تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

صدائے عِلم……

tajumalکتاب انسان کی بہترین دوست کہلاتی ہے۔کتاب دوستی عصر حاضر میں پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں ٹیکنالوجی کی جدت اور اس کے بے جا اور بے تحاشا استعمال کے باعث کم ہوتی جا رہی ہے جو کہ یقیناًتشویشناک امر ہے۔ کتب بینی جہاں علم کی پیاس بجھاتی ہے وہیں ہمارے طور طریقوں میں بھی نمایاں طور پر اثرانداز ہوتی ہے۔ یہ ایک صحت مند عادت ہے جس کے کم ہوتے رجحان کو روکنے اور نوجوان نسل کی اس کی جانب رغبت کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات مجھ جیسے نوآموز لکھاری بھی پڑھنے سے زیادہ لکھنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ مطالعہ جس قدر کم ہو گا، تحریر بھی اتنی ہی بے اثر اور بے جان ہو گی۔ تحریر کو جاندار اور بااثر بنانے کے لئے گہرے مطالعے اور کتب بینی کی ضرورت ہے۔معروف کالم نویس سلمان عابد لکھتے ہیں ’’لکھنے میں ایک مسئلہ شوق اور جنون کا ہوتا ہے۔ یہ شوق ہر ایک میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ لکھتا ہے اور خواہش رکھتا ہے کہ اس کو پزیرائی بھی ملے۔ لیکن شوق اور جنون کے ساتھ بڑا مسئلہ مطالعہ کا ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس مطالعہ محدود ہے اور علم و فہم میں آپ کمی رکھتے ہیں تو شوق اور جنون کے باوجود اپنی تحریر سے لوگوں کو متاثر نہیں کر سکیں گے۔‘‘
مگر ایسے میں کیا کیا جائے جب نئے لکھنے والوں کی تربیت کے لئے کوئی مناسب انتظام موجود نہ ہو اور اچھا لکھنے والوں کو بھی اخبارات میں مناسب جگہ نہ دی جائے۔ حساس طبیعت کے مالک سمیع اللہ خان نے بھی یہی سب سوچا اور نوجوان نسل کو کتاب کی جانب واپس لانے کا بیڑا اٹھایا۔ وہ علم کے پیاسوں کے لئے بھی فکرمند تھے اور لکھنے کا شوق رکھنے والوں کے لئے بھی کچھ کرنا چاہ رہے تھے۔ لہذا انہوں نے ایک ایسی کتاب مرتب کرنے کا فیصلہ کیا کہ جس میں مختلف کالم نگاروں کی منتخب تحاریر شامل ہوں۔ وہ ’’صدائے علم ‘‘ کو مرتب کر کے اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے اور بتیس لکھاریوں کی تینتالیس تحاریر کو یکجا کر کے اس شاہکار کو تخلیق کیا۔ یہ جہاں نوآموز لکھاریوں کے لئے حوصلہ افزا ہے وہیں نئے لکھنے والوں کے لئے مختلف کالم نگاروں کے طریقہ تحریر پڑھ کر سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔اس میں راقم کی بھی نوجوان صحافیوں کو درپیش مثال سے متعلق دو تحاریر کو شامل کیا گیا ہے جس کے لئے میں سمیع اللہ خان کا ممنون ہوں۔ کتاب میں عبدالستار اعوان، حیات عبداللہ، محمدعتیق الرحمن،مہ جبین ملک، عبدالقادر سہیل ،اختر سردار چوہدری جیسے عمدہ لکھاریوں کی تحاریر بھی شامل ہیں جس سے اسے چار چاند لگ گئے ہیں۔ سچ تو ہی ہے کہ اس کی ہر تحریر اور تحریر کے ہر لفظ سے لکھنے والوں کی لگن اور محنت چھلک رہی ہے ۔
سمیع اللہ خان کی کاوش ’’صدائے علم کے حوالہ سے محترم سلمان عابد کہتے ہیں کہ’’سمیع اللہ خان نے نوجوان لکھنے والوں کے مضامین کو کتابی شکل میں شائع کر کے ان نوجوانوں کی خوب حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان میں بہت اچھے اچھے مضامین بھی شامل ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں لکھنے کا شوق بھی بڑھ رہا ہے اور ان میں محنت بھی ہے۔‘‘
کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تعلیم کے موضوع کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے جو کہ سمیع بھائی کی علم دوستی کی واضح مثال ہے۔
’’صدائے علم کے بارے میں نامور کالم نگار اجمل نیازی کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک اچھی کاوش ہے۔ کالم نگاروں کی دلچسپی کے لئے سمیع اللہ خان نے بڑا کام کیا ہے۔ اپنی اس کتاب کا نام ’’صدائے علم ‘‘ رکھ کر اپنی علمی وابستگیوں کو ثابت کیا ہے۔‘‘
محترم یوسف عالمگیرین کہتے ہیں کہ ’’سمیع اللہ خان کا مؤقف ہے کہ تعلیم میں ترقی کے بغیر ملک کسی شعبہ میں بھی ترقی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ زیر نظر کتاب میں جہاں نوجوان لکھاریوں کی مختلف موضوعات پر تحریریں ہیں وہیں ’’شعبہ تعلیم‘‘ کو بھی خصوصی جگہ دی گئی ہے تاکہ لوگوں کو شعبہ تعلیم سے متعلق نہ صرف یہ کہ ادراک ہو سکے بلکہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہو کہ انہیں بھی اپنے اپنے تئیں مختلف شعبوں کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ ملک دن دگنی رات چگنی ترقی کر سکے۔‘‘
’’صدائے علم‘‘ کو مرتب کرنے والے سمیع اللہ خان کی نوجوان لکھاریوں کے لئے محبت و راہنمائی بلاشبہ قابل تحسین ہے۔ آخر میں میں انہی کے الفاظ شامل کرنا چاہوں گا۔ کہتے ہیں ’’صدائے علم ‘‘ میں اکثریت نو آموز لکھاریوں کی ہے مگر اسی طبقے کے کچھ سینئرحضرات کی تحریریں بھی شامل ہیں تاکہ طفل مکتب اپنی تحریروں کا تقابل کر کے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس وقت مادر وطن کو جہاں اغیار پانامہ لیکس جیسی خرافات کے ’’جھٹکے‘‘ دے رہے ہیں، وہیں کچھ امراء جونکوں کی مانند اس کا خون بھی چوس رہے ہیں۔ کچھ کو اقتدار کی ہوس نے اس قدر دیوانہ کر دیا ہے کہ انہیں خالص مخمل میں بھی ٹاٹ کے پیوند نظر آنے لگے ہیں۔ ایسے نازک دور میں جس زمین کو نوجوان لکھاری میسر ہوں اور ان میں سے اکثر کا موضوع تعلیم ہو تو اُسے کسی صورت ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ہاں سمیع بھائی ! یہ مٹی واقعی بڑی زرخیز ہے ۔ جن لکھاریوں کو آپ سے مہربان اور ہمدرد راہنما دستیاب ہوں جو لکھنے کا سلیقہ بھی سکھائیں اور قدم قدم پر حوصلہ افزائی بھی کریں، انہیں یقیناًناامید نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بھی ایک دن نامور کالم نگاروں میں شمار ہوں گے۔ قارئین کے لئے بتاتا چلوں کہ ’’صدائے علم‘‘ کے بعد سمیع اللہ خان کی اک اور کتاب بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہے جو کہ مکمل طور پر تعلیم کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔ میں سمیع بھائی کے لئے دعاگو ہوں۔ اللہ انہیں مزید ترقیوں سے نوازے۔ آمین۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button