کالممحمد مظہر رشید

صفائی کہاں؟

چھ حروف سے ملکر بننے والا لفظ ملیریا جس سے تقریباًاب ہر کوئی واقف ہے جی ہاں لفظ ملیریا، اطالوی زبان کا لفظ ہے malaکے معنی گندگی اورa ariکے معنی ہوا کے ہیں
حکیم بقراط (1611ق م)،حکیم کلوس(25ق م)،حکیم جالینوس اور دیگر حکماء نے اپنی اپنی کتب میں ملیریا کا ذکر کیا ہے ڈاکٹر لیوان نے ملیریا کے جراثیم کا پتہ لگایا مزید تحقیق کے بعد ڈاکٹر راس نے دریافت کیا کہ ملیریا کا سبب ایک خاص مچھر ہے جسکا کا نام انا فیلس ہے جب یہ مچھر انسان کو کاٹتا ہے تو اپنے زہریلے جراثیم انسان کے جسم میں داخل کردیتا ہے جس شخص کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے اُسکی فوراً ملیریا ہوجاتا ہے ملیریا دنیا کے ہر ملک میں پایا جاتا ہے خاص کر ایشیا اور افریقہ کے ممالک میں زیادہ ترلوگ اس مرض کا شکار ہوتے ہیں
ہر سال تقریباً دس سے بارہ لاکھ اموات ملیریا سے ہوتی ہیں ملیریا کی مختلف حالتیں ہیں جن کی مدت ایک ہفتے سے لیکر دوماہ تک ہوتی ہے ملیریا کے ابتدائی مرحلے میں مریض کو کپکی لگتی ہے پھر آہستہ آہستہ درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے بالآخر پسینہ کے بعد بخار 100cسے 105cتک ہوسکتا ہے ملیریا کا شکار چھوٹے بچے اور حاملہ خواتین جلد ہوتی ہیں کیونکہ ان میں Immunityکمزور پڑجاتی ہے ملیریا کے شکار مریضوں کا علاج کسی اچھے معالج سے کروانا ضروری ہے سانچ کے قاری حیران ہورہے ہونگے کہ یہ آج سانچ میں کون سا سبق پڑھایا جا رہا ہے جی نہیں میں کچھ نہیں پڑھا رہا میں نے ملیریا کا تعارف اس لیے کروایا ہے کہ ہمارے گاؤں ،شہروں کے گلی محلوں میں بکھرے ہوئے گندگی کے ڈھیر وں نے مجھے مجبور کیا کہ آجکل کے موسم میں یہاں پر پرورش پانے والے مچھر کس قسم کی بیماری پھیلا سکتے ہیں؟ تو مجھے ولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی حالیہ رپورٹ یاد آگئی جس کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ملیریا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد3سے4ملین تک ہے وطن عزیز پاکستان میں بھی ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جسکی سب سے بڑی وجہ صفائی کے ناقص انتظامات ہوتے ہیں ہمارے شہروں میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے عملے کی غفلت سے سڑکوں گلیوں میں پڑے گندگی کے ڈھیر ملیریا کے مچھروں کی آماجگاہ ہیں سیوریج کا سسٹم انتہائی بوسیدہ اور نکارہ ہے شہر کے اکثر گلی ،محلوں میں گندہ سیوریج کا پانی کھڑا رہتا ہے گٹر ابل رہے ہوتے ہیں لیکن ٹی۔ایم اے کا عملہ غفلت کی گہری نیند سورہا ہوتاہے صرف ان علاقوں میں صفائی ہوتی ہے جہاں کے مکین بار بار شکایت لے کر دفاتر کا چکر لگاتے ہیں ملیریا جیسی خطرناک بیماری سے بچاؤ کے لیے مچھروں کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے اور مچھر اسی وقت ہی ختم ہوسکتا ہے جب گندگی کے ڈھیر اور سیوریج کا پانی سڑکوں ،گلیوں میں کھڑا نہ ر ہے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن اوکاڑہ سے گزارش ہے کہ خدارا صفائی کے نظام کو بہتر کریں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں *

یہ بھی پڑھیں  مسکراہٹ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker