کالموزیر مہر

جمہوریت میں صحافت کا کردار

جمہوریت اور صحافت ایک دوسرے کے لیئے لازم و ملزوم ہے کیونکہ جمہوریت میں اتار چڑہائو آتا رہتا ہے جس کے لیئے صحافت ان کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کر کے ان کو اپنی غلطیوں کا آئینہ دکھاتی ہے بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جمہوریت محدود وقت تک رہی جس کو بھی صحیح انداز میں چلنے نہیں دیا گیا اور فوری طور پر جمہوریت کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے جمہوری ادارے کبھی اپنی غلطیوں کی وجہ سے تو کبھی حزب اختلاف کی طرف سے بیجا مداخلت اور تنقید برائے تنقید کی جاتی ہے ۔گو کہ حکومت سے بھی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور اسٹیبلشمینٹ بھی حکومتی غلطیوں کو مذید بڑہاوا دیتے ہوئے اگر حکومت ان کے اشاروں پر چلتی ہے تو ٹھیک ورنہ وہ بھی زیرِ زمین حزب اختلاف سے مل کر حکومت وقت کو مذید پریشان کرتی ہے ۔اس سارے عمل میںصحافت اپنا وہ کردار ادا کرتی ہے جو انہیں کرنا چاہیئے ،کہتے ہیں کہ ملک چار ستونوں پر چل رہا ہے جن میں مظبوت ستون صحافت کا ہے ،کیونکہ صحافت وہ چیز ہے جو حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور عوام کے مسائل اپنی اخباروں کے ذریعے حکومتی ایوانوں تک پہنچاتے رہتے ہیں، جس سے عام آدمی کے مسائل کسی حد تک حل بھی ہوجاتے ہیں ،صحافت حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے آج کل صحافی حد سے زیادہ بڑہ گئے ہیں جس کی وجہ سے حقیقی صحافی کچھ پیچھے چلے جارہے ہیں۔جبکہ صحافی آج بھی اپنی جان جوکھے میں ڈال کر معاشرے میں پھلی ہوئی برایوں کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے حکومتی ایوانوں تک پہنچاتے ہیں ،اور صحافی مظلوم کی داد رسی تک چین سے نہیںبیٹھتا جمہوری حکومت میں عوام کے مسائل حل ہونے میں بھی صحافیوں کا اہم کرادار ہوتا ہے ۔کیانکہ صحافت بھی جمہوری حکومت کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے صحافت کے بغیر جمہوریت بھی بے مزا نظر آتی ہے ،اس لیئے کہا جاتا ہے کہ صحافت اور جمہوریت ایک دوسرے کے لیئے لازم اور ملزوم ہوتی ہے ۔جبکہ صحافی جوکہ کافی حد تک بغیر معاوزا کام کرتے ہیں جبکہ کچھ ادارے اپنے صحافیوں کو تنخواہیںدیتے ہیں،جبکہ ملک میں پاکستان کی تاریخ میںزیادہ وقت آمریت مسلط رہی جس کی وجہ سے جمہوریت کی بساط لپٹی رہی اس دوران صحافت پر بھی آمریت کی تلوار لٹکتی رہی اور صحافت مرعوب ہوتی رہی کیونکہ اس آمریتی دور میں صحافت اپنے قلم کو صحیح طریقے سے استعمال نہیںکرتی تھی کیونکہ خبروں پر سنسر کی تلوار ان کے اوپر لٹکتی رہتی تھی جس کی وجہ سے صحافی اپنے قلم کو آزادی سے استعمال نہیں کرتے تھے ۔جمہوری دور میں صحافت کا قلم آزادی سے چلتا ہے جس کی وجہ سے عام طور پر عام افراد کے مسائل صحافت کی معرفت حل ہوجاتے ہیں ،صحافت ویسے تو ایک عبادت سے کم نہیں مگر صحافیوں کا آپس میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت اور جمہوریت کی خوبصورتی ہے ۔جبکہ جمہوریت کی  مضبوطی میں بھی صحافت کا عمل دخل ہے جب ملک میں جمہوریت ہوتی ہے تو صحافت بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہے اس لیئے کہتے ہیں کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیئے آزاد اور صاف شفاف صحافت وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  یہ قوم ،کسی مسیحا کی منتظر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker