شہ سرخیاں

سہارا

article_logoتحریر۔۔۔ شیخ توصیف حسین ۔ جھنگ

ایک کہاوت ہے کہ ایک بااثر شخص جو کہ شراب کا عادی تھا اعلی ولایتی شراب کے حصول کی خا طر اس نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آ فیسر سے ساز باز ہو کر شراب کا پر مٹ اپنے ایک جا ننے والے عیسائی کو بنوا کر دے رکھا تھا تاکہ وہ کسی انٹر نیشنل ہوٹل سے ایک نمبر ولایتی شراب بغیر کسی ڈر اور خوف کے لا کر اُسے دے سکے قصہ مختصر عیسائی اُسے انٹر نیشنل ہوٹل سے ایک نمبر ولایتی شراب حسب عادت لیکر اُس بااثر شخص کو دیتا رہا لیکن اس کے ساتھ ساتھ عیسائی خود ساختہ تیار کی گئی ولایتی شراب جس کے پینے سے انسان کے گردے اور پھیپھڑے تباہ و بر باد ہو جاتے ہیں مختلف افراد کو سستے داموں کھلے عام فروخت کرتا رہا جس کی اطلاع محکمہ پولیس کے عملہ کو ہو گئی جہنوں نے بڑے ڈرامائی انداز میں چھاپہ مار کر لاتعداد خود ساختہ تیار کی گئی ولایتی شراب برآ مد کر کے عیسائی کے بیٹے کو گرفتار کر لیا جبکہ عیسائی موقعہ سے فرار ہو کر بااثر شخص کے ڈیرے پر پہنچ کر اسے چھاپے کی تفصیلات بتانے لگا جس پر بااثر شخص نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس عیسائی کو مختلف موذی امراض میں مبتلا شو کر کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں داخل کروا دیا لیکن مذکورہ ہسپتال میں عیسائی کا داخلہ چھاپے سے ایک روز قبل کا بنوا دیا تاکہ پولیس اس عیسائی کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے سے قاصر رہے دوسرے دن بااثر شخص اس عیسائی کو ملنے کیلئے مذکورہ ہسپتال پہنچا تو اُس نے عیسائی کو کہا کہ اگر محکمہ پولیس کا عملہ آپ سے کہے کہ آپ مائی مریم کی قسم اٹھا ؤ کہ آپ چھاپے کے دوران موقعہ پر تھے یا نہیں تو کیا آپ مائی مریم کی جھوٹی قسم اُٹھا دو گے سزا سے بچنے کیلئے جس پر بد نام زما نہ منشیا ت فروش عیسائی نے بااثر شخص کو بڑے غور سے دیکھتے ہوئے کہا کہ میں عیسائی ہوں مسلمان نہیں جو اپنے ذاتی مفاد کے حصول کی خا طر آئے روز اپنے پیارے نبی حضور پاک کی جھوٹی قسمیں اُٹھاتے ہیں میں ہر سزا کاٹ سکتا ہوں لیکن مائی مریم کی جھوٹی قسم نہیں اٹھا سکتا بالکل اسی طرح ایک اور کہا وت ہے کہ ایک شخص بہتر مستقبل کے حصول کی خا طر بیرون ملک گیا جہاں وہ محنت مزدوری کے عوض کمائی گئی دولت غیر مسلم کے پاس بطور امانت رکھتا رہا وقت مہینوں اور سالوں میں گزرتا گیا بالآ خر اس شخص کو اپنے وطن کے ساتھ ساتھ اپنے عزیز و اقارب کی یاد آئی جس پر وہ شخص اپنی محنت مزدوری سے کمائی گئی دولت لینے کیلئے اس غیر مسلم شخص کے پاس پہنچا تو اُس نے اسے دولت دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ تم نے مجھے کوئی دو لت جمع کرنے کیلئے دی ہی نہیں یہ سن کر وہ شخص پریشانی کے عالم میں رونے لگ گیا اور روتے ہوئے اس غیر مسلم شخص کے پادری کے پاس پہنچ گیا اور اُسے اس سارے ماجرے سے آ گاہ کیا جسے سننے کے بعد پادری نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر کچھ لکھا اور اسے اس شخص کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا اس شخص کے حوالے کر دو وہ شخص کاغذ کا ٹکڑا جو کہ لپٹا ہوا تھا غیر مسلم شخص کے پاس لیکر پہنچ گیا غیر مسلم شخص نے اس کا غذ کے ٹکڑے کو کھولا تو روتے ہوئے گھر کے اندر گیا اور اس شخص کی جمع کی گئی دولت اٹھا کر اس کے حوالے کر دی جس پر اس شخص نے تعجب خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ اس کاغذ کے ٹکڑے پر کیا لکھا تھا کہ تم فوری طور پر میری سالوں کی کمائی گئی دولت واپس کرنے پر تیار ہو گئے ہو جس پر غیر مسلم شخص نے اس شخص کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پادری نے کاغذ کے اس ٹکڑے پر لکھا تھا کہ کیا تم مسلمان ہو گئے ہو ان کہاوتوں کو سننے کے بعد میں اکثر سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سو چتا رہا کہ کیا ہم مسلمانوں کا اتنا گھناؤنا کردار ہے کہ غیر مسلم افراد بھی ہمیں ہتک آ میز نظروں سے دیکھتے ہیں یا پھر ان کی منافقانہ سوچ کا نتیجہ ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے محسوس ہوا کہ وطن عزیز میں لاتعداد افراد ایسے ہیں کہ جن کے منہ مو مناں اور کرتوت کافروں جیسے ہیں جو مسلمانوں کا لبادہ اُوڑھ کر راتوں رات امیر سے امیر تر بننے کے خواب کی تکمیل کے حصول کی خا طر ظلم و ستم لوٹ مار اور ناانصا فیوں کی تاریخ رقم کر کے مذہب اسلام کو بد نام جبکہ انسانیت کی تذلیل کرنے میں مصروف عمل ہیں جس کے نتیجہ میں لا تعداد مظلوم افراد بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بن کر خود کشی جیسے اقدام کرنے پر مجبور ہو کر رہ گئے ہیں یہاں مجھے ایک ایسا ہی واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ میں گزشتہ روز سٹی ہسپتال جھنگ شہر پہنچا تو وہاں پر سٹی ہسپتال جھنگ میں تعنیات درجہ دوئم کا ملازم فیاض محمود مذکورہ ہسپتال کے ایک کو نے میں بیٹھا زاروقطار روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اے پروردگار مجھے موت دے دے اس سے بڑھ کر میں کوئی اور صدمہ برداشت نہیں کر سکتا جس کو یوں آہوزاری کرتے ہوئے دیکھ کر میں نے اس سے پو چھا کہ تمھارے ساتھ اس قدر ظلم و ستم کس نے کیا ہے کہ تم موت کی دعا مانگ رہے ہو جس پر اس نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا کہ میں پانچ بچیوں کا باپ ہوں خداوندکریم نے مجھے اولاد نرینہ سے محروم رکھا لیکن میں اپنی کم تنخواہ کے باوجود اپنی بچیوں کی پرورش بمشکل طریقے سے کر رہا تھا کہ اسی دوران مجھے اپنی بچیوں کی شادی کرنے کی فکر لاحق ہوئی میں اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ ایک دن جھنگ شہر کا امیر ترین شخص طارق اقبال شمش میرے پاس آ یا اور آ کر کہنے لگا کہ میں نے سر گو دہا روڈ پر ایک عالیشان پرائیویٹ ہسپتال تعمیر کروانا ہے لہذا اگر تم میری معاونت کرو تو میں اس کا باقاعدہ آپ کو معاوضہ دوں گا یہ سن کر میرے چہرے پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی چونکہ میں اس معاوضہ کے بل بوتے پر اپنی بچیوں کی شادی احسن طریقے سے کر سکوں گا یہ سوچ کر میں نے اس کی معاونت کی فوری حامی بھر لی دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں گزر گئے بالآ خر میری رات دن کی انتھک کاوشوں کے بدلے تین منزلہ ہسپتال جس کا نام اقراء میڈیکل کمپلیکس ساڑھے تین سال کے بعد تعمیر ہو گیا میں خوش تھا کہ اب مجھے ساڑھے تین سال کا معاوضہ جو کہ تقریبا سات لاکھ روپے بنتا ہے مجھے مل جائے گا جس پر میں نے مذکورہ شخص سے معاوضہ مانگا تو وہ وعدے پر وعدہ کرنے لگا لیکن ایک دن وہ مجھے معاوضہ دینے سے صاف مکر گیا یہ سن کر میں حیران و پریشان ہو گیا اور بالآ خر میں انصاف کے حصول کی خا طر عدالت پہنچ گیا جس پر عدالت عالیہ نے صہیح صورت حال جاننے کیلئے تھانہ سٹی سے رپورٹ طلب کر لی تفشیشی آ فیسر نے نہ صرف مجھے بلکہ مذکورہ شخص کو تھانے طلب کر لیا تو مذکورہ شخص امیر ترین ہونے کے سبب مجھے تفشیشی آ فیسر کے روبرو نہ صرف غلیظ گالیاں دینے بلکہ قتل کروا دینے کی دھمکیاں دینے لگ گیا آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ میرے پاس اپنے وکیل کو دینے کی فیس بھی نہیں ہے اور ویسے بھی ہم جیسے غریبوں کو انصاف نہیں ملتا لہذا اب دل چاہتا ہے کہ میں خود کشی کر لوں چونکہ میں اب کسی طریقے سے بھی اپنی بچیوں کی شادی نہیں کر سکوں گا اس سے بہتر ہے کہ مر کر ہمیشہ کیلئے غموں سے چھٹکارا پا جاؤں اس بے بس انسان کی ان باتوں کو سننے کے بعد میں خداوندکریم سے یہی دعا مانگتا ہوا واپس آ گیا کہ اے خداوندکریم تو ہی ان جیسے لاتعداد افراد کا واحد سہارا ہے یہ تیری ہی مدد کے طلبگار ہیں اور تو ہی ان کا وسیلہ ہے اور تو ہی ہے ان امانت میں خیانت کرنے والے جو دولت کے نشہ میں بد مست ہو کر ظلم و ستم کی تاریخ رقم کرنے میں مصروف عمل ہیں کو کیفر کردار تک پہنچا نے والا
بالآ خر ظلم و ستم کی زنجیریں پگھل ہی جائے گے یاروں
میں تو بے رحم وقت کی تقدیر کو بدلنے کیلئے چلا ہوں یاروں

یہ بھی پڑھیں  کراچی : نجی سکول میں دھماکےکا ڈراپ سین ،طالبعلم نے خود پٹاخہ پھوڑا

note