محمد جاوید اقبال

سب اچھا ہے! ناکام فارمولا

m javid iqbalسالِ گذشتہ گزر گیا اور سب لوگ نئے سال میں داخل ہو چکے ہیں۔ لیکن سالِ گذشتہ اور پیوستہ کے واقعات پر نظر ڈالا جائے تو ہمارے دامن میں سوائے مایوسی کے اور کچھ نہیں ملے گیا۔ معاشی ترقی کا نیّا نیچے کی طرف جا تی رہی، کرپشن کا ایسا سلسلہ جاری و ساری ہے کہ عوام کا لیڈروں پر سے اعتماد اٹھنے لگا ہے۔ حکومت کی ساکھ الگ متاثر ہوئی، حکومت کی پالیسیاں پیرا لائسس کی طرف گامزن ہیں، ویسے بھی آج کل لانگ مارچ کے چرچے نے سیاسی کھلاڑیوں میں سیاسی بحران بپا ہے۔
گئے برس میں کئی لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے جن کا پاکستانی سیاست ، میڈیا اور ٹیلی ویژن انڈسٹری پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ہمارے یہاں ویسے بھی یہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بندہ حیات ہوتا ہے تو سیاسی ڈگر پر خاص طور پر اتنی مخالفت کرتے ہیں کہ جیسے اس سے بڑا دشمن دوسرے کا کوئی ہے نہیں۔ مگر جب بندہ اس دارِ فانی سے کُوچ کر جائے تو اُس سے اچھا انسان انہیں کوئی اور نظر نہیں آتا۔ یہ تاثر بھی زائل ہونا چاہیئے تاکہ انسان کی قدر ہمہ جہتی رہ سکے ۔
سالِ گذشتہ نے نے ہمیں مہنگائی دی، کرپشن کا عروج دیا، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا عروج دیا، بیروزگاری اور بھوک و افلاس دیا، امن و امان کو نیست و نابود کر دیا ، جن گھروں کے چراغ گل ہوگئے ان کے گھروں میں آنسوؤں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دیا، ہم ملے جُلے تاثرات کو یکجا کریں تو کہا جا سکتا ہے کہ سال 2012ء ہمیں دکھ اور مایوسی دے کر رخصت ہو گیا۔خوشی کے مقابلے میں غم زیادہ ملے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سال 2013ء کیسا ہوگا؟ میں کوئی نجومی تو ہوں نہیں اور نہ ہی کوئی پیش گوئی کرنے میں دلچسپی رکھتا ہوں ، بس اپنے سامنے جو حالات و واقعات دیکھ رہا ہوں اس سے یہ اندازہ لگاسکتا ہوں کہ اگلے سال خوشی اور غم کی چاشنی ملی جلی رہے گی۔ لیکن ہم چونکہ اللہ اور رسول ﷺ پر مضبوط یقین رکھنے والے لوگ ہیں اس لئے اسی ذاتِ برحق سے لَو لگائے ہوئے ہیں اور وہی سب بہتر کرنے والا ہے۔ اور یہی امید اور لگاؤ رکھتے ہیں کہ موجودہ سال پچھلے سال سے بہتر ہوگا۔
نئے سال کی ابتدا ہو چکی ہے اور ساتھ ہی ایسا لگتا ہے کہ عوام بھی اب بیدار اور آواز بلند کرنے والے ہوگئے ہیں۔ بیدار عوام حکمرانوں سے حساب مانگتے ہیں اب حکمران طبقہ کو وقت پر صحیح فیصلے کرنے ہونگے ۔ اور ان تمام فیصلوں پر عوام کا Inputبھی شامل رکھنا پڑے گا۔ گذشتہ سالوں میں پیٹرول، ڈیزل، CNGاور روز مرہ استعمال کی تمام ہی چیزوں پر بے پناہ گرانی رہی جس سے ہماری عوام آج بھی نبرد آزما ہے۔ گذشتہ سالوں میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری بس خبروں تک ہی محدود ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں اور دوسری تمام پارٹیوں میں دوریاں بڑھیں، سیاسی اتھل پتھل بھی اپنے عروج پر رہی، کوئی اس پارٹی میں جا رہا ہے تو کوئی اِس پارٹی میں شامل ہو رہا ہے۔مطلب یہ کہ جس کو جہاں اپنا مفاد نظر آتا گیا وہ اس طرف ڈھلکتا گیا۔
حالات کی بہتری پر میرے یقین کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کے لوگوں میں بیداری کو بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہوں، اب لوگوں نے ’’سب اچھا ہے ‘‘ کے فارمولے کو چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ عوام اب بیدار ہوگئے ہیں اور وہ اب شارٹ کٹ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ یہ خبر لیڈروں کیلئے بھلے ہی بُری ہو لیکن جمہوریت کے لئے یہ انتہائی نیک شگون ہے۔ جمہوریت صحیح ڈگر پر چلے اس کے لئے عوام کا بیدار ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ بیدار عوام حکمران سے حساب مانگنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ شاعر کی روح سے معذرت کے ساتھ یہ شعر چند تبدیلیوں کے ساتھ پیشِ خدمت ہے۔
ہے شکر لوگ نکلے ہیں اب احتجاج کو
دیں عوام کو یہ خراج کہ ہم جاگتے ہیں اب
جب بھی نئے سال کی آمد ہوتی ہے تو ہم سب اس امید میں اپنی اپنی باہیں پسار کر اس کا خیر مقدم کرتے ہیں تاکہ نئے سال کی گٹھری میں ہمارے لئے ڈھیر ساری خوشیاں اور خوشخبری بند ہوں گی لیکن پورے بارہ مہینے ہمارے ساتھ رہنے کے بعد جب یہ سال ہم سے رخصت ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی گٹھری میں غم اور خوشی کی مقدار برابر ہی تھی یوں ہم پھر ایک نئے سال کے استقبال کیلئے مصروفِ عمل ہو جاتے ہیں۔ باضمیری کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم سالِ گذشتہ کو بھول کر نئے آنے والے میں اپنے عوام کی بھلائی کے لئے کچھ کریں، غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں تاکہ جو نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے دَر دَر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں انہیں نوکریاں میسر ہو سکیں اور وہ بھی اپنے گھر والوں کا سہارا بن جائیں۔
زندگی شاید اس کا نام ہے کہ کبھی تلخیاں زیادہ ہوتی ہیں اور کبھی میٹھی یادیں ہمارے حصے میں آتی ہیں، پورا سال مسلسل ملک میں کسی نہ کسی صورت سے انسانی زندگی کا استحصال ہوتا رہا ہے۔ پورے ملک میں ہر سطح پر پستی کا راج رہا، سب کچھ اگر اسی طرح قوم کے ساتھ ہوتا رہا اور حالات و سیاسی جماعتوں کے رویے بھی اسی طرح جاری رہے تو عوام بیدار تو ہوگی ہی۔ملک دشمن عناصر کی کاروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو عوام بیدار تو ہوگی ہی، قتل و غارت گری کا بازار اسی طرح گرم رہا تو مظلوم عوام بیدار تو ہوگی ہی، قومی یکجہتی ناپید نظر آنے لگے تو عوام تو بیدار ہوگی ہی۔عوام کو بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی جاری رہے گی تو عوام بیدار تو ہوگی ہی۔ اور وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حکومتِ وقت ان تمام معاملات کا نیک نیتی کے ساتھ خاتمے کی کوشش کرے تاکہ عوام الناس میں التحریر اسکوئر جیسا عنصر نمودار نہ ہو۔
جمہوریت کے پانچ سال پورے ہونے کو ہیں اور ہم ابھی تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے ہی نبرد آزما ہیں، پتہ نہیں کب وہ دن آئے گا کہ جب ہمیں بجلی پوری طرح میسر ہوگی، اس افتاد سردی کے موسم میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ اپنے بامِ عروج پر ہے یعنی ساڑھے چار گھنٹے تو اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے ہی اور آج کل یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بیچ بیچ میں بھی پانچ دس منٹ کیلئے دن بھر میں کئی مرتبہ بجلی بند کر دی جاتی ہے۔ اور اس مسئلے پر بھی کوئی عوام کی داد رسی نہیں کر رہا ۔ گیس کی کمی ایسی ہوگئی ہے کہ گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ لوگوں میں اس عمل پر بھی بیزاری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ عوام اس وقت بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے انتہائی تنگ ہیں ۔اور ہمارے حکمران سب اچھا ہے کا نعرہ لگارہے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صرف عوام ہی نہیں بلکہ ملک کی معیشت کا پہیہ جام بھی ہوگیا ہے۔ اور بل ہے کہ اضافے کے ساتھ ہی عوام کو ملتا ہے۔ اور اگر کوئی صارف مالی پریشانی کی وجہ سے موجودہ مہینے کا بل اگلے ماہ بھرنے کا سوچ لے تو کنکشن کاٹنے والے فوراً ان کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے میں عوام کو بیدار تو ہونا ہی پڑے گا۔ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آ رہا ہے بس جیسے چل رہا ہے چلنے دو اور اپنا وقت پورا کرو۔ نیا آنے والے دیکھے گا۔ اور جب نئے حکمران آئیں گے تو ان کا یہی نعرہ ہوگا کہ یہ تمام مشکلات تو ہمیں پچھلی حکومت سے ورثے میں ملی ہیں کیونکہ ہمارے یہاں اسی طرح کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔
وطنِ عزیز کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو صوتحال کو سمجھتے ہوئے آئندہ کے حوالے سے مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک اور اس ملک کے باسی موجودہ بحرانوں سے نکل سکیں۔ تما م اقتدارِ ملت کو چاہیئے کہ سیاسی ابتری، معاشی تباہ حالی، دہشت گردی، قتل و غارت گری، اغواء اور بھتہ خوری ، بیروزگاری جیسی اذیتوں میں مبتلا قوم کو اس دلدن سے نکالیں، قدرتی وسائل سے مالا مال ہمارا وطن آج بجلی، پانی، گیس، اور انفراسٹرکچر سے محروم کیوں ہے؟ ملکی مسائل کا حل اب بے حد ضروری ہو گیا ہے۔ دعا ہے کہ ربِّ کائنات ہماری ان تمام پریشانیوں کا مداوا کرنے میں ہم سب کی دعاؤں کو قبول فرمائے۔ آمین

یہ بھی پڑھیں  بُت شِکن ’تاج محل‘

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker