تازہ ترینذیشان انصاریکالم

شعور پیدا کررئے۔

zeshanاکیسویں صدی میں جتنی تیز ی سے ٹیکنالوجی نے ترقی کی ، اس سے زیادہ تیزی سے سماجی رابطوں۔۔کاروبار۔۔افراتفری۔۔جھگڑوں اور جرائم نے ترقی کی۔سابقہ ادوار میں اگر کوئی کاروبار شروع کیاجاتا تو اس کی کامیابی کا انحصار سب سے زیادہ سامان کی کوالٹی۔۔دوکاندار کے گاہکوں سے اچھے رویے۔۔آپسی تعلقات پرہوتا۔ اور صرف چند سویا ہزارلگا کر ایک اچھا سا بورڈ بنوایا جاتااور تھوڑی بہت ایڈورٹائزمنٹ بھی کروائی جاتی، مگر یہ آٹے میں نمک کے برابر ہی ہوتی۔ اورکوئی بھی نیا کاروبار 2 چار سال بعدترقی کی منازل طے کرنا شروع کرتااوراپنے محلہ۔۔گلی۔۔بازار۔۔ٹاؤن۔۔دیہات۔۔ قصبے۔۔ شہر۔۔تحصیل اور ضلع میں نام بنانے میں کامیاب ہوتا،بہت کم سرمایہ دار صوبے ۔۔ملک یا براعظم میں اپنے کاروبار کا نام پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے۔مگر اس دور میں ایک کاروبار ایسا بھی تھا جس میں صرف چند سو یا ہزار لگا کر دنوں میں ترقی حاصل کرلی جاتی۔ یہ کاروبار عاملوں۔۔پیروں۔۔نجومیوں کا تھا۔ جس میں چند ایجنٹوں کے ذریعے علاقہ میں جاہلی عاملوں وغیرہ کے کرامات کی تشہرکروائی جاتی، اور ایجنٹ گلی محلوں میں گھوم کرمصیبت کے شکارسادہ لوح افراد کو تلاش کرتے اور ان کی جیبوں کو خالی کرواتے۔
قارئین آجکل شوشل میڈیاکا دور ہے ۔ yahoo اورGmail کادور ختم ہونے والا ہے۔ شوشل میڈیا کا استعمال ایک خاکروب سے لیکرامریکی صدر۔۔برطانیوی ملکہ تک سب استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔
شوشل میڈیا کے استعمال کی طلب تو ہر کسی کو ہوتی ہے۔ ضلعوں ۔۔تحصیلوں میں تو انٹرنیٹ باآسانی میسر آجاتا ہے مگردیہاتوں۔۔قصبوں میں ابھی تک پاکستانی عوام گیس۔۔بجلی۔۔سیوریج۔۔ٹیلی فون اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ ایک طرف دنیاچاند اور مریخ پر رہائش کرنیکی پالیسیاں بنارہی تو دوسری طرف ہمارا پیارا پاکستان ہے جس نے بھارت۔۔چین اور بنگلہ دیش سے قبل آزادی حاصل کی وہ ابھی تک صاف پانی کے حصول میں کامیاب نہ ہوسکا،
قارئین اب ہم اپنے موضوع جاہلی عاملوں کی طرف واپس آتے ہیں جوسادہ لوح پاکستانیوں دن رات لوٹنے میں مصروف ہیں۔عاملوں نے بھی ترقی کرتے ہوئے خواتین کے میگزین۔۔سنڈے میگزین اور قومی اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اپنے کرامات کی تشہرشروع کردی ہے۔ کچھ عاملوں نے توکیبل اور ٹیلی ویژن چینلوں کا بھی سہارا لیا ہو ہے۔پاکستان میں تقریبا 30% سے زیاد ہ آبادی علاج سے محروم ہے ، کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر میسر نہیں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹر کی فیس کیلئے رقم میسر نہیں آتی۔ بیشتر ڈاکٹروں کی5 منٹ کی کمائی مزدور کی ایک دن کی کمائی سے20% زیادہ ہوتی ہے۔ اب مزدور بچوں کیلئے آٹا لے یا ڈاکٹر کو فیس ادا کرئے۔ اگر فیس ادا بھی ہوجائے تو ادوایات کیلئے رقم کہا سے آئے؟
علاج کیلئے تڑپٹے مریض وقتی سکون حاصل کرنے کیلئے جاہلی پیروں وعاملوں کے ڈیرو پر چلے جاتے ہیں۔ جہاں سے وقتی آرام تو میسر آجاتا ہے مگر مریض جلد اﷲ کو پیارا ہوجاتا ہے اور ملک سے ایک ووٹر کا خاتمہ بھی؟ بیشتر اوقات عامل خواتین، بچوں سے بدفعلی کی کوشش کرتے بھی پکڑے گئے ہیں۔ مگر پولیس کی جیب گرم کرنے سے کیس ختم ہوجاتا ہے۔
کیا جاہلی پیروں کی روک تھام بھی میاں نواز شریف کا کام ہے؟ ایک مہذب شہری ہونے کے ناطے ہرپاکستانی کا فرض نہیں کہ وہ ملک میں موجود برائیوں کے خلاف آواز بلند کرئے؟ اگر مقامی انتظامیہ خوشامدی ٹولوں، فوٹو سیشن اور پارٹیوں میں مصروف ہے اور پاکستان میں موجود جاہلی پیروں۔۔عاملوں۔۔نجومیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی تو پاکستان کے شہریوں کو چاہیے کہ شوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں شعور کی شمع روشن کرئے اور اپنے علاقہ میں موجود برائیوں کو عوام کے سامنے لائے۔
مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ عوام مین شعور بیدار کرنے کیلئے اقدامات کرئے۔ اہم چوراہوں،چوکوں پر نوسربازوں سے خبردار رہنے کے بینر آویزاں کریں۔ اور شوشل میڈیا اور کیبل کا استعمال کرتے ہوئے اپنے علاقہ میں موجود برائیوں کے خلاف اعلان جہاد کرئے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار اس قابل بنوائیں کہ علاقہ کا MNA,MPA اور سرکاری افسران خود وہاں علاج کروانا پسند کرئے۔ اوروہ سرکاری ڈاکٹر جو سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی کرنا گناہ تصور کرتے ہیں ان کو نوکری سے فارغ کردیا جائے۔سرکاری ہسپتالوں کی حدود میں واقع پرائیویٹ ہسپتالوں کو حدود سے باہر منتقل کرنے کیلئے اقدامات کرئے تاکہ پرائیویٹ ہسپتالوں کے ایجنٹ مریضوں کے سامنے سرکاری ہسپتال کے خلاف مہم نہ چلاسکئے۔
اگر ہم نے بھارت ودیگر ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں صحت و تعلیم پر توجہ دینے ہوگئی۔ پھر ہی شعور بیدار ہوگا عوام میں؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button