بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

عرفان قریشی ۔۔۔صحافتی دنیا کا انمول ہیرا

bashir ahmad mirدنیا بھی عجیب رنگ و روپ کی ماخذ ہے۔یہاں جو آیا اسیاس جہاں کو ان جانے میں ایک دن چھوڑنا پڑتا ہے ۔ہم لوگ بھی کتنے سنگ دل ہیں کہ ہمیں اپنے انجام کی خبر ہونے کے باوجود خاک نشین ہونا ہے۔ایک مفکر کا زندگی بارے حیرت انگیز تجزیہ ملاحظہ ہو ’’ انسان کی عملی زندگی ساٹھ برس ہوتی ہے جس میں سے بیس برس لڑکپن ،نوجوانی اور پھر جوانی آخر کار بڑھاپا گھیر لیتا ہے جس دوران انسان زندہ بشکل مردہ ہی رہ جاتا ہے ۔ یوں ساٹھ سال کو اس طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے کہ بیس برس جوانی ،بیس برس سوتے گذر جاتے ہیں جبکہ دس برس شادی و بچوں کی نگہداشت ،بقیہ دس برس کا سارا کھیل انسان اس فانی دنیا میں کھیلتا ہے ‘‘۔اگر غور کیا جائے تو ہم کس قدر بے خبر اور مدہوش ہیں کہ صرف دس برسوں کے لئے اس دنیا کے تانے بانے ،دوڑ دھوپ اور کھنچا تانی میں گذارتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ ’’ساماں سو برس کا پل کی خبر نہیں ‘‘درست حقیقت ہے ۔لیکن جو لوگ دنیا کی فریبی سے نکل کر حقیقت آشنا ہوتے ہیں ان کی زندگی ان کے دنیا چھوڑ جانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے ۔یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب انسان حقیقت شناس ہو جائے ۔بے شک ہر ذی روح نے موت کا مزا چکھنا ہے ۔آج ہم جس دور سے گذر رہے ہیں ہمیں واضح دکھائی دے رہا ہے کہ ہم موت سے بے خبر دنیا پرستی کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہوس دنیا کا شکار ہیں لیکن خال خال کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی سیرت و صورت ہمارے دلوں میں بسیرا کئے ہوئے تا دم قائم رہتی ہے ۔یہ وہ شخصیات ہوتی ہیں جو انسانیت کی بھلائی ،خوشحالی اور غمی و خوشی میں اپنا مختصر زندگی کا سفر جاری رکھتے ہوئے ہمیشہ یاد گار بن جاتے ہیں ۔تمہید و غرض قلم کاری آج ایک ایسی شخصیت سے کرنا مقصود ہے جو واقعی دلنشین ،دلربا اور دلوں پر راج کرنے والا تھا جسے عمر کے صرف 44سال نصیب ہوئے اور اسے بچھڑے ایک سال بیت گیا اور ہماری عمر فانی کا ایک سال بھی کم ہوگیا۔صحافت عظیم جذبہ عمل ہے جس سے انسانیت کے خد و خال نکھرتے ہیں ۔صحافی ایسا مجاہد ہوتا ہے جو گم گشتہ علم کی پاسبانی کرتا ہے جس کی زبان و قلم حق و صداقت کا علم بلند کرتی ہے ،تہذیب و تمدن کے پاسبان،قوم و ملت کے سرمایہ یہی لوگ ہوتے ہیں انہیں مال دنیا سے رغبت نہیں بلکہ انسانیت کی بھلائی و فلاح ان کا مشن ہوتا ہے ۔صحافت کے محافظ قوم کا اثاثہ اور مستقبل کے امین ہوتے ہیں ،جو اس کڑی میں پروے جاتے ہیں انہیں ہوشمند قوم ہمیشہ یاد رکھتی ہے ۔
آج سے ایک سال قبل پاکستان اور آذادکشمیر کے شہرت یافتہ سنیئر صحافی محمد عرفان قریشی ہزاروں دوستوں ،بہی خواہوں اور عزیز و اقارب سے جدا ہوئے۔محمد عرفان قریشی نے محمد بشیر قریشی کے گھر آنکھ کھولی ۔تعلیم سے فراغت کے بعد شعبہ صحافت سے وابستہ ہو کر ملک کے بڑے روزنامہ ’’خبریں‘‘ کے ریذیڈنت ایڈیٹر تک ترقی کے منازل جس تیز رفتاری سے طے کئے یہ ان کا نصیب تھا۔جہاں وہ ایک فرمانبر دار بیٹا،مشفق باپ ،گھر کا سرتاج ،مہربان بھائی ،وفا کرنے والا دوست تھا وہیں اس کا ایک صحافی کی حیثیت سے بڑا نام بھی تھا۔
میرا عرفان قریشی سے 1994ء میں کوٹلی میں ابھرتے ہوئے صحافی کی حیثیت سے شروع ہونے والا یارانہ تادم رہا ۔کوٹلی سے لیکر اسلام آباد ،راولپنڈی اور مظفرآباد تک ان کی معیت میں صحافتی تعلق بے شمار یادیں چھوڑ گیا۔چونکہ راقم اس دوران سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا پریس سیکرٹری تھا تو اس مناسبت سے ان کے ساتھ قریباً روزانہ نشست و بر خاست رہی ۔ان کی انسان دوستی میری زندگی کا
ناقابل فراموش رفاقت کا خزینہ رہا۔2004ء کے اواخر میں عرفان قریشی صاحب بحیثیت ڈپٹی ایڈیٹر روز نامہ خبریں مظفرآباد تعینات ہوئے تو سب سے پہلے انہوں نے مجھے ڈھونڈااور میں ان کی ایڈیٹر شپ میں ضلع ہٹیاں بالا کا بیورو چیف رہا،2005ء میں جب زلزلہ آیا تو کمونیکشن سسٹم نہ ہونے سے ان کے ساتھ قریباً ایک ماہ تک رابطہ نہ ہو سکا ۔تاہم جب مواصلاتی رابطہ استوار ہوا تو ان سے جب موبائل پر میری پہلی گفتگو ہوئی تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ شکر ہے کہ تم زندہ ہو !پھر مجھے فوراً راولپنڈی آنے کا مشورہ دیا۔جب میں راولپنڈی انہیں ملنے پہنچا تو انہوں نے مجھے کمیٹی چوک ملنے کے لئے بلایا ۔وہاں ایک دفتر کا سیٹ اپ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا اور سب سے پہلے انہوں نے چیف ایڈیٹر( روز نامہ جموں کشمیر) عامر محبوب صاحب سے متعارف کروایا اور مجھے کہا کہ ہم ایک روزنامہ(جموں کشمیر) شروع کر رہے ہیں اور آپ کو انچارچ ایڈیٹوریل رکھیں گے ،میں نے حامی بھر لی ،چونکہ زلزلہ میں میرے والدین کی شہادت ہونے کے بعد کاروبار اور ذریعہ معاش یکدم ٹھپ ہو چکا تھا ،میرا انہوں نے اس مشکل گھڑی میں جو ساتھ دیا وہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا ۔یقیناعامر محبوب صاحب اور امتیاز بٹ صاحب کا بھی مجھ پر کافی احسان و اعتماد شامل رہا ،عرفان قریشی صاحب جو روزنامہ جموں کشمیر میں بحیثیت جوائنٹ ایڈیٹر فرائض انجام دے رہے تھے ان کے ساتھ انتہائی احسن انداز میں صحافتی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ پھر عرفان قریشی صاحب بحیثیت ایڈیٹر روزنامہ کائنات میں جب تعینات ہوئے تو ان کی خواہش پر میں ساتھ رہا،بعد ازاں یہ صحافتی تعلق جب وہ روزنامہ خبریں میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر بنے قائم رہا۔الغرض عرفان قریشی کی انسان دوستی سے میں معترف ہونے کی وجہ سے کافی مانوس رہا۔یہ تو ان کا میرے ساتھ حسن سلوک تھا جبکہ ان کے ہزاروں دوستوں کا جمع غفیر انکی شخصیت سے متاثر رہا۔یہی وجہ تھی کہ جب ان کا رخت سفر کا مرحلہ آیا تو کوٹلی میں ان کو ہمیشہ کے لئے رخصت کرنے کے لئے انسانوں کا سمندر موجود دیکھ کر سمجھ آئی کہ عرفان قریشی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ایک اور واقعہ بھی سنانے کے لائق ہے کہ جب وہ مظفر آباد تھے تو اس دوران پی پی پی کے رہنا و ممبر کشمیر کونسل سید شوکت نقوی کی اطلاع ملی کے وہ بم دھماکہ میں چل بسے ہیں ۔سید شوکت نقوی بھی ہمارے اچھے رفیق کار تھے ان کی رحلت کی خبر سن کر اچانک صدمہ ہوا اسی دوران میں عرفان قریشی صاحب کے پاس چلا گیا تو انہوں نے شوکت نقوی کی رحلت پر اپنا ردعمل کچھ اس طرح دیا’’کہ میں سوچتا ہوں کہ جب روح قبض ہوتی ہے تو اس وقت انسان پر کیا بیتی ہو گی اور مرتے وقت کیا عجیب کیفیت رونما ہوتی ہو گی ‘‘ یہ بات کہہ کر عرفان قریشی گہری سوچ میں ڈوب گے جیسے سکتا طاری ہو جاتا ہے ۔جب میں ان کے خصائل کا ذکر کرتا ہوں تو میں بڑا حیران ہوتا ہوں کہ عظیم شخصیات کی سوچ و فکر و عمل عام لوگوں سے منفرد و بے مثل ہوتی ہے ۔عرفان قریشی ملنسار،ہمددر،مخلص ،خدا ترس،مثالی رفیق انسان تھے ۔ان کا دسترخوان اپنے بہی خواہوں اور دوستوں کے لئے ’’داتا کی نگری کا فیض‘‘ تھا۔
آج انہیں ہم سے بچھڑے ایک سال گذرا ہے لیکن دل نہیں مانتا کہ وہ ہم سے جدا ہوئے ہیں ۔اللہ رب ارض و سماء ان کی قبر اطہر کو جنت کی خوشبوؤں اور تجلیات ربانی سے منور فرمائے ۔ان کے بچوں کی اعلی تربیت اور اپنے شفیق باپ سے زیادہ فضل و کرم کی برسات سے نوازے ۔ان کے والد گرامی کو اس خلاء کے بدلے اپنی عنایات عطا کرئے۔ان کے بھائیوں کو حفظ و اماں میں رکھے اور ان کے ہمددر کزن جاوید ہاشمی کو ترقی کی منازل سے سر فراز فرمائے جنہوں نے ان کے آخری ایام میں ان کی زندگی کی بھیک مانگنے لے لئے شب و روز تمام تر وسائل کو بروے کار لایا اور ان کی یاد میں روز نامہ آذادی کا اجراء کیا۔عرفان قریشی کی پہلی برسی پر ان کے چاہنے والوں کو بھی اللہ رب عزت ایسے اوصاف سے نوازے جو ان کی زندگی کامرکز و محور رہے آمین۔صحافت پاکیزہ پیشہ پیغمبری ہے جس نے اس عظیم پیشہ سے تعلق دیانت داری سے قائم رکھا وہ یقیناًہمیشہ کی زندگی حاصل کر گیا۔یہی سبق عرفان قریشی کی زندگی کا ماحاصل تھا جسے ہم فقیر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہر انسان نے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے وہی سدا زندہ رہتا ہے جو قول فعل میں مثالی حیثیت رکھتا ہو ۔جس کا کردار عمدہ اور اخلاقی معیار بلند تر ہو۔عرفان قریشی پر اللہ رحمتوں کا نزول فرمائے جنہوں نے اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے وقف کیا اور آج جو ان کے پرستاران کی یاد کر رہے ہیں وہ لوگ بھی عظیم المراتب ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں اللہ ہمیں نیک اور با کردار انسان بنائے تاکہ جو شمع عرفان قریشی نے جلائی تھی وہ کبھی بجھنے نہ پائے۔آخر میں ساحر لدھیانوی کے اس شعر سے اختتام کرتا ہوں کہ
لو اپنا جہاں دنیا والو ! ہم اس دنیا کو چھو ڑ چلے
جو رشتے ناتے جوڑے تھے ،وہ رشتے ناتے توڑ چلے
کچھ سُکھ کے سپنے دیکھ چلے،کچھ دکھ کے سپنے جھیل چلے
ہر چیز تمہاری لوٹا دی،ہم لے کے نہیں کوئی ساتھ چلے
پھر دوش نہ دینا اے لوگو!ہم دیکھ لو خالی ہاتھ چلے
یہ راہ اکیلی کٹتی ہے، یہاں ساتھ نہ کوئی یار چلے
اُس پار نہ جانے کیا پائیں،اس پار تو سب کچھ ہار چلےnote

یہ بھی پڑھیں  بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ،پاکستان کی دوسری فتح

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker