تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

رِنگ اوررَنگ

دانااورتوانا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں شورش کاسامنا کیا توایک روز ان کے کسی ساتھی نے امیرالمومنین کومخاطب کرتے ہوئے عرض کیا،آپ کے پیشرو کسی امیر المو منین کواپنے اپنے دورمیں اس طرح کی صورتحال کاسامنا نہیں کرنا پڑا جس طرح آپ کوکرناپڑا ہے۔اپنے رفیق کی بات سننے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے جواب میں جوفقرہ کہااس میں ایک رازپنہاں تھا،انہوں نے فرمایا”ان کامشیر میں تھا جبکہ میرے مشیر تم ہو "۔راقم نے اپنے ہوش میں فوجی آمر ضیاء الحق سے اب تک پاکستان کا جو بھی حکمران دیکھاوہ ضد کا” پکا”لیکن کانوں کا”کچا "تھا،ان کے بیسیوں مشیرہوتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی انہیں مشورہ نہیں دے سکتا۔ارباب اقتدار کومشورہ صرف” اہلیہ” کاپسندآتا ہے خواہ وہ سیاسی وانتظامی "اہلیت ” سے نابلد کیوں نہ ہو۔ہمارے ہاں مشیرخطیر تنخواہ سمیت سرکاری مراعات سے مستفید ہوتے ہیں لیکن ہر حکمران مشورہ کسی اورسے کرتا ہے جس طرح عمران خان اپنے سنجیدہ اورزیرک سیاسی اتحادی چوہدری شجاعت حسین اورچوہدری پرویزالٰہی کے ہوتے ہوئے امورریاست اورسیاست کے بارے میں اپنی اہلیہ سے مشاورت کرتے ہیں نتیجتاً پاکستان ان کے ہاتھوں تختہ مشق بنا ہوا ہے۔مادرِملت فاطمہ جناح ؒ قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کی مخلص” ہمشیر "اورایک مدبر”مشیر "تھیں جبکہ ان کی قیادت میں خواتین نے تحریک قیام پاکستان میں قائدؒ کے ہراول دستہ کاکرداراداکیا۔ان کے انتقال سے آج تک قومی سیاست میں فاطمہ جناح ؒ کی بینظیر شخصیت کاکوئی ثانی یامتبادل منظرعام پر نہیں آیا۔ایک مخلص و مدبر مشیر وہ ہوتا ہے جو حکمران کومفیدمشورہ دینے کے ساتھ ساتھ اس کی کوئی ناپسندیدہ بات” ٹوک” اوراسے ناجائزکام کرنے سے "روک” سکتا ہو۔جس وقت مادروطن میں پرویز ی آمریت کاسورج سوانیزے پرتھا اُن دنوں پرویزمشرف کے آفس میں ایک مونچھ بردارلیکن گستاخ قسم کا آفس بوائے مہمانوں کوچائے وغیرہ پیش کیا کرتا تھا۔مونچھ بردارشخص کی کچھ ناپسندیدہ عادات دیکھتے ہوئے وہاں تعینات ایک کرنل نے اسے دوران ڈیوٹی وہاں آنیوالی شخصیات کے ساتھ تہذیب کامظاہرہ کرنے کی نصیحت اور تلقین کی جس پروہ "جناب تعمیل ہوگی”کہتاہوا وہاں سے رخصت ہوگیا۔مونچھ بردارشام کے وقت پرویزمشرف کوچائے پیش کرنے گیا توفوجی آمر کی مختصر خوشامد کے بعد اسے بتایا فلاں کرنل توجمہوری نظام کاحامی اورجمہوریت کے گیت گاتا ہے،یہ بات سن کرپرویزمشرف بظاہرخاموش رہا لیکن دوسرے روز اس کرنل کووہاں سے ٹرانسفر کردیا گیا۔ نوازشریف اورپرویزمشرف کی طرح کپتان بھی منتقم مزاج،عجلت پسنداورکانوں کاکچا ہے۔ نوازشریف اورپرویزمشرف بھی سچائی تک رسائی یقینی بنائے بغیر دشوار ترین کام کرگزرتے تھے جبکہ بعدازاں انہیں پچھتاواہوتا تھا، عمران خان اپنے پیشرو حکمرانوں سے کچھ بھی سیکھنے کیلئے تیار نہیں۔ کپتان کاایک ہیوی ویٹ مشیر ان کی خوشامد کے بعد کسی نہ کسی کیخلاف ان کے کان بھرتارہتا ہے۔
بحیثیت حکمران کامیابی وکامرانی اورنیک نامی کیلئے منجھے ہوئے،باکرداراورایماندار ٹیم ممبرز اور مخلص ومدبر مشیروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا،بیشک زیرک وبردبار شخصیات ابتر حالت میں بھی سودمند مشورہ دے سکتی ہیں۔ہمارے ماں باپ،بھائی بہن اوررشتہ دارکون ہوں گے اس کافیصلہ کرناہمارے اختیار میں نہیں لیکن ہم اپنے دوست بالخصوص مشیر اپنی مرضی ومنشاء سے منتخب کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے بروقت اوردرست فیصلے کیلئے مشورہ ضروری ہے خواہ اس وقت آس پاس کوئی دیوارکیوں نہ ہو اورجس کسی کومشاورت کیلئے منتخب کیاجائے وہ امانت سمجھ کردیانت اورذہانت سے درست مشورہ دے۔دیکھا جائے توبچپن سے پچپن تک عمران خان اورخوش قسمتی کاچولی دامن کاساتھ ہے لیکن راقم انہیں اپنے وزیروں اور مشیروں کے معاملے میں خوش نصیب نہیں سمجھتا۔ان کے متعدد نااہل ٹیم ممبرزنے بحیثیت کپتان ان کی مردم شناسی کوسوالیہ نشان بنادیاہے۔وزیراعظم عمران خان کے ایک ہیوی ویٹ مشیر نے انہیں انتظامی تنازعات اورسیاسی فتنہ وفسادات میں گھسیٹنے کے سواکچھ نہیں کیا۔ موصوف کی طرف سے روزانہ بنیادپر کی جانیوالی پریس کانفرنس نے نیب کوناکام اوربدنام کر نے میں منفی کرداراداکیا۔لاہور پولیس کے سابقہ بدترین اور ناکام ترین سی سی پی اوعمر شیخ کی تقرری میں بھی اسی مشیر کا کلیدی کردارتھا جس سے تبدیلی سرکار کی دنیا بھر میں رسوائی ہوئی۔ حکمرانوں کے کچھ "مقرب” لوگ اس” قرب” کافائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں کیلئے سراپا "کرب” بن جاتے ہیں۔عمران خان کے کان میں ان کے جس مقرب مشیر نے بھی راولپنڈی رِنگ روڈ کے سلسلہ میں سابقہ نیک نام اورانتھک کمشنر کیپٹن (ر)محمدمحمود اورنوواسٹی کی پروفیشنل مینجمنٹ کیخلاف تعصب سے بھرپور پھونک ماری وہ ان کادوست نہیں بلکہ بدترین دشمن ہے۔ جولوگ دانستہ اپنے وزیراعظم کواندھیرے میں رکھیں اورمحض حسدیامالی ہوس کی بنیادپراپنی ناپسندیدہ شخصیات کیخلاف ان کے کان بھریں یاانہیں گمراہ کریں تویہ وفاداری نہیں بلکہ ریاکاری ہے۔راولپنڈی کے سابقہ کمشنر کیپٹن (ر)محمدمحمود اپنے منصب کے ساتھ بھرپور انصاف کرنیوالے ایک نیک نیت انسان ہیں۔ان کی اب تک جہاں بھی تقرری ہو ئی انہوں نے وہاں ا پنی لیاقت اورپیشہ ورانہ مہارت کے انمٹ نقش چھوڑے ہیں۔کپتان کے کان بھرنیوالے عناصر کامیاب رہے اور کیپٹن (ر)محمدمحمود کوعجلت میں ان کے منصب سے ہٹادیا گیا جبکہ انصاف کا ہر ایک تقاضا پوراکرناازبس ضروری تھا۔افسوس کیپٹن (ر)محمدمحمود کی صورت میں ایک اہل آفیسر نااہل مشیر کے انتقام کانشانہ بن گیا۔بے یقینی کی کوکھ سے بے چینی پیداہوتی ہے،میں یہ بات بار بار لکھتا ہوں لیکن مجال ہے ہماری حکمران اشرافیہ کویہ حقیقت سمجھ آجائے۔افواہوں سے ریاستی نظام درہم برہم ہونا جبکہ معیشت کا آئی سی یومیں چلے جانا بدقسمتی ہے۔ہمارے ریاستی نظام کے ناکام ہونے کی متعدد وجوہات میں سے ایک شفاف تحقیقات منظرعام پرآنے سے قبل نتیجہ اخذ کرلیا جانا ہے۔ہمارا نظام عدل ملزم سے زیادہ مدعی کوایڑیاں رگڑنے پرمجبورکردیتا ہے۔راولپنڈی رِنگ روڈ اسیکنڈل کی شہرت میں اپوزیشن اورمیڈیا سے زیادہ تبدیلی سرکار کے نااہل مشیروں کاہاتھ ہے۔
لاہور سے راولپنڈی تک”رِنگ روڈ” سے مخصوص سرمایہ دارطبقہ راتوں رات” رَنگ” گیا اور کچھ بیچاروں کے "زر” کو رِنگ روڈنے” زَنگ” لگادیااورآج وہ اپنے حق میں صفائیاں اورانصاف کیلئے دوہائیاں دے رہے ہیں۔ راولپنڈی رِنگ روڈ اسکینڈل میں جہاں مبینہ طوورپر مخصوص ہاؤسنگ سوسائٹیز کو مالی فائدہ پہنچا وہاں بیشتر کومالی خسارہ برداشت کرناپڑا۔حکمران اپنے ہرایکشن سے قبل پنجابی کامحاورہ "کالیاں اگے ٹوئے”ضروریادرکھیں۔ارباب اختیار کی عجلت اورمجرمانہ غفلت نے متعدد کاروباری شخصیات کی ساکھ کوراکھ کاڈھیربنادیا،جس پر "نوواسٹی ” کی انتظامیہ سمیت ہاؤسنگ شعبہ سے تعلق رکھنے وا لی اہم شخصیات نے اپنی نیک نامی کے اجلے چہرے سے بدنامی کی سیاہی صاف کرنے کیلئے اخبارات میں جہازی سائز کے اشتہارات دیے،جس کی وساطت سے انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا” اِن کی سوسائٹی راولپنڈی رِنگ روڈ کے کسی انٹرچینج سے ملحق یامتصل نہیں اورنہ ہی فنل کے نوکنسٹرکشن زون کی حدود میں ہے "۔” نووا سٹی” کے متاثرین نے ایک اشتہار میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے داعی اورانصاف کے علمبردار وزیراعظم عمران خان سے” انصاف” کی فراہمی کیلئے ایک آزاد اورخودمختار فورم کے قیام کا مطالبہ کیا جواس اسکینڈل کے پس پردہ محرکات کاسراغ لگائے اورانہیں بے نقاب کرے۔باخبراورغیرجانبدار افراد سے ملی معلومات کی روشنی میں عرض ہے "نووا سٹی” کا اٹک لوپ کی نشاندہی سے ایک سال بعد جون2020ء میں ظہورہوا اوراراضی حاصل کی گئی۔نوواسٹی آج بھی راولپنڈی رِنگ روڈ کے کسی انٹرچینج سے ملحقہ نہیں جبکہ نوواسٹی مینجمنٹ نے سی پیک کوریڈورپرانٹرچینج کے حصول کیلئے ریاست پاکستان کوبھاری فیس اداکی ہوئی ہے۔ نوواسٹی انتظامیہ کے نزدیک شہریوں کی حفاظت ان کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔کچھ عناصر کی طرف سے اپنے مذموم مفادات اورعداوت کی بنیادپرنوواسٹی کے ایک ڈائریکٹر کے سماجی تعلق کومنفی رنگ دینے کی سازش کی گئی جو مناسب نہیں۔نوواسٹی نے باضابطہ ممبران کی رجسٹریشن کی،اگر یہ تمام رجسٹریشنز بطور سیل کنفرم ہوبھی جائیں توان کیلئے 3500کنال اراضی کی کافی ہوگی جبکہ ان کے پاس تو9000ہزار کنال سے زائد اراضی د ستیاب ہے۔حال ہی میں منظرعام پر آنیوالی متعصبانہ اورمتنازعہ انکوائری رپورٹ اوراس کے تناظر میں ہونیوالے جارحانہ اقدامات اور بے بنیاد پروپیگنڈا سے نوواسٹی کی کاروباری ساکھ اورڈائریکٹرز کی شہرت کو جونقصان پہنچا اس کامداواکون کرے گا۔ منفی پروپیگنڈے کے باوجودنوواسٹی بینظیر طرزرہائش اورانتہائی معیاری فیملی لائف اسٹائل مہیا کرنے کا پختہ اراد ہ رکھتی ہے۔ نوواسٹی کاوجود وزیراعظم کی ر ئیل اسٹیٹ شعبہ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کانتیجہ ہے اورہزاروں کنال اراضی کے ساتھ دسمبر 2020ء میں وزیراعظم پیکیج برائے رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے تحت رجسٹرڈ ہے۔حالیہ پروپیگنڈا مہم رئیل اسٹیٹ شعبہ کوبدنام اور low cost housing کی سہولت مہیا کرنے کی حوصلہ شکنی کے متراد ف ہے لہٰذاء اسے روکناہوگا ورنہ چند نادان مشیروں کی متعصبانہ اورمجرمانہ روش سے نیاپاکستان بنانے کا خواب چکنا چور ہوجائے گا۔فوری طورپر ایک آزاد، خودمختار اورمستقل فورم قائم کیاجائے جوپروپیگنڈا سے متاثرہونیوالے کاروباریاافراد کے حقوق کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے موثراورکلیدی کرداراداکرے۔

یہ بھی پڑھیں  پہلا روز 30 جون کو ہونے کا امکان ہے،محکمہ موسمیات

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker