ساحر قریشیکالم

صحافت کا عالمی دن اور پاکستانی صحافت

صحافت کوریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔صحآفی کوبددیانت نہیں ہونا چاہیئے۔یہ پیغمبری پیشہ ہے۔جوصحافی اپنے پیشے سے بددیانتی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے زندگی میں ہی عبرت بنا دیتا ہے۔صحافیوں کودرپیش مسائل پر کڑنے والا شخص حامدمیربین الاقوامی شہرت یافتہ اینکرپرسن ہونے کے باوجودخودکوایک کارکن صحافی ہی خیال کرتا ہے۔حامدمیرجوکسی لگی لپٹی کے بغیرسچ بول کر مخاطب کوحیران کردیتا ہے۔حامدمیرکے مطابق بدقسمتی سے آج پراپرٹی ڈیلراور سیٹھ لوگ صحافت کے میدان میں کودپڑے ہیں۔ایک اخباری جریدے کوانٹرویومیں کہتے ہیں کہ میڈیا میں بھی منافقت ہے صرف سچ پرچلتا توکب کا پھڑک چکا ہوتا۔قلم کی عصمت ماں بہن کی عصمت سے بھی ذیادہ قیمتی ہے نوجوان صحافیوں کوچاہئے کہ وہ اخباربدلیں،شعبہ بدلیں،اردوسے انگلش میڈیم میں چلے جائیں لیکن کبھی قلم کی عظمت کوفروخت نہ کریں۔دوسری طرف کل ہی کی بات ہے کہ میں اپنے دوست اورسینئرصحافی حافظ عبدالرزاق کے ساتھ پریس کلب کے کمپیوٹرسیکشن میں بیٹھا تھا کہ ایک صاحب آئے۔اور حافظ عبدالرزاق سے کہنے لگے’’لوجی تہاڑا بھراوی صحا فی بن گیا جے‘‘ حافظ عبدالرزاق نے پوچھا کہ بھائی کون سے اخبار میں کام کررہے ہوتوان صاحب نے اپنی شلوارکی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک پریس کارڈنکال کر کہا کہ خود ہی دیکھ لو۔حافظ عبدالرزاق نے کہا مبارک ہواب توہماری چائے بنتی ہے ناں؟وہ صحآفی صاحب چائے لینے گئے توحافظ عبدالرزاق میری طرف ہنستے ہوئے بولے کہ ساحرصاحب یہ ہے آج ہماری صحافت کا معیار !ان صحافی صاحب کویہ تک نہیں پڑھنا آتا کہ اس کوچند سوروپے کے عوض کس اخبار کا کارڈجاری ہوا ہے۔کاش پریس کارڈ جاری کرنے والے صاحبان یہ بھی بتا دیا کریں کہ صحافت ایک مسلسل امتحان ہے۔جوہرلمحہ اورروزانہ صحافیوں کونہ صرف پاس کرنا پڑھتا ہے بلکہ تلوار سے تیزدھار کہلانے والی اور تیرکمان سے نکل کر تیرکی مناسبت رکھنے والی خبرسے بھی نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔راقم قلم اٹھانے پر اس لئے مجبورہوا کہ آج جوحال صحافت کا ہورہا ہے اگریہی سلسلہ رہا توآنے والے دنوں میں ریاست کا یہ چوتھا ستون تباہی کی طرف نہ صرف سفرکریگا،بلکہ صحافت میں بھی لوگ انقلاب کی باتیں کریں۔آج کے دورمیں جب پاکستان کی صورت حال اس قسم کی ہے کہ ہرفردصحافت کالبادہ اوڑھ کر دوسرے کواپنے زیرسایہ کرنے کی سوچ رکھتا ہے۔صحافیوںکوبڑے طاقتورلوگوںکوناراض کرکے جینا بھی پڑتا ہے۔ان کوسب سے بڑا امتحان اپنے ہی پیشے کے ان دوستوں کے ہاتھوں دینا پڑتا ہے ۔جوجونیئرکوآگے بڑھتا دیکھ نہیں سکتے۔اور وہ ان ظالموں کا بڑے پن میں جن کے ہاتھ نہ صرف اس قوم کی لوٹی ہوئی دولت سے رنگے ہوتے ہیں۔بلکہ اپنا وقت نکالنے میں یہ ماہر افسران تصورکئے جاتے ہیں۔میں بھی اسی کا شکار اپنے دوستوں سے ہوا ہوں۔لہذا کسی اور سے گلہ کیا۔۔۔۔۔!!!جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں۔اس معاشرے کا ہرتیسرا فردآج اپنے کالے دھندے کوسفیداور اپنی کرتوتوں کومعاشرے کی آنکھ بنانے پرلاکھوں روپے لگانے کوتیار ہے۔صحافی بلا شبہ معاشرے کی آنکھ ہیں مگرآج اس آنکھ کو 10نمبرکی عینک لگا کرسرعام اس کا سودا کیا جا رہا ہے۔ملک بھرمیں رجسٹرڈ صحافیوں کی تعداد20سے 25ہزار بتائی جاتی ہے۔جن کے معاش کا مکمل انحصارصحآفت پرہے۔یہ وہ صحافی ہیں۔جودفاترمیں ڈائریکٹ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔مگرفیلڈمیں موجود صحآفی جوعلاقائی سطح پر کام کررہے ہیں۔ان کی تعدادکوشمارکرنا کافی مشکل کام ہے۔کیونکہ ہرتیسرا فردکسی نہ کسی اخبار کا کارڈسینے پرسجائے معاشرے میں اس عظیم پیشے کی خوب ’’آتما‘‘رول رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق 50فیصدوہ صحافی ہیں جوڈائریکٹ اداروں کے تنخواہ دار ہیں۔اس وقت معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔مگردوسری طرف اداروں کوچھوٹے سے چھوٹے مسائل پرخبریں دینے والے وہ صحآفی جودن رات محنت کرکے اپنے مضافات کی خبریں اپنے اداروں کوبھیجتے ہیں مگران کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے۔یہ لوگ بغیرکسی معاوضے کے خبر کو اس کی اصل اہمیت کے مطابق اداروں میں بھیجتے ہیں۔جس کے بعد ان کے ہاتھ توکچھ نہیں لگتا مگرادارے اس سے بہت کچھ کماتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ہائی پوٹینشن اور بلڈپریشر جیسے موذی امراض جو صحافیوں میں سب سے ذیادہ پائے جاتے ہیں۔اورجوکسی بھی وقت جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔پھربھی لوگوں تک خبرپہنچانے میں اپنا
کردار ادا کرتے ہیں۔مگراداروں تک پہنچانے میں چاہے وہ خبر پرنٹ میڈیا کی ہویا الیکٹرونک میڈیا کی 80سے 90فیصدلوگ ایسے ہیں جواپنی جنم کنڈلی پر چھائے ہوئے کرپشن ،بدعنوانی،بلیک میلنگ اور سیاہ دولت کوسفیدبنانے کے لئے ریاست کے چوتھے ستون کی چھائوں میں بیٹھ کربہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھونے کا دھندہ کررہے ہیں۔علاقائی سطح پراگرصحافیوں کی بات کی جائے توشیخوپورہ کوسامنے رکھتے ہوئے بات کرونگا۔یہاں لگ بھگ ایک ہزار کے قریب صحافی بھائیوں کی تعدادہوگی جومختلف اخبارات ،ٹی وی چینلزاور نیوزایجنسیزسے وابستہ ہونگے۔میرے نقطہ نظرکے مطابق ﴿اختلاف رائے کا قارئین کوحق حاصل ہے﴾چارقسم کے لوگ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔اول طبقہ ان لوگوںکا ہے جن کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا سب کچھ ہے مگر شوق صحافت نے ان کواس میدان میں کودنے پر مجبورکیا دوسرے وہ لوگ ہیں جواپنی کسی نہ کسی کاروباری کرپشن کوچھپانے کے لئے صحافت کا جھنڈا اٹھائے میدان عمل میں ہیں۔اس کے بعدتیسری قسم ان افراد کی ہے جن کا اوڑھنا بچھونا صرف صحافت ہے۔بس بند لفافے اٹھائے ،تھانے کچہریوں کی چودھراہٹ کی کسی نہ کسی محکمہ سے ٹیکہ لگایا اور عزت کے ساتھ خوب روزی کمائی اور اگرکوئی اس میں حائل ہوا وہی سب سے برا اور اس کا دشمن ہوگا۔چاہے وہ اس شعبے میں اسی کا اپنا ساتھی ہی کیوں نہ ہو۔چوتھا وہ طبقہ ہے جو پڑھا لکھا اور جستجوکرنے کا عادی ہے جواگرکسی ٹی وی چینل یا اخبار سے منسلک ہوجاتا ہے توپھراس کی شامت آجاتی ہے۔کہ وہ خبریں لائے ،سٹوریاں چھاپے اور اس کی سزا تمام صحافی برادری میں اس کا بائیکاٹ کرکے پریس کلب میں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس کی ممبرشپ تک بھی نہیں کی جاتی۔بلکہ صحافتی شعبے کے ٹھیکیداروں میں یہ بدنام زمانہ کا تغمہ بھی وصول کرتا ہے۔اپنے اعمال کوسامنے رکھتے ہوئے ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمیں آخرکیا چاہئے ہمیشہ کا ٹھکانہ صرف اور صرف چندگززمین ۔۔۔۔۔۔!سارا مال جودنیا میں دونوں ہاتھوں سے لوٹا ادھرہی رہ جانا ہے ۔ہمیں کوئی یادبھی نہیں کریگا۔یہاں تک کہ ہمارے اپنے ہی ہماری قبروں کوبھول جائینگے۔خداکے کے لئے صحافت کوزردصحافت میں تبدیل مت کریں۔اس کے اصل وقاراور دبدبہ کوقائم رکھنا ہوگا۔پاکستان میں صحافت کوریاست کا چوتھا ستون قراردیا جاتا ہے۔مگریہ عملا چندافرادکے لئے ٹورٹپے ،منفعت بخش کاروبار اور مقامی سطح پرسیاہ کوسفیدکرنے کے علاوہ کچھ حیثیت نہیں رکھتانظرنہیں آتا۔میری اس رائے سے بعض لوگ اختلاف بھی کرینگے۔جوان کا حق ہے مگر میرے دل کی آوازاور ضمیر کا بوجھ اس قلم کے ذریعے آپ تک پہنچانا میرا فرض تھا۔جوپورا کررہا ہوں صحآفیوں کو معاشرے کی آنکھ کان اور ذبان بھی کہا جاتا ہے۔مگر معاشرے کی آنکھ سے دیکھے اور کان سے سنے ہوئے سچ کو سننے کی صلاحیت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے مگردوستوںیاد رکھنا یہ سب حکمران اور افسران اسی کوحقیقی صحافت مانتے ہیں۔جوان کوپسند ہوباقی سب زرد صحافت میں شمارکرتے ہیں۔حالانکہ یہی لوگ نجی محفلوں میں ان حقائق کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔مگرمعاشرے کے سامنے اس سچ کو زرد صحافت کا نشان دیا جاتا ہے۔آج کے دورمیں کرپشن،رشوت خوراوربددیانتی سے لتھڑے ہوئے آج کے محتسب کس منہ سے احتساب کا نام لے سکتے ہیں۔بس اتنا یاد رکھیں کہ ہمارے ہاتھ میں ریاست کے چوتھے ستون کا اٹھائے رکھنے کی چابی ہے۔اور اس چابی کوچندسکوں اور جھوٹی حرام کی کمائی کوتحفظ دینے کے لئے مت بیچ دینا یہی صحافت کا اصل پیغام ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاک جرمن تجارت۔

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. قریشی صاحب آپ کا مضمون دل کو چھو کے نکل گیا ۔۔۔بہرتین تحقیق اور تجزیہ ہے ۔ میں آپ کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں

  2. قریشی صاحب آپ کا مضمون دل کو چھو کے نکل گیا ۔۔۔بہرتین تحقیق اور تجزیہ ہے ۔ میں آپ کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker