تازہ ترینجاوید صدیقیکالم

صحافی عدم تحفظ کا شکار۔۔۔!!

پاکستان کو وجود میں آئے تقریباًچھیاسٹھ سال بیت چکے ہیں لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو متواتر کبھی دھمکی تو کبھی شہید کرنے کا عمل تیز تر ہوتا گیا ہے ، بد قسمتی سے پاکستان کئی بار آمروں کے زیر اثر رہا ہے جس میں کئی مارشلاء اور سیمی مارشلاء آئے اور کبھی بھی عوام نے آمروں کی حکومت کو پسند نہیں کیا۔ دوسری جانب جب بھی جمہوریت نے اس وطن عزیز میں ریاست کے نظام کی باگ دوڑ سنبھالی تب بھی صحافی محفوظ نہ رہ سکا گو کہ حق و سچ کو دبانے کیلئے نہ آمر پیچھے رہا اور نہ جمہوریت کے پاسبان ۔۔۔!! ابتدائی ادوار میں پرنٹ میڈیا نجی سطح پر کام کررہا تھا اور اُن وقتوں میں صحافی برادری میں خلوص، نیت نیتی، سچائی اور فرائض منصبی کے ایماندارانہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرے تھے ممکن ہے اُن وقتوں میں ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی جنھوں نے پاکستان کے وجود میں اپنا خاص کردار ادا کیا ہو اور اُن میں وہ لوگ بھی تھے جن کی تعلیمات و تربیت کا مرکز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تھا ، وقت کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ حقیقی معبود کے پاس جاتے رہے ، اُن کے تربیت یافتہ صحافی آج بھی اُسی قدر جزبہ ایمانی کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کو نبھارہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت ضرورت کے تحت نئے آنے والوں میں کئی صحافت کا اصل عنصر سے ناپید ہیں۔ درحقیقت یہ سلسلہ سابقہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے پروان چڑھا، آپ اپنی حکومت کی بقاء کیلئے ہر جائز و ناجائز کو اپنا لیتے تھے اور منظور نظر کو مالا مال کرکے اُس کا ضمیر خرید لیتے تھے ۔ ضیاء الحق نے اپنے گیارہ سالہ دور آمریت میں جس قدر صحافیوں کو دبوچا وہ تاریخ کا بھانک دور کہلاتا ہے ، صحافی برادری کی تنظیموں میں دراڑیں ڈالی گئیں اور ان کی طاقتوں کو منقسم کردیا گیا ، اس سلسلے میں کئی کو خریدا گیا تو کئی کو صعبتوں جھیلنا پڑیں۔۔ کراچی تا کشمیر صحافیوں کو کمزور کرکے شاہی قلم دان بنانے
کی کوششیں جاری رکھیں اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔۔!! ضیاء الحق ہیلی کوپٹر کے حادثے میں ہلاک ہوئے ۔ پھر جمہوریت نے اپنے قدم رکھے تو ضیاء الحق کی زیادتی اور قفل ان کے اعمال کے سامنے معمولی محسوس ہونے لگے کیونکہ جمہوری حکومتی نے مسلسل صحافیوں، اینکروں، قلم کاروں، رپورٹرز اور مالکان کو نہ صرف مفادات کی چمکتی دمکتی آفریں پیش کیں بلکہ نافرمانی کی بناء پر شہید در شہید کروادیا جاتا رہا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں موجودہ حکومت میں جس قدر میڈیا پرسنوں کو بھاری ترین مالی اعانت میں خریدا گیا ہے کبھی بھی اس قدر بولی نہ لگی تھی اور جو لوگ اس شعبہ کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں انہیں دنیا سے چلتا کردیا جاتا ہے ، قلموں کو خریدنے کا رواج بادشاہوں میں ہوتا تھا شائد یہ جمہوریت کے پردہ میں بادشاہت کرتے ہیں ، کیونکہ اب حال تو یہ ہے کہ اگر کوئی صحافی حکومتی یا سیاسی حقائق کو بیان کرتا ہے تو اس کے بیان سے پہلے ہی اس کا خاتمہ کردیا جاتا ہے چاہے اس کے خاندان پر قیامت ہی کیوں نہ گزرے۔۔!!
یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ اصل واقعات وزیر اعظم و صدر ممکت اور متعلقہ وزراء تک نہ پہنچائے جاتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ نظام کی بدحالی کی وجہ سے حقائق کچھ ہوں اور بیان کچھ کیا جارہا ہو دونوں صورتوں میں ایک بات تو واضع ہوجاتی ہے کہ صحافی عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے۔ بحرحال عوام انتخاب اس لیئے کرتی ہے کہ ان کے لیڈران فلاحی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ کام کریں اور نظام ریاست کا ڈھانچہ ایسا مرتب کریں کہ جس میں نہ صرف صحافی بلکہ عام شہری کو بھی تحفظ حاصل ہو ۔ صحافیوں کو اپنے اندر اتحاد کے رجحان کو بڑھانا ہوگا تاکہ اگر کوئی اپنی قیمت لگا تو اس کا نا صرف بائیکاٹ کیا جائے بلکہ صحافتی تنظیم کی جانب سے صحافتی جرائم پر مبنی کیس دائر کیا جائے تو انشاء اللہ کوئی اپنی قیمت نہ لگا سکے گا ۔ مالکان میڈیا کو چاہیئے کہ وہ اپنے صحافیوں کیلئے مثبت پائیدار لائحہ عمل ایسا بنائیں کہ اگر کسی بھی اشاعتی ادارے یا نشریاتی ادارے پر کوئی زیادتی کرے تو سب کے سب یکجا ہوکر بائیکاٹ کریں اور انصاف کے حصول تک اپنی آواز ایوان سے عدالت تک جاری رکھیں تو ممکن ہے صحافی و میڈیا پرسن کا قتل اور دھمکی کا عمل ضرور بلضرور تھم جائے گا ورنہ ایک وقت وہ بھی آجائیگا کہ صحافی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم کو کر اپنا وجود کھو بیٹھے گا ۔ گزشتہ دنوں میں اے آر وائی نیوز کے دو رپوٹرز شہید کیئے جن میں ایک پشاور اور دوسرا خضدار۔ حیرت کی بات تو یہ ہوئی کہ ہمارا صحافی بھائی شہید کردیا گیا اور ہمارے ہی چھبیس صحافی بھائیوں پر ایف آئی آر کاٹ دی گئی۔۔۔ ایک اچھا عمل یہ دیکھنے میں آیا کہ سی ای او سلمان اقبال نے اس واقع پر سنجیدگی سے نوٹس لیا اور حکوتی ذمہ داروں کی توجہ اس واقع پر دلائی ان کے ساتھ ساتھ اے آر وائی نیوز کے
سینئر ایگزیکیٹو ڈائریکٹر نیوز اویس توحید صاحب پہلی فلائٹ سے کوئٹہ پہنچے، وہاں پہنچ کر آپ نے صحافیوں کے ساتھ احتجاج کیا اور کہا کہ اگر شہید کے حق میں آواز بلند کرنا جرم ہے تو مجھے یہ جرم قبول ہے ، میں کسی گرفتاری سے خوف نہیں رکھتا ، میں مظلوم خاندان کے حق میں اُس وقت تک آواز اٹھاتا رہوناگا جب تک انہیں انصاف نہیں ملتا ۔دو اکتوبر کو پوری پاکستان میں اے آر وائی نیوز کے رپورٹر شہید عبد الحق اور پشاور میں شہید ہونے والے ڈی ایس این جی کے ڈرائیور عامر خان کے انصاف کیلئے احتجاج کیئے گئے ۔ کئی سینئر صحافیوں نے حکومتی عہدیداران کو واضع کیا کہ اگر صحافی و میڈیا پرسن پر حملہ جاری رہا تو پاکستان میں میڈیا اپنا کام کرنا بند کردے گی اور پھر اس احتجاج کو یو این اے کی جانب کردیا جائیگا بہتر ہے کہ جمہوری حکومت صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرے ۔ آج کے ترقیاتی دور میں رابطوں کا عمل بہت تیز تر ہوگیا ہے اس لیئے اُن ادروں کو جو رابطوں کا اہم ترین حصہ سمجھے جاتے ہیں کبھی بھی دبایا یا ختم نہیں کیا جاسکتا ۔
یہ قلم ٹوٹ تو سکتا ہے پر مڑ نہیں سکتا
زبان کٹ تو سکتی ہے پر رک نہیں سکتی
صحافت کو تم کیا جانو اے نادانوں
یہ تاریخ رقم کردیتے ہیں خون انک بہا کے

یہ بھی پڑھیں  پولنگ اسٹاف مہریں لگاتا رہا، پولیس تحفظ دیتی رہی، پرویز الٰہی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker