تازہ ترینعلاقائی

ساہیوال: جعلسازوں نے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے اہم منصوبے ای خدمت سنٹر کو ناکام بنانے پر کمر کس لی

ساہیوال( بیورورپورٹ) جعلسازوں نے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے اہم منصوبے ای خدمت سنٹر کو ناکام بنانے پر کمر کس لی۔ڈرائیونگ لائسنسوں پرجعلی ٹکٹ لگائے جارہے ہیں۔پوسٹ آفس میں کرپشن کا ٹھاٹھیں مارتا ہواسمندر رواں دواں۔اوپر تک پہنچ کے دعویدار اسسٹنٹ ارشد نے نیٹ ورک قائم کررکھا ہے ۔پارسل آفس سے لاکھوں روپے کی غیر قانونی ممنوعہ ادویات برآمد ‘نائٹ پوسٹ آفس میں بجلی کے بلوں پر جعلی مہریں لگائی جارہی ہیں جنرل پوسٹ آفس جعلسازوں کی آماجگاہ بن گیا۔مختلف شعبے کرپشن کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے میدان میں اتر آئے۔ذرائع کے مطابق جنرل پوسٹ آفس ساہیوال میں غیر قانونی سرگرمیوں کی سرپرستی کیلئے اسسٹنٹ ارشد نے ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل دے رکھا ہے ۔گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کروڑوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے ای خدمت مرکز سنٹر فرید ٹاؤن کا افتتاح کیا جہاں شہریوں کو تمام سہولیات ایک ہی چھت نیچے فراہم کی جارہی ہیں ۔ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کیلئے آنے والوں کو محکمہ ڈاکخانہ کا دوسرے سکیل کا ملازم سٹیمپ وینڈر شہزاد جعلی ٹکٹیں فروخت کرتاہوا پکڑ لیاگیا ۔ای خدمت مرکز کے انچارج کیپٹن مدثر اورڈی ایس پی ٹریفک ریاض احمد چوہدری کو اطلاع موصول ہوئی کہ ای خدمت مرکز میں تعینا ت عملہ سادہ لوح شہریوں کے ڈرائیونگ لائسنسوں پر جعلی ٹکٹیں چسپاں کررہا ہے جس پر کارروائی کرتے ہوئے سٹیمپ وینڈرشہزاد کے قبضہ سے جعلی ٹکٹ ڈرائیونگ لائسنس برآمد کرتے ہوئے اسے مزید کارروائی کیلئے اس کے اصل محکمہ پوسٹ آفس کے حوالے کردیاگیا ۔چیف پوسٹ ماسٹر فضل الرحمن نے میڈیا کو بتایا کہ جعلی ٹکٹوں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کیلئے تحقیقات جاری ہیں جبکہ فرانزک ٹیسٹ کیلئے ٹکٹ گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کراچی بجھوائے جارہے ہیں۔آڈیٹر بلال کمبوہ نے بتایا کہ جنرل پوسٹ آفس کے شعبہ پارسل میں عملہ کی ملی بھگت سے غیر قانونی جعلی ممنوعہ ادویات کی وسیع پیمانے پر بکنگ کی جارہی تھی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اورضلعی انتظامیہ کی معاونت سے کارروائی کرتے ہوئے لاکھوں روپے کی ممنوعہ جنسی ادویات برآمد کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔اس موقع پرمیڈیا کی نشاندہی پر چیف پوسٹ ماسٹر فضل الرحمن نے اقرار کیا کہ نائٹ آفس میں بجلی کے بلوں کی وصولی کے دوران جعلسازی کی اطلاعات حقیقت پر مبنی ہیں تاہم اس گفتگو کے دوران وہ جی پی او آفس میں موجود طاقت ور نیٹ ورک کے مقابلہ میں انتہائی کمزور دکھائی دیتے ہیں ۔پوسٹ آفس ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسسٹنٹ ارشد نے جی پی اوکے مختلف شعبوں میں اپنے بااعتماد ساتھیوں کو اہم پوسٹوں پر تعینات کروارکھا ہے ۔ایسے اکثر شعبوں میں غیر قانونی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں ۔ڈرائیونگ لائسنس کے جعلی ٹکٹ ،پارسل آفس سے بلا چیکنگ غیر قانونی اورممنوعہ ادویات سمیت مختلف قابل اعتراض اشیاء کی آزادانہ نقل و حمل اورنائٹ پوسٹ آفس میں آنے والے سادہ لوح شہریوں سے بجلی کے بلوں کی وصولی اوربلوں پر جعلی مہریں لگانے جیسے معاملات کیلئے اسسٹنٹ ارشد پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔عوامی وسماجی حلقوں نے وزیر اعظم پاکستان ‘وفاقی وزیر ڈاکخانہ ‘وفاقی محتسب ‘پوسٹ ماسٹر جنرل سمیت متعلقہ حکام سے نوٹس لیکر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ساہیوال : شہر کے مختلف علاقوں میں بھینس کالونی قائم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker