تازہ ترینکالممیرافسر امان

ثابت ہوایہ جنگ ہماری نہیں ہے؟

mir afsarہمارے نزدیک۲۰۱۳ء کے الیکشن میں دو بڑی سوچ رکھنے و الے گروہوں نے حصہ لیا ایک گروہ پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم اور دوسرے سیکولر نکتہ نظر والے حضرات تھے جو موجودہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کو پاکستان کی جنگ سمجھتے تھے .دوسری طرف ن مسلم لیگ ،تحریک انصاف،جماعت اسلامی،جمیت علمائے اسلام وغیرہ شامل تھے ان کی کچھ کمزوریوں کے باوجود یہ پارٹیاں اسلام سے محبت رکھتیں ہیں اور موجودہ نام نہاد جنگ کو امریکہ کی جنگ سمجھتیں ہیں پہلے گروہ میں پیپلز پارٹی امریکہ کے ایجاد کردہ این آر او کی پیدا وار تھی اس لئے امریکا کی پالیسیویوں کی حمایت کرنا اس کی مجبوری تھی ویسے بھی اسے ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں بس ایک نکاتی ایجنڈے پر چلتی رہی اقتدار کیسے حاصل ہو اور برقرار کیسے رکھاجائے بیڈ گورننس ہوں لاء اینڈ آڈر کا مسئلہ ہواس کے لوگ کرپشن کریں ،ملک میں گیس اور بجلی کا بحران ہو،ملک بیرونی قرضوں تلے دب جائے، ڈرون حملے ہوں،بیرونی مداخلت ہو اس پر اس نے دھیان نہیں دیا ۔عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ ہندوستان کی ہدایات پر افغانستان کی کیمونسٹ حکومت کو پاکستان کے ساتھ الجھائے رکھا اور پختونستان کا مسئلہ کھڑا رکھا مگر جہاد افغانستان کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا طالبان کی حکومت آنے پر ہماری مغربی سرحد محفوظ ہو گئی تھی یہ پارٹی روس کی شکست کے بعد امریکا کی گود میں چلی گئی ہے اس کی ہمیشہ اقتدار کے ساتھ چمٹنے کی پالیسی رہی ہے افغانستان کے حکمران نجیب اللہ کے دور میں جب روس افغانستان پر قابض تھا تو ولی خان صاحب سیکڑوں گاڑیوں کے جلوس کے ساتھ پاکستان سے افغانستان جایا کرتے تھے ان کے والد غفار خان صاحب بھی ہندوستان سے روپوں کی تھلیاں وصول کرتے تھے افغانستان کے کیمونسٹوں کے ہاتھ مضبوط کیاکرتے تھے پاکستان کے سینے پر مونگ دلتے رہتے تھے اس کے سیکڑیری جنرل اجمل خان کہا کرتے تھے سرخ ڈھولی کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو نگا وہ سرخ ڈھولی کے ساتھ پاکستان میں کیا داخل ہوتے طالبان نے پختونستا ن کا مسئلہ زمین میں دفن کردیا پھر اسفند یار ولی خان صاحب دوسری سپر پاور امریکا کے ساتھ دوستی کر کے پاکستان میں امریکی مدد سے سیکولر حکومت کے قیام کی بے سود کوشش میں سر کھپاتے رہے خیبرپختونخواہ کے عوام کو دکھوں سے نڈہال کر دیا جسارت کے ایک کالم نگار نے اپنے مضمون میں اسفند یار ولی خان کی بش سے ملاقات اور اس کے مندرجات کے متعلق سوال کیا تھا کہ کیا طے ہوا ہے مگر آج تک معلوم نہ ہو سکا شواہد بتاتے ہیں کہ نام نہاد جنگ میں مدد اور پاکستان میں لاء اینڈ آڈر کو خراب رکھنے کا معاہدہ تھا جس پر وہ خیبرپختونخواہ میں اپنے دورے حکومت اور کراچی میں ایم کیو ایم سے نورا کشتی کر کے بھر پور عمل کرتے رہے۔اس گروپ کی تیسری پارٹی کے متعلق تو پوری پاکستانی قوم جانتی ہے کہ یہ بین الااقوامی گیرٹ گیم کا حصہ ہے اس نے کراچی کو یرغمال بنایا ہوا ہے اس کا ایجنڈا کیا ہے اس نے ہمیشہ کی طرح تاریخی دھاندلی کر کے اپنی اکثریت برقرار رکھی مگر اس دفعہ ساری جماعتوں نے بھر پور مذاحمت کی جو تادم تحریر جاری ہے تین تلوار پر احتجاج کرنے والوں کو تلواروں سے سیدھا کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں الطاف حسین صاحب آپے سے باہر ہو کر اصل چہرے کے ساتھ نمودار ہو رہے ہیں فوج ،الیکشن کمیشن ،ٹی وی چینلز اور اینکر پرسنز کو کتا تک کہہ دیا ہے برطانیہ والے اپنے شہری کے بیانات کا جائزہ لے رہے اور سزا کی سوچ رہے ہیں پاکستان توڑنے کی ایک دفعہ کی دھمکی واپس لینے کے بعد شاید اپنے آقاؤں کے کہنے پر پھر پاکستان توڑنے کی دھمکی دی ہے اور کہا ملک بنایاتھا کچھ اور بھی کر سکتے ہیں، جرنیل آج ہماری وجہ سے بیج لگائے گھومتے ہیں بنگلہ دیش کویاد رکھو،کسی کا متھا گھوما تو ٹھوک دے گا ویسے انہیں معلوم کہ پاکستان مشرقی پنجاب والوں نے بھی بنایاتھا ان کا کہیں بھی ذکر ہی نہیں کرتے بلکہ پورے برصغیر کے مسلمانوں نے بنایا تھا اصل بات یہ ہے خیبر پختون خواہ والوں نے نام نہاد جنگ کو پاکستان کی جنگ کہنے والوں کو شکست دی ہے پنجاب والوں نے بھی یہی کیا ہے بلوچستان والوں نے بھی ن لیگ کومینڈیٹ دے دیا معلوم ہوا کہ پوری قوم نے ثابت کر دیاہے کہ نام نہاد جنگ ہماری نہیں ہے بلکہ کسی اور کی ہے اب یہ نکتہ نظر زور پکڑ گیا ہے کہ اپنے لوگوں سے جنگ کر کے ہم نے کچھ حاصل نہیں کیا بلکہ پاکستان کا ۹۰ ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے پاکستان کا ہر پیدا ہونے والا بچہ ۸۰ ہزار کا بیرونی سوہکاروں کا مقروض ہے ہماری مغربی سرحد غیر محفوظ ہو گئی ہے اور مشرقی سرحد سے آئے دن دھمکیاں مل رہی ہیں ہمارے اپنے شہری ہمارے خلاف ہو گئے ہیں مسئلہ کشمیر امریکہ کی وجہ سے پس منظر میں چلا گیا ہے کشمیر کے مجاہدوں کو جو تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے ہمارے جرنل ہیڈ کواٹر،نیول ،ایئر فورس،پولیس ہیڈ کواٹر،سی آئی اے اسپیشل فورسز تمام دفاعی انسٹالیشن پر حملہ ہو چکا،ہماری مساجد، امام بارگاہوں،مزاروں،بازاروں، اسکولوں کرکٹ کی مہمان ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں پاکستانی عوام پر ڈرون حملے ہو رہے ہیں جس میں ہزاروں شہری شہید ہوئے اورہمارے فوجی بھی شہید ہوئے پاکستان میں کونسی سی چیز
بچی ہے جس پر حملہ نہ ہوا ہو اپنے ہی ملک میں۵۰ لاکھ سے زیادہ لوگ مہاجر ہوئے اور کچھ اب بھی مہاجرت کی زندگی گزار ہے ہیں یہ سب اپنے پڑوسی مسلمان ملک کے خلاف امریکی کی مدد اور اس کی جنگ میں شمولیت کی وجہ سے ہوا افغانستان کے طالبان ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ہمارے ملک کے خلاف جنگ کر رہے ہیں ہمار ے مقتدر اداروں نے پرائی جنگ کو اپنی جنگ سمجھا اور اپنے لوگوں کے ساتھ لڑنے لگے جو غلط ہے اپنے لوگوں سے مذاکرات کئے جائیں پاکستان کی عوام نے نام نہاددہشت گردی کو اپنی جنگ سمجھنے والوں کو جمہوری طریقے سے شکست دے دی ہے خوش آئند بات یہ ہے کہ جیتنے والے سب رہنماؤں نے بیانات دئیے ہیں کہ ملک کے ناراض لوگوں سے مذاکرات ہوں گے اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ ہماری نہیں دوسروں کی جنگ ہے جو اسے پاکستان میں لے آئے ہیں۔
قارئین پاکستان کی ۹۰ فی صدعوام امریکہ کے خلاف رائے دی چکی ہے یہ ان ہی کے سروسے رپورٹ ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی پارلیمنٹ، اس کی دفاعی کمیٹی اور اے پی سی نے بھی امریکا سے خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کا کہا تھا اورتائید میں قراداد پاس کی تھی مگر مقتدر حلقوں نے اس پر عمل نہیں ہونے دیاپاکستانی طالبان نے جنگ بندی کی پیش کش کی تھی اس پر۲۸ فروری ۲۰۱۳ء کو ایک اور اے پی سی ہوئی اس نے بھی قراداد پاس کی اس پر پیش رفت کی لیے بھی کوشش کی گئی مگر بد قسمتی اس پر بھی عمل نہ ہو سکا اب اس الیکشن نے ایک بار پھر اس جنگ سے باہر نکلنے کے لیے رائے دے دی ہے ن لیگ اور تحریک انصاف کی لیڈر شپ نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ مذاکرات کئے جائیں گے اور اس جنگ سے باہر نکلنا چاہیے یہ عوام کی ترجمانی ہے اللہ ہمارے ملک کا مدد گار ہو آمین۔

یہ بھی پڑھیں  معقول سیاستدان کا نامعقول کردار

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker