امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

صحافتی اداروں پر پابندیاں کیوں؟

imtiaz shakirبڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو زرد صحافت تو نظر آتی ہے لیکن پیلی اور کالی کینسر زدہ سیاست نظر نہیں آتی۔صحافی تو سوتے جاگتے پریشان رہتے ہیں کہ اپنی صفوں میں شامل کالی بھیڑوں یعنی زرد صحافت کے علمداروں کا صفایا کس طرح کیا جائے۔جن کی وجہ سے آج ہم ا پنے آپ کو صحافی کہلانے میں شرم محسوس کرتے ہیں ۔راقم نے ابھی چند دن قبل ہی چندولال بوٹی کے نام سے ایک مضمون لکھا تھا جس میں زردصحافت کی پرزور مذمت کی تھی۔مطلب کہ صحافی برادری کو اس بات کا احساس ہے کہ کچھ لوگ صحافت کے نام پراپنی دکان داری چمکاتے ہیں،ٰیہ صحافی نما دکان دارصرف صحافت کے نام پرہی نہیں بلکہ پوری قوم کے نام پر بدنما دھبہ ہیں ۔لیکن مجھے یہ بات کہنے میں ذرہ برابر بھی خوف نہیں کہ زرد صحاف کو فروغ دینے میں بھی کرپٹ سیاست دانوں اور جرائم پیشہ عناصر کا ہی ہاتھ ہے ۔آپ جس جگہ بھی رہتے ہیں اپنے اردگرد نظر دوڑائیں آپ کو راقم کی بات کا ثبوت مل جائے گا۔جہاں بھی کوئی زرد صحاف کاعلمدار موجود ہے اسے کسی نہ کسی بڑی سیاست دان یاجرائم پیشہ افراد کی پشت پنائی حاصل ہوگی یا رشتہ داری ہوگی ،یہ صحافت کے خلاف سیاستدانوں کی سوچی سمجھی سازش ہے کہ حق اور سچ بیان کرنے والے صحافیوں کوکمزور سے کمزورتر کیا جائے اور نام نہاد بکاؤ زرد صحافت کو فروغ دینے کے لیے ٹاؤٹ قسم کے لوگوں کی شعبہ صحافت میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کرواکران کی مالی ماونت کی جائے تاکہ حکمران طبقے کی کرپشن ،جھوٹ اور ہٹ درمی کا پردہ فاش کرنے والے کم اور ان کی جھوٹی تعریف اور کرپشن چھپانے والے ٹاؤٹ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے ۔میں ایسے لوگوں کوصحافی نہیں مانتا جو چند ٹکوں کی خاطر حق چھپاتے ہیں ایسے لوگ جسم بیچنے والی طوائف سے بھی برے ہیں کیونکہ وہ تو صرف اپنا جسم بیچتی ہے وہ بھی مہنگے داموں،لیکن یہ بدبخت لوگ صرف دو سیر آٹے اور چائے کے کپ کے لیے قلم کا غلط استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اپنا بلکہ ملک قوم کا وقار بھی تباہ وبرباد کرتے ہیں۔نہ صرف حکومت بلکہ صحافی برادری کا بھی فرض بنتا ہے کہ زرد صحافت کرنے والے نام نہاد صحافیوں کی پیداوار کو روکتے ہوئے صحافت کو پاک صاف ،حق وسچ پرمبنی بنانے کے لے اپنا کردار ادا کریں۔زرد صحافت کواگر صحافت کا کینسریعنی جان لیوا بیماری کہاجائے تو غلط نہ ہوگا۔کسی بھی بیماری کااعلاج تب تک ممکن نہیں ہوتا جب تک سہی طریقے سے اس کی تشخیص نہ کی جائے ،یعنی اس کی بنیادی وجوحات کا پتہ نہ چلایا جائے ۔ میری نظر میں زرد صحافت کی بنیادی وجوحات میں سیاست دانوں کا اپنی کرپشن چھپانے اور سستی تشہیر کا شوق پوراکرنے کی غرض سے نااہل لوگوں کو صحافتی حلقوں میں شامل کرناہیں ،آج جبکہ زرد صحافت بہت ترقی کرچکی ہے پھر بھی حق اور سچ پرمبنی صحافت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔جس کا ثبوت آپ کو آئے روز اخبارات اور نیوز چینلز پر حکمرانوں کی کرپشن اُوپن ہونے کی صورت میں ملتا رہتا ہے۔عوام کسی بھی صحافی یااینکرپرسن کو جلدی سے بکاؤ کہنے والوں کی بات مان لیتے ہیں یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ صحافیوں کی بھی سو مجبوریاں ہوسکتی ہیں ،ایک صحافی کو ایسا سچ بولنے پر جس میں کسی حکمران یا طاقتورسیاستدان یاپھر جرائم پیشہ عناصر کی کرپشن،دھوکہ دہی یا جھوٹ کاپردہ فاش ہوتا ہو جان تک سے ہاتھ دھوناپڑتے ہیں۔قارئین محترم صحافی طبقہ آج کے ترقی یافتہ دورمیں بھی دور جہالت کی طرح معتبرہونے کے باوجود مظلوم ترین طبقہ ہے۔اس طبقے کو زیراثررکھنے کے لیے حکمران مختلف طریقے اپناتے ہیں جن میں سے ایک کا ذکرمیں اُوپر کرچکا ہوں۔ایک طریقہ صحافتی اداروں کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے حکمران اشتہارات روک کر مختلف پابندیاں لگاکرصحافتی اداروں کو کمزور کرنے کی اکثر کوشش کرتے ہیں جس میں انہیں کافی حد تک کامیابی ملتی ہے ۔جس طرح کہ کچھ عرصے سے کوژک نیوز کے اشتہارات بند ہیں۔راقم بلوچستان کی حکومت کے اس اقدام کی پرزورمذمت کرتاہے۔
گزشتہ روزمیں نے کوئٹہ اورچمن شہر سے شائع ہونے والے روزنامہ کوژک نیوز کے چیف ایڈیٹر محمد اسلم اچکزئی کو ان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اشتہارات کی بندش کی وجہ دریافت کرنے کے لیے فون کیا تو انہوں نے مجھے بڑی تفصیل سے بتایا کہ روزنامہ کوژک نیوزکے اشتہارات کی تاحال بندش صوبائی حکومت کی نااہلی کامنہ بولتاثبوت ہے ،کوژک نیوزپینل ۔ادارہ جب سے اشتہارات بند ہیں تب سے اپنے خرچے پر چل رہاہے ۔کوژک نیوز پرلگنے والی قدغن اور تمام صورتحال سے علاقائی وزراء سمیت تمام پارٹیوں کے رہنمابھی آگاہ ہیں۔نااہل صوبائی حکومت کیجانب سے روزنامہ کوژک نیوزکے اشتہارات کی بندش کی صورت میں ادارہ کوبے باک صحافتی خدمات کی سزا دی جارہی ہے ۔صوبے کے دوسرے بڑے شہراور 12لاکھ آبادی رکھنے والے شہرچمن سے شائع ہونے والاواحدمقبول روزنامہ کوژک نیوزپرصوبائی محکمہ تعلقات عامہ نے اشتہارات کوگزشتہ کچھ عرصے سے بلاوجوازبندکررکھا ہے جس کی وجہ سے ادارہ کوماہانہ لاکھوں روپے کاخسارہ برداشت کرناپڑھ رہا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے گزشتہ روزچمن میں روزنامہ کوژک نیوزپینل نے ایک عوامی سروے کیاجس میں چمن کے ممتازقبائیلی ،سیاسی رہنماوں سمیت تاجربرادری سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے ۔مذمت کرنے والوں میں کلیم اللہ ،داداللہ،حاجی علاوالدین بریال ،حسام الدین سنگر،حبیب اللہ ،عبدالظاہراچکزئی ،قدوس آزاد،وارث خان،گوردن داس ،وارث شامل ہیں ۔شہریوں نے کہا کہ روزنامہ کوژک نیوزصوبے کاواحدعلاقائی اخبارہے جس نے اپنی چارسالہ مدت میں علاقائی مسائل کواجاگرکرنے ،جرائم کی نشاندہی ،فورسسیزکی زیادتیوں ،سمیت ہرمسئلے کوانتہائی ایمان اورسنجیدگی کے ساتھ اُجاگرکیاہے اور عوامی مسائل حکام بالاتک پہنچنانے میں کوئی غفلت اور دیرنہیں کی ہے اور اسی طرح تمام علاقائی سیاسی ،مذہبی ،سماجی تنظیموں کی بھرپوراور بروقت کوریج بھی کی ہے اور اب بھی انتہائی گمگھیرصورتحال میں روزنامہ کوژک نیوزاخبارکی صحافتی خدمات قابل ستائش ہیں لیکن افسوس کیساتھ کہناپڑرہاہے کہ نااہل صوبائی حکومت نے اشتہارات کوصرف اور صرف انتقامی کاروائی کرتے ہوئے بندکررکھاہے کہ آئندہ روزنامہ کوژک نیوزاخبارعوامی مسائل کی نشاندہی نہ کرسکے ۔ سروے میں شامل ہونے لوگوں نے کہا کہ روزنامہ کوژ ک نیوزکے اشتہارات کی تاحال بندش صوبائی حکومت کی نااہلی کامنہ بولتاثبوت ہے لیکن ہم روزنامہ کوژک نیوزکی بے باک صحافتی ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ انتہائی مشکل حالات وماہانہ لاکھوں روپے خسارے کے باوجوداپنی بے باک صحافتی خدمات کوجاری رکھے ہوئے ہیں ۔لیکن افسوس کیساتھ کہناپڑرہاہے کہ روزنامہ کوژک نیوزاشتہارات کی بندش سے علاقے کی تمام وزراء سمیت ، تمام حکومتی سیاسی ،مذہبی ،قوم پرست جماعتوں کے رہنمابھی بخوبی آگاہ ہیں لیکن اس کے باوجودبھی روزنامہ کوژک نیوزکے اشتہارات کی بندش کے حوالے سے خاموشی کاروزہ رکھے ہوئے ہیں جوکہ باعث تشویش اور قابل افسوس ہے اسلم صاحب نے بتایا کہ روزنامہ کوژک نیوزاخباراشتہارات کی بندش کے حوالے سے شہری ایکشن کمیٹی چمن کے زیراہتمام 2بار احتجاجی مظاہرہ بھی چمن شہرمیں ہوا، اور ایک بارچمن پریس کلب اور شہری ایکشن کمیٹی نے ملکربھی احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ہم نے معتددبارمختلف پارٹیوں کے رہنماوں وقائدین کوزبانی ،تحریری طور پر بھی درپیش مسائل سے آگاہ کیاہے ۔ اس وقت روزنامہ کوژک نیوزادارہ کوماہانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزارروپے کے خسارے کاسامناہے اور صوبائی محکمہ تعلقات عامہ کے ڈی جی اسدکامران نے کمیشن کی بنا پر ہمارے اشتہارات کوبندکررکھا ہے۔قارئین محترم میں نے شروع میں سیاست کو پیلی ،کالی اور کینسر زدہ کہاتھااس حقیقت سے آپ بھی اچھی طرح واقف ہیں سیاست میں مخالفین پرکس قدر کیچڑاچھالا جاتا ہے اور جب وہی مخالفین سیاسی رفیق بنتے ہیں توپھر دودھ دھلے ہوجاتے ۔راقم کواس بات کا قوی یقین ہے کہ اگر سیاست کوگندے لوگوں سے پاک کردیا جائے توزرد صحافت اپنی موت آپ مرجائے گی۔خیر یہ موضوع بہت وسیع ہے زندگی رہی تو اس موضوع پر بات ہوتی رہے گی ۔آج میں صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری سے اس اُمید کے ساتھ کہ جس طرح وہ پچھلے پانچ سال سے ہماری جائز ناجائز تنقید بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے آرہے ہیں اسی طرح میری اپیل بھی رد نہیں کریں گے ،اپیل کرتا ہوں کہ صدر پاکستان کوژک نیوزکے اشتہارات کی بندش کا فوری نوٹس لیں اورصوبائی حکومت کو حکم صادر کریں کہ کوژک نیو زکے اشتہارات فوری طورپر بحال کیے جائیں

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:حویلی لکھا کے چک اکبر کی بھینی میں زمین کے تنازعہ پر دو گروپوں میں فائر نگ، پانچ افراد قتل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker