تازہ ترینکالممسز جمشد خاکوانی

سچائی کے خلاف جنگ

mrs. jamshaidدنیا میں ہمیشہ نیکی اور بدی کے درمیان جنگ جاری رہی ہے اور ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ آخر کار فتح نیکی کی اور سچائی کی ہوتی ہے بدی ہار جاتی ہے ۔لیکن اس بار مقابلہ بہت سخت ہے ہم چاہتے ہیں کہ کرپشن ختم ہو مگر اس نیک کام میں کوئی بھی تعاون کرنے کو تیار نہیں ۔زرداری صاحب نے تو کہا تھا ہم پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے لیکن ان کی وجہ سے حقیقتا ہر ادارے کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے جو اینٹ اٹھاؤ اس کے نیچے سے ایک سنسنی خیز کرپشن کہانی برامد ہوتی ہے اور کرپشن بھی لاکھوں کروڑوں کی نہیں اربوں کی۔۔بہت ترقی کر لی ہے ہم نے اس شعبے میں اوراب اس کا سلسلہ بھارت سے جا کر ملنے لگا ہے جسکی وجہ سے انتہائی سخت اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔جب سول عدالتوں سے فیصلے نہ ہو رہے ہوں یا ان میں اس قدر تاخیر ہو رہی ہوجس سے دھشت گرد فائدہ اٹھانے لگیں تو پھر فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لانا پڑتا ہے ۔لیکن ابھی تک اس میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی سانحہ پشاور کے بعد سزائے موت پر سے پابندی اٹھائی گئی کچھ پھانسیاں ہوئیں ۔لوگوں میں سزا کا خوف پیدا ہوا لیکن اب اس خوف کو زائل کرنے کے لیئے اندرون خانہ بہت سی سازشیں تیار ہیں جس میں ملٹری کورٹس کا قیام بالکل غیر ضروری قرار دیا جا سکتا ہے ،مقتدر طبقہ کسی صورت کرپشن سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں اور اس مفاہمت کی رسی دراز ہے ۔تمام بڑی سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں ۔ملٹری کورٹس کے قیام کی اجازت دینے پر مسٹر رضا ربانی کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں تو یہ ملک اور آئین کی محبت میں نہیں تھیں مسلہ سارا یہ ہے کہ کرپشن کی کمائی سے بنائی گئی عزت اور عیش و عشرت سے کوئی کیوں دستبردار ہو ؟بھتہ خوروں کی طرف سے اہل کراچی کو پھر پرچیاں ملنی شروع ہو گئی ہیں ۔اس میں سب سے برا ظلم ان لوگوں پر ہے جو حلال کمائی پر گذارا کرتے ہیں ۔الطاف ھسین جیسے بھی ہیں لیکن ایم کیو ایم کے لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو گھروں میں لفافے بنا کر،موم بتیاں بنا کر گذارا کرتے ہیں ۔میں نے ان خواتین سے زیادہ محنت کرتے کسی کو نہیں دیکھا ،تعلم حاصل کرنے کا شوق بھی ان میں بے حد ہے چھوٹی چھوٹی ملازمتیں کر کے اپنے گھر کا خرچ اٹھاتی ہیں اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرتی ہیں ۔مجھے ایک پارلر کی مالکہ نے بتایا کہ اردو سپیکنگ بہت محنتی اور مہذب ہوتی ہیں ہنر مند ایسی کہ ان جیسا کام کوئی دوسری ورکر نہیں کر سکتیں اس لیئے میں ان سے بہت مطمعن ہوتی ہوں ،اس طرح بڑے ڈیپارمنٹل سٹوروں میں بھی میں نے انہی کو سیلزگرل کے فرائض انجام دیتے دیکھا ہے ،ویکسی نیشن کا کام بھی زیادہ تر یہی کرتی ہیں اور پولیو ورکرز میں سے زیادہ جانیں بھی انہی کی گئی ہیں ۔میں سمجھتی ہوں جب ایک ایسے طبقے کو نفرت کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے اندر کیا تبدیلی رونما ہوگی کیونکہ نفرت انسان کو بگاڑتی ہے سنوارتی نہیں ۔اس سے یہ نہ سمجھیں کہ میں الطاف حسین کی وکالت کر رہی ہوں الطاف حسین کے خلاف مواد اتنا ہے کہ شائد وہ اس سے بری الزمہ ہو ہی نہیں سکتے لیکن انکے فالورز کا کیا قصور ہے؟ شائد یہی سوچ تھی جس نے مشرف کو ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے پر آمادہ کیا ہوگا جبکہ بقول حامد میر وہ الطاف حسین کو اپنے ہاتھ سے گولی مارنے کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے ،لیکن اسی ایم کیو ایم سے انہوں نے کراچی کی تعمیر و ترقی کے کام لیئے ،سابقہ ناظم مصطفی کمال اور ڈاکٹر عشرت العباد اس کی زندہ مثال ہیں ،عشرت العبا�آج بھی گورنر کے عہدے پر فائز ہیں گو ایم کیو ایم ان سے لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے تو ثابت ہوا ہیرا کیچڑ میں گر کر بھی ہیرا ہی رہتا ہے ،اور ایک باوقار ادارے میں بھی مجرمانہ ذہنیت کے لوگ پائے جا سکتے ہیں چاہے وہ ملک کا سب سے بڑا ادارہ پار لیمنٹ ہو چاہے ٓرمی انسٹی ٹیوٹ ۔سول ادارے انصاف کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں ۔حمزہ شوگر مل کے لیئے آٹھ سو ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ جما لیا گیا ہے اور اس قبضے کے عوض معاوضہ ادا کرنے کو بھی تیار نہیں ۔خبر تو یہ بھی ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے پہلے ہی سال ریلوے کو 32.5 ارب
روپے کا نقصان کروایا جو پچھلی حکومت کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ تھا ۔ادھر سندھ حکومت نے کراچی کی لاکھوں ایکڑ اراضی کوڑیوں کے مول لینڈ مافیا کو دے کر کمیشن کھرا کیا لیکن معاملہ کھلنے پر برسوں پرانا خط نکال کر رینجرز کو بدنام کیا گیا جیسے رینجرز جرائم کے خلاف نہیں زمینوں پر قبضے کی جنگ لڑ رہی ہے اب ایک اور خوفناک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ سندھ میں کالعدم تنظیموں نے اپنا نیٹ ورک قائم کر لیا ہے محکمہ انسداد دہشت گردی نے کاروائی شروع کر دی ہے مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے
فیکٹ کے آگے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تنظیموں نے صوبہ سندھ میں ایک نیا نیٹ ورک قائم کر لیا ہے یہ نیٹ ورک دہشت گرد آصف چھوٹو اور چاچا سندھونے تیار کیا ہے۔ٹی ٹی پی کے آصف چھوٹو سمیت دیگر دہشت گردوں کی حالیہ تصویریں دنیا نیوز نے حاصل کر لیں ۔کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں چاچا سندھی گروپ ملوث ہے دہشت گردی کے لیئے چاچا سندھی گروپ کو خلیل نامی،دہشتگرد خود کش بمبار فراہم کرتا ہے جبکہ آصف چھوٹو کو وانا کا حاجی صاحب اور جھل مگسی کا مولوی خالد سپورٹ کرتا ہے ذرائع کے مطابق سانحہ صفورا کا مرکزی کردار القائدہ کا طاہر عرف سائیں بھی آصف چھوٹو گروپ کا حصہ ہے ۔طاہر عرف سائیں 2012 میں بھی گرفتار ہو چکا ہے ۔بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ جب دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں تو وہ واپس کیوں دندناتے پھرتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ گڑ بڑ کہاں ہے ؟مجرموں کو سزا نہیں ملتی اور فورسز خود دہشت گردی کا نشانہ بن جاتی ہیں یہ ایک ایسا زہر ہے جو قوم کی رگوں میں اترتا جا رہا ہے ۔لوگ سوال کرتے ہیں جب کسی کو سزا نہیں ملنی کرپٹ لوگ عیش کرتے ہیں جھوٹ جیت جاتا ہے اور سچائی کی ہار ہے تو پھر کیوں نہ ہم بھی اس کرپشن میں حصہ دار بن کے اپنی دنیا سنوار لیں کل کس نے دیکھی ہے ؟ تو اے میرے ہم وطنو !سچائی کے خلاف پوری قوت سے جنگ جاری ہے ،فوجی عدالتوں کا قیام میرے خیال میں مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے ایک نئی کہانی شائد کل کے اخباروں کی زینت بن جائے ۔پاکستانی فضائیہ کے سویلئن اہلکار سہیل اشرف کی بیوی نے عدالت سے کہا ہے کہ( راولپنڈی
بنچ کے سامنے دائر کی گئی درخواست میں )رولپنڈی میں قائم اس فوجی عدالت نے نہ تو ان کے شوہر کو وکیل کی سہولت دی اور نہ ہی الزامات کی تفصیل (چاج شیٹ ) فراہم کی ہے اس کے باوجود ملزم کے خلاف بد عنوانی کے الزام میں کورٹ ماشل کی کاروائی جاری ہے پاک فضائیہ کے سینئر ٹیکنیشن سہیل اشرف کے خلاف نور خان ائیر بیس میں بدعنوانی اور غبن کے الزامات کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کاروائی کی جا رہی ہے ۔۔۔۔ابھی لوگ کہتے ہیں ادارے کو اپنے اندر بھی کاروائی کرنی چاہیئے لیکن میں دیکھ رہی ہوں کہ یہ ایک ٹیسٹ کیس بننے جا رہا ہے جس کے بعد ادارا جاتی کاروائیوں پہ ضرب پڑے گی اور کرپشن کے خلاف عملی جہاد شائد روکنا پڑے ،گو اس بار کسی این آر او کا خطرا نہیں مگر جال کترنے والے بھی بڑے ہوشیار ہیں ۔۔۔بقول زرداری ہوشیار،ہوشیار ،ہوشیار۔اس کی مزید تفصیلات پھر سہی

یہ بھی پڑھیں  سانگھڑ: اب ریکستانی علاقے کے بچے بھی روشنی میں پڑھیں گے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker