ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

صحافت اور صحافی

ma tabsumموجودہ دور میں معمولی پڑھا لکھا شخص کچھ نہ کچھ علم رکھتا ہے اور کسی نہ کسی میدان میں اپنے آپ کو منوانے میں کوشاں ہے ذیادہ تر دیکھا دیکھی میں ایک دوسرے کی نقل کرتے ہوئے اپنے آپ کو کسی نہ کسی صف میں شامل کرنے کی کوشش میں ہے کچھ ناکام کچھ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ در پردہ کسی اور کے سہارے اپنے آپ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا مقام اور مفاد حاصل کرنے کی کوشش میں نہ جانے کن سچے جھوٹے اور من گھڑت قصے کہانیوں کی بدولت لوگوں کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہوتے ہیں اور بظاہر بڑے محنتی ،دیانتدار اور شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے نظر آتے ہیں اسی طرح صحافت بھی ایک معزز پڑھا لکھا اور محب وطن پیشہ ہے جو کہ تمام تر آسائشوں سے بالا تر ہو کر بلا تفریق خدمت خلق اور لوگوں میں شعور کے ساتھ ساتھ آگہی پیدا کرنے کا نام ہے۔اس پیشے میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ شامل ہیں اور ہو رہے ہیں کچھ شوق کے ہاتھوں مجبور کچھ روزی روٹی کی خاطر اور کچھ صرف نام کمانے اور کچھ لوگ اپنے آپ اور اپنی کرپشن چھپانے کے لیے اس پیشے سے وابستہ ہیں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کہ ان تمام باتوں سے ہٹ کر معمولی پڑھا لکھابظاہر دانشور ،معزز، اور منجھا ہوا شریف صحافی کے طور پر جانا جاتا ہے مگر در پردہ بہت سی قباحتیں لیے ہوئے ہوتا ہے خود لکھنے پڑھنے سے قاصر ہوتا ہے مگر آپ کو محسوس تک نہیں ہونے دیتا اور زبانی جمع خرچ سے آپ کو مطمن کر کے صرف اور صرف پیدا گیری ،بلیک میلنگ اور اثر رسوخ بنا کر مختلف مفاداتی کام سر انجام دیتاہے اور خود شایددر پردہ کسی چوکیداری یا نائب قاصد جیسی ملازمت سے وابستہ ہو مگر اپنے آپ کوعام لوگوں کے سامنے ایک پڑھا لکھا اور منجھے ہوئے صحافی کے طور پر پیش کرے۔ صحافت ایک معزز، ذمہ دارانہ پیشہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مشکل ترین کام ہے اور بعض اوقات جان سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں۔صحافی معاشرے کی آنکھ کا کام کرتے ہیں اور صحیح کاموں کے ساتھ ساتھ غلط اور برے کاموں کی نشاندہی بھی کرنی ہوتی ہے اور ملکی صورتحال کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بہتری کے پیش نظر حقائق سامنے لانا ہوتے ہیں جبکہ کچھ صحافی برائے نام کسی اخبار،رسالے،جریدے سے وابستہ ہو کر اور اپنی صحافتی دھاک بٹھا کر پیدا گیری اور مختلف محکموں سے مفاد حاصل کرتے ہیں اور اپنے مفاد کے ساتھ صحافت کو گڈ مڈ کر کے مختلف حیلوں بہانوں سے اپنی دیہاڑی لگانے کے چکروں میں رہتے ہیں اور لوگوں کے چندے سے اپنے آپ کو صحافتی طور پر پیش پیش رکھتے ہیں حالانکہ صحافی کو کسی لالچ یا مفاد سے غرض نہیں ہونی چاہیے بلکہ صحافی ایک دیانتدار اور بے غرض قسم کا پیشہ ہے جو کہ صرف اور صرف مفاد عامہ کے لیے کام کرتا ہے۔مفاد پرست اور لالچی قسم کے صحافی اپنے ساتھ چند ایک ایسے لوگوں کو ملا لیتے ہیں جن کا صحافت کی الف ب سے دور تک واسطہ نہیں ہوتا اور ان لوگوں کی معاونت سے مختلف حیلے بہانوں سے سادہ لوح لوگوں کو پھنسا کر ان کو مشکل سے نکالنے ان کا سہارا بننے اور مختلف محکموں میں ان کی سفارش کرنے جیسے سہانے سپنے دکھا کر چند ٹکے وصول کرتے ہیں اور اس طرح کئی لوگوں سے خرچہ پانی کے نام پر رقم بٹور لیتے ہیں اور پھر خبروں کا سہارا لے کر انھیں مطمن کرتے رہتے ہیں ایسے افراد معاشرے میں بلکہ صحافت پر بد نما داغ ہیں اور ان کا شمار لٹیروں اور ٹھگوں میں ہوتا ہے ایسے بہت سے صحافی آپ کو ملیں گے جو کہ اپنی صحافت کے نام پر آپ پر رعب ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنے اثر و رسوخ کی من گھڑت داستانیں سناتے ہیں اور اپنے اسی فن کی بدولت قائل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور لوگ آنکھیں بند کر کے ان پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے ان کی ضروریات کو پورا کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ کسی صحافی کو اپنی پہچان کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ خود بخود اس کے کام اس کی گواہی دیتے ہیں اور ایک معزز صحافی صحافت کو برائے خدمت کے طور پر سرانجام دیتا ہے مگر پیشہ ور پیداگیر صحافی خود لوگوں کو قائل کر کے اپنے جال میں پھنساتا ہے اور اپنا مفاد حاصل کرتے ہوئے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ایسے نام نہاد صحافیوں کا محاسبہ ہونا چاہیے جو صحافت کے نام پر لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں یہ اب لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایسے مفاد پرست صحافیوں پر نظر رکھیں اور ان کا محاسبہ کرتے ہوئے انھیں منطقی انجام تک پہنچائیں اور ایسے صحافیوں کو معاشرے میں رسوا کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے کنارہ کشی کریں تا کہ ایسے صحافی آپ کی مجبوری اور سادگی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔note

یہ بھی پڑھیں  دبئی میں پاکستان سپرلیگ کی ٹرافی کی تقریب رونمائی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker