تازہ ترینسجاد علی شاکرکالم

نوجوانوں اٹھوں کمرباندھ لو ﴿حصہ سوئم﴾

آخرکب تک ؟میرے وطن عزیزکے نوجوان لاچار اور بیماروں جیسی زندگی بسرکرتے رہیں گے۔آخرکب ؟مجھے امیدکی ایک کرن جومیرے پیارے وطن عزیزکواور اس میں بسنے والوں کودنیا میں ترقی کی طرف گامزن اور روشن مستقبل کرے گی وہ نوجوانوں نظر آتی ہے مجھے۔مگرہماری نوجوان نسل اس ملک عزیزکی ترقی کی بجائے تنزلی کی راہ پر گامزن ہے۔ہمارے معاشرے کے نوجوان مختلف قسم کی سماجی اور معاشرتی برائیوں مثلا رشوت ،چوری،بھیک مانگنا،منشیات کا استعمال وغیرہ جسیی بیماریوں میں مبتلا ہوکرنہ توصرف اپنا بلکہ ملک وقوم کا مستقبل بھی دائوپر لگا رہی ہے۔وطن عزیزکے دشمنوں نے ہماری نوجوان نسل کومختلف طریقوں سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ہماری نوجوان نسل بھول چکی ہے،کہ وہ اس وطن عزیزکا مستقبل ہے۔پاکستان کا موجودہ منظرنامہ بظاہرمکمل انتشار اور افرتفری کی تصویر بنا ہوا ہے،جس سے ملک و قوم کا ہرخیرخواہ تشویش اور پریشانی میں مبتلا ہے۔نوجوان اس میں نہ صرف اپنے ذاتی مستقبل کے بارے میں مایوسی پائی جاتی ہے۔پاکستان میں مٹھی بھرنوجوان خودکو ترقی کی راہ پر گامزن رکھتے ہیں،اور اپنا روشن مستقبل چاہتے ہیں۔مگران کوبھی آگے بڑھنے دیا نہیں جاتا ان کوروشنی کی ہرکرن سے محروم کردیا جاتا ہے۔پھروہ ہمارے اپنی عمربھرکی کمائی ہوئی ڈگریاں کمرپر باندھے ہے۔اوردربدرکی ٹھوکریں کھاتے ہیں،جب وہ تھک جاتے ہیں اور انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا،تووہ اس ملک سے باہر جاکر دوسرے ممالک کی ترقی کا سبب بنتے ہیں،مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ سب آخر کب تک چلتا رہے گا،کون ان الجھے ہوئے پچیدہ معاملات کوٹھیک کرے گا آخرکون؟پاکستان کی سیاست قیام پاکستان سے لیکر آج تک سیاسی بحرانوں کا شکار رہی ہے،شائد اس کی وجہ وطن عزیزکی آزادی سے لیکر آج تک غیرآئینی اور غیرروائتی حکمرانوں کی حکومتوں سے سیاسی نظام کواپنے مفادات کی خاطر تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے،حکمران اگرچہ سیاسی روایات کوپروان چڑھانے کے لئے اصلاحات کے توبڑے برے دعوی ٰ کرتے ہیں،مگریہ صرف دعویٰ برائے نام کے ہی دعوے ہوتے ہیں،کھوکھلی باتیں ہوتی ہیں،صرف فضول سے الفاظ ہوتے ہیں،مجھے ان کی یہ سیاسی باتوں ،سیاسی وعدوں سے ذیادہ کسی مانگنے والے فقیر غریب انسان کی بات پریقین ہے،کہ وہ جوبولے گا پورا کرے گا،مگر ان غداروں پرتوبا لکل ہی یقین نہیں ہے یہ چند لوگ ہی پاگل بنائے ہوئے ہیں،کیا پاکستان اور اس وطن عزیزکے رہنے والے اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ وہ ان مٹھی بھر غداروں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ؟کرسکتے ہیں ہم سب کچھ کرسکتے ہیں،جب ہم اتنے طاقتوردشمنوں سے وطن عزیز کوبچا کر آزاد کرواسکتے ہیں تویہ مٹھی بھر دشمنوں کی کیا اوقات ہے،مگر ان کا سامنا کرنے کے لئے ہمیں پہلے خود اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہوگا،اپنے اندرپھروہی جذبہ اجاگر کرنا ہوگا،جوقیام پاکستان کے وقت تھا،ان سیاستدانوں نے ہمیں یرغمال بنا رکھا ہے،ہمارے معاشرے میں مختلف بیماریاں پھیلا رکھی ہیں،مگرمیں امید رکھتا ہوں اپنے وطن عزیزکے نوجوانوں سے کہ اب وہ یہ سب برائیاں ختم کرکے وطن عزیزکو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی،ہمارے معاشرے میں جہاں کئی برائیاں پھیل چکی ہیں وہیں ایک برائی ایسی بھی ہے جس کا کوئی حل نظرنہیں آتا ،اور یہ نشہ بن کرہماری رگوں میں اترتی جارہی ہے،ہم دن بدن اس کے عادی ہوتے جارہے ہیں،یہ نشہ ہے خود پسندی اور نمودونمائش کا،ایک زمانہ تھا،انسان کی پہچان اس کی تعلیم سے ہوتی تھی،لیکن آج کا دور ایسا ہوچلا ہے کہ ظاہری خاکہ ذیادہ فوکس کیا جاتا ہے،سکول کالج کے لڑکے ،لڑکیوں کی داستانیں سنیں تودھنگ رہ جائیں گے،یہ وہ نوجوا ن نسل ہے جس نے آگے جاکراس وطن عزیزکی بھاگ ڈور سنبھالنی ہے،ان کا موضوع گفتگو،لباس،فیشن موبائل اور کیبل ہوکر رہ گیا ہے،اپنے اور اپنے سے آگے والوں کے علاوہ ہمیں اور کچھ نظرہی نہیں آتا،دوسروں کی کامیابی پر بناوٹی مسکراہٹ اور اپنی غلطی کا تسلیم نہ کرنا اور اندر خانہ جڑیں کاٹنا اور برائیاں کرنا یہ سب جدیدفیشن کا حصہ ہے،اور قوت برداشت کا شدید فقدان ہوتا جارہا ہے،اپنا حق چھین لوہم مظلوم ہیں،کے جملے کون ذہنوں میں انڈیل رہا ہے،ہم کیا ہیں،کیا کررہے ہیں،اپنی نئی نسل کوکیا دے رہے ہیں،کیا ہم صرف آسائش حاصل کرنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں،یا تخلیق آدم کا مقصدکچھ اور بھی تھا،ہم چاہیں گے کہ پاکستان کا ایک ایک دریا ہل جائے،لیکن ہماری آنے والی نسلیں خوشحال ہوں،اگرلوگ مرتے جارہے ہیں توہمیں کیا،ہم ملاوٹ نہیں کرینگے،توبچوں کوکہاں سے کھلائیں گے،میرے ملک کا نام اسلامی جمہوری پاکستان ہے،اور اس کے پانچ صوبے ہیں ،اور ہرجگہ ملک
کے حصے میں لوٹ مار کرپشن ،بے ایمانی،کے سوا کچھ نظرنہیں آتا،جاگ اٹھواے نوجوانوں اب وقت نہیں رہا صرف اپنے بارے سوچنے کا ہمیں مل کر سب یہ غلط برائیاں ختم کرنی ہیں،اور اپنے پیارے وطن کا ایک پاک صاف اور اسلامی قوانین کی پابندریاست بنانا ہے،اللہ تعالی ہمیں اپنے مقصدسے باخبراور اپنی منزل تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے،بشکریہ ﴿پریس لائن انٹرنیشنل﴾

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker