تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

صدارتی الیکشن ۔۔مستقبل کا سیاسی منظرنامہ کیا ہو گا

zafar30جولائی کو ہونے والے صدارتی الیکشن کے لئے جوڑ توڑ کی سرگرمیاں عروج پر ہیں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف اپنے اپنے امیدوار کی کامیابی کے لئے منتخب ایوانوں میں موجودسیاسی جماعتوں اور اراکین اسمبلی سے مسلسل رابطے میں ہیں ۔بتایا جاتاہے کہ منتخب ایوانوں میں اس وقت اراکین کی مجموعی تعداد1123 ہے جس کی رُو سے الیکٹورل ووٹ676 بنتاہے ۔صدارتی انتخاب کے لئے پیپلزپارٹی کے رضاربانی ،تحریک انصاف کے جسٹس (ر)وجیہ الدین اور مسلم لیگ نون کے ممنون حسین سمیت مجموعی طورپر23 اُمیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جن میں الیکشن کمیشن نے بیس امیدواروں کے کاغذات مسترد کردیئے الیکشن سے بائیکاٹ کے پیش نظرپیپلزپارٹی کے اُمیدوار رضاربانی الیکشن کی دوڑ سے باہر ہوگئے جبکہ نون لیگ کے اقبال ظفرجھگڑا نے اپنے کاغذات واپس لے لئے یوں مسلم لیگ نون کے ممنون حسین اورپی ٹی آئی کے جسٹس (ر)وجیہ الدین صدارتی انتخاب میں ون ٹوون مقابلہ کرنے والے امیدوار رہ گئے ہیں۔ اگرچہ عددی اکثریت،پیپلزپارٹی کے بائیکاٹ اور ایم کیو ایم کی جانب سے حمایت کے اعلان کو دیکھتے ہوئے صدارتی الیکشن میں مسلم لیگ نون کے اُمیدوار ممنون حسین کی کامیابی کے امکانات بڑی حد تک واضح ہیں تاہم اس کے باوجود صدارتی انتخاب میں کامیابی نون لیگ کے اُمیدوارکے حصے میں آتی ہے یا یہ معرکہ تحریک انصاف کے اُمیدوار جسٹس(ر) وجیہ الدین جیت کر منصب صدارت پر فائز ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا قابل ذکر یہ بھی کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخواہ کی بڑی اور حکمراں جماعت ہے جبکہ ان کے اتحادی جماعتوں جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی حمایت کے بعدخیبرپختونخواہ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار کو خاطرخواہ ووٹ ملنے کا واضح امکان ہے جس کی پیش گوئی پی ٹی آئی کے رہنماء صوبائی وزیر صحت شوکت یوسفزئی اورکئی دیگرحلقے بھی کرچکے ہیں صدارتی الیکشن کا نتیجہ کیا برآمد ہوگا ہار کس کی ہوگی اور کس کی ہوگی جیت اس کا پتہ تو 30جولائی کو چل جائے گاتاہم صدارتی الیکشن میں کئی سیاسی اُتار چڑھاؤ بھی سامنے آئے ایک طرف پیپلزپارٹی نے صدارتی الیکشن کے لئے الیکشن کمیشن کی جاری کردہ شیڈول جس کے مطابق چھ اگست کی تاریخ مقرر تھی کے خلاف نون لیگ کے سینئر رہنما راجہ ظفرالحق کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے جس میں سپریم کورٹ نے چھ اگست کی بجائے تیس جولائی کی تاریخ مقرر کرنے کاحکم دیاتھاکو یکسر یکطرفہ قرار دیاتھا صدارتی اُمیدواررضاربانی،قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سیدخو رشیدشاہ اورممتازقانون دان اعتزازاحسن نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا تھابعدازاں انہوں نے طویل مشاورت کے بعد اسے ہولی سولی اَنا کا مسئلہ بناکرکہ سپریم کورٹ نے یک طرفہ مؤقف سن کر فیصلہ دیاہے الیکشن سے بائیکاٹ کا اعلان کردیا نے ۔تو دوسری جانب ماضی قریب تک ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے نظرآتی متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ نواز کی سیاست کے موسم میں غیر متوقع قربتوں کی بہار آگئی اور دونوں جماعتیں تلخ وشیریں مراحل سے گزرتے ہوئے اتحاد کے نئے موڑ پر آگئے ہیں۔صدارتی امیدوار ممنون حسین ،وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کئی دیگرپر مشتمل لیگی وفدگذشتہ روز گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے ہمراہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پہنچا تو ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے آراکینِ وفد کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے نون لیگ کے صدارتی اُمیدوار کی بظاہر غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیاجبکہ عام انتخابات جیتنے کے موقع پر نون لیگ کو مبارکباد دیتے ہوئے نواز شریف کو پنجاب کا لیڈر کہنے والے متحدہ کے قائد الطاف حسین کا اب نوازشریف اور شہبازشریف کو اپنے بھائی مانتے ہیں۔ایم کیو ایم اور نون لیگ کی قربت پر ناراض دکھائی دیتی پیپلزپارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے روایات برقرار رکھتے ہوئے حکمراں جماعت کاساتھ دیا۔نون لیگ اور ایم کیو ایم کے ڈیل سے پیپلز پارٹی پر لگے تمام داغ دھل گئے ہیں۔ان کے مطابق اب کراچی آمد پر نوازشریف ایم کیوایم کے خلاف کوئی بیان دیں گے نہ اجمل پہاڑی کے خلاف اور نہ ہی ولی خان بابر کے قاتلوں کے خلاف جبکہ نون لیگ اور ایم کیوایم کے اتحاد سے پیپلز پارٹی پر کوئی اثرنہیں پڑے گا ۔اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ کے مطابق کل تک تو نوازشریف ایم کیوایم کو دہشت گردجماعت قرار دے رہے تھے ۔پیپلزپارٹی کی ناراضگی ،غصہ اور تحفظات اپنی جگہ تاہم لیگی رہنما اوروفاقی وزیر اطلاعات سینیٹرپرویز رشید کا کہنا یہ ہے کہ وہ اپنے اُمیدوار کے لئے ووٹ مانگنے ایم کیوایم کے پاس گئے تھے یہ اُن کا جمہوری حق ہے اور حمایت کرنے پر وہ ایم کیوایم کے مشکورہیں جبکہ سیاسی اُمور کے بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک وفاق میں نون لیگ کی حکومت ہے توکراچی اورحیدرآباد میں ایم کیو ایم کی اکثریت ہے دونوں کے اتحاد کا سیاسی ماحول پر اچھا اثر پڑے گا ۔ گورنرسندھ کا عہدہ اپنے پاس رکھنے سمیت ایم کیو ایم کادیگر معاملات پر بھی گہری نظرہوگی تاہم اس سلسلے میں نواز لیگ کے ساتھ کوئی اُن کی کوئی ڈیل ہوچکی ہے کہ نہیں ابھی کچھ کہانہیں جاسکتا بلاشبہ ایم کیو ایم موقع کی مناسبت سے فیصلے کرتی جماعت ہے چاہے ساتھ پیپلزپارٹی ہو،نون لیگ ہو یا کوئی اور جماعت وہ ہمیشہ اپنی ترجیحات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہے اوریہ سب س

یہ بھی پڑھیں  قصور:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تحریک انصاف کے مقامی رہنما سمیت5 افراد جاں بحق

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker