخلوط حکومت نہیں ہے اور ووٹروں کی ایک بڑی تعداد نے ن لیگ کو صرف اس لیے ووٹ دیے کہ ملک میں ایک مضبوط حکومت بنے اور ملک ترقی کرے۔دوسری پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنے میں کوئی کباہت نہیں لیکن اتنی بھاری اکثریت کے باوجود دوسری پارٹیوں کے جائز ناجائز مطالبات ماننا ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ہو گیnote

یہ بھی پڑھیں  *امید کے جگنو*

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker