ساحر قریشیکالم

اقبال تیرے نسخے کی ضرورت ہے آج پھر

حکیم الامت  شاعر مشرق  مفکر پاکستان  ڈاکٹر شیخ  محمداقبال (رح)  9 نومبر 1877ئ  کو سیالکوٹ سے ایک دینی گھرانے میںپیدا ہوئے علامہ اقبال کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔علامہ اقبال کے ایک بھائی عطائ محمد اور چار بہنیں فاطمہ بیگم ،کریم بیگم ،طالع بیگم اور زینب بیگم تھیں ان کے جدا امجد کا نام شیخ صالح تھا جو نام کی طرح نیک اور صالح ہی تھے گھر کے دینی ماحول نے علامہ اقبال کے کردار پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول سیالکوٹ میں حاصل کی۔جہاں انکو شمس العلمائ میر حسن جیسے دیندار اور عالم و فاضل استاد کی رہنمائی کا شرف حاصل ہوا۔1895ئ میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا داخلہ لیا جہاں وہ فلسفہ کے مشہور استاد اور علی گڑھ کے ایک پروفیسر ٹامس آرنلڈ کے شاگرد بن گئے۔بی اے کا امتحان نمایاں پوزیشن میں پاس کرنے پر انہیں دو طلائی تمغے ملے اور اس کے علاوہ وظیفہ بھی ملا۔1899ئ میں انہوں نے فلسفہ میں ایم اے کیا اس کے بعد پہلے اورینٹل کالج لاہور اور بعد میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھانے لگے۔وہ1905ئ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا وہاں انہوں نے اپنے پرانے اور شفیق استاد سرٹامس آرنلڈ کے علاوہ پروفیسر برائون اور پروفیسر نکلسن جیسی شہرہ آفاق شیخصیتوں سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔انہوں نے جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور کیمبرج یونیورسٹی سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی ۔کیمبرج یونیورسٹی میں علامہ اقبال نے پروفیسر آرنلڈ کی جگہ طلبہ کو عربی زبان اور ادب کا درس دیا۔اسی زمانے میں سید امیر علی نے مسلم لیگ کی لندن برانچ قائم کی تھی۔اس کی ورکنگ کمیٹی کے علامہ اقبال بھی رکن بنے ۔یورپ میں قیام کے دوران علامہ اقبال کو سب سے زیادہ فائدہ یہ حاصل ہوا کہ انہوں نے مغربی تہذیب وتمدن کے گھنائونے پہلو اور وطنی قومیت کے مضمر اثرارت کا بھرپور مشاہدہ کیا جس نے ان کی سوچ کا رخ ہی بدل دیا۔وہ جولائی 1908ئ کو واپس لاہور آگئے اسلام کی محبت اور مذہب سے وابستگی ان کو وارثت میں ملی اور مغربی علوم اور مغربی فلسفہ کی تکمیل انہوں نے مغربی درستگاہوں میں اقبال کی شخصیت ان دونوں کا مجموعہ تھی ۔انگلستان سے واپسی پر علامہ اقبال نے پنجاب چیف کورٹ میں پریکٹس شروع کردی۔ساتھ ہی انہوں نے گورنمنٹ کالج میں فلسفہ پڑھانا شروع کردیا یہ کام انہوں نے کچھ دیر بعد چھوڑ دیا۔جنوری 1923ئ میں برطانوی حکومت نے اقبال کی علمی فضلیت کے اعتراف میں سرکا خطاب دیا۔علامہ اقبال نے سرکا خطاب اس شرط کے ساتھ قبول کیا کہ شمس العلمائ کا خطاب مولوی میر حسن صاحب کو بھی دیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہواآپ نے 21اپریل 1938ئ کو وفات پائی اور بادشاہی مسجد کے زیر سایہ حضوری باغ میں سپرد خاک ہوئے۔وفات کے وقت آپ کی عمر60سال 5ماہ اور12دن تھی علامہ اقبال موسیقی اور قوالی کے دلدادہ اور بزرگان دین کے حالات میں گہری دلچسپی رکھتے تھے آپ نے تمام عمر درویشانہ بسر کی آپ علم و عرفان حکمت و دانائی کے درخشندہ ستارے اور رفعتوں او عظمتوں کے آفتاب و مہتاب اور ملت اسلامیہ کے محسن سرمایہ مسلمانان برصغیر کے غمخوار اور تصور پاکستان کے خالق بلند پائیہ شاعر نامور فلسفہ عالمی مدیر امت مسلمہ کے لیے افتخار تھے آپ نے اپنی رفعت خیال قوت بصیرت اور اعلیٰ ذوق عملی سے برصغیر کے مسلمانوں اور مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کران کے اندر قومی انفرادیت اور ملی تشخیص کا شعور بیدا ر کیا۔آپ نے نہ تصور پاکستان پیش کیا بلکہ اس تصور کو ایک ٹھوس نظریہ کے طور پر پیش کرکے ایک علیحدہ اور خود مختار مسلم مملکت کا مطالبہ پیش کیاعلامہ اقبال کو پاکستان کے بانیوں کی فہرست میں نہایت اہم اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔کچھ اشعار اقبال (رح) کی نظر
اقبال (رح) تیرے نسخے کی ضرورت ہے آج پھر
بے چین بے قراریہ امت ہے آج پھر
کرپشن کی پلوشن سے دم گھٹ رہا ہے
کیسے جئے قوم بے ہمت ہے آج پھر
یورپ کی نقل میں بے پردہ ہونہ جائے
روشن خیال ہونے کو عورت ہے آج پھر
تیری ہی سوچ سے یہ دیس بن گیا
تیرے ہی دیس میں بغاوت ہے آج پھر
حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں رات دن
ساحراسی لئے توذلت ہے آج پھر
15دسمبر1918ئ کو آپ نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے مشاعرے میں جو پنجاب پبلسٹی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے پہلی جنگ عظیم کی فتح کی خوشی میں لاہور میں منعقد ہوا تھا۔میں نظم’’شعاع آفتاب‘‘پڑھی انہوں نے فارسی زبان میں بھی شاعری کی۔اقبال کے عقیدہ کے مطابق صرف اسلام ہی ایک حقیقت ہے جو بنی نوع انسان کے لیے نقطہ نگاہ سے موجب نجات ہوسکتی ہے 1924ئ میں ان کی نظم’’طلوع اسلام‘‘نے دینائے اسلام سے وابستگی کو پوری طرح نمایاں کردیا1928ئ میں ان کے خطابات مدارس میں ایک کتاب شائع ہوئی انکی دیگر کتابوں میں اسرار خودی ،رموز بیخودی پیام مشرق بانگ درا ،زیور عجم جاوید نامہ ،بال جبریل ،ضرب کلیم اور ارمغان حجاز قابل ذکر ہیں انہوں نے فلسفی اور شاعر ہونے کے باوجود جب بھی ضرورت محسوس کی عملی سیاست میں حصہ لیا انہوں نے 1916ئ میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان طے پانے والے میثاق لکھنو پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا کیونکہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کو اکثریتی صوبوں میں بھی موتر اقتدار نہیں ملتا تھا متحدہ قومیت کے تصور کو وہ مسلمانوں کیلئے نقصان دہ سمجھتے تھے 1926ئ میں وہ لاہور کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بہت سے مفید قوانین کی تیاری میں حصہ لیا 1927ئ میں سر محمد شفیع کی قیادت میں مسلم لیگی گروپ کے جنرل سیکرٹری بنے نہرو رپورٹ کی اشاعت پر انہوں نے سخت احتجاج کیا انہوں نے دسمبر1928ئ میں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اس کانفرنس کے اختتام پر قائداعظم محمد علی جناح(رح) کے مشہور14نقات پیش کئے گئے۔اور مسلم لیگ کے دونوں گروپ بھی یکجا ہوگئے دسمبر1930ئ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ الہٰ آباد میں علامہ اقبال نے اپنا تاریخی خطبہ صدارت دیتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ اور خود مختار وطن کا تصور پیش کیا۔اس خطبہ میں انہوں نے یورپ کے وطین اور قومیت کے تصور کی نفی کی کیونکہ اس میں وہ فرقہ وارانہ مسائل کا مستقل اور پائیدار حل نہ تھا انہوں نے فرمایا یہ امر کسی طرح بھی نامناسب نہیں کہ مختلف ملکوں کے وجود کا خیال کئے بغیر ہندوستان کے اندر ایک اسلامی ہندقائم کیا جائے میری رائے میںآل پارٹیز مسلم کانفرنس کی قراردادوں سے بھی اسی نصب العین کی تائید ہوئی ہے بلکہ ذارتی طور پر تو میں ان مطالبات سے ایک قدم آگے بڑھنا چاہتا ہوں میری خواہش ہے کہ پنجاب سرحد سندھ اور بلوچستان کو ملام کر ایک ریاست بنادیا جائے انہوں نے یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے خواہ اس کے باہر مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کو بالاآخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرسکے اس لئے مسلمانوں کے اندر احساس ذمہ داری قوی ہوجائیں گے۔اور ان کا جذبہ حب الوطنی بڑھ جائے گا علامہ اقبال نے فرقہ وارانہ مسائل کے حل کیلئے صوبوں کی ازسرنو حدبندی کی تجویز پیش کی اس سے مخلوط جداگانہ نبابت کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا انہوں نے نیم وفاق کی تجویز کو بھی مسلمانوں کیلئے ناپسند کیا۔اس کو ہندوئوں اور انگریزوں کی ملی بھگت قراردیا۔اور اعلان کیا کہ مسلمان وفاق کو مسترد کردیں گے جس میں انہیں پنجاب اور بنگال میں بھی جداگانہ انتخاب کے ذریعے اکثریت اور مرکز میں ایک تہائی نمائندگی حاصل نہ ہو۔انہوں نے سندھ کو بمبئی سے علیحدگی اورصوبہ سرحد میں آئینی اصلاحات کے نفاذ کے مطالبات کی پرزور حمایت کی اور اس بات کو واضح کیا کہ اگر مسلمانوں کے جائز مطالبات پورے نہ کئے گئے تو وہ متحدہوکر آزادانہ سیاسی قدم اٹھائیں گے انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی منشتر قوتوں کو جمع کرنے کیلئے دین اسلام کے اصولوں کو اپنائیں علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد برصغیر کی جدید مسلم تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے یہ خطبہ پاکستان کے تصور کی بنیاد بنا اور مسلمان قوم نے اپنے عظیم مفکر کے خیالات کو فوری کارروائی دینے پر سرتوڑ کوششوں کے بعد اپنی مراد کو پالیا۔مگر آج18کروڑ عوام کو حضرت علامہ محمد اقبال کی سوچ اور حب الوطنی کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں بدامنی رشوت اور کرپشن سے نجات ملے اور علامہ اقبال اور قائداعظم کی سوچ کا پاکستان نظر آئے۔﴿پی ایل آئی﴾

یہ بھی پڑھیں  کس کے سر کی قیمت؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker