سجاد ورک

سیاسی کھچڑی

2012پاکستان کی تاریخ میں کافی کشمکش کا سال ثابت ہو رہا ہے۔تمام بڑی سیاسی جماعتیںمشکلات میںگھر ی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت دم توڑ رہی ہے اور وہ اپنے دور اقتدار میںبری طرح ناکام ہو چکی ہے۔اور اپنی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے پاس کوئی بھی راستہ نہیں ۔اس وقت تمام سیاسی جماعتوںکے رہنما اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن حربے استعمال کر رہے ہیں۔اس وقت تمام سےاسی جماعتیںعوام کو اعتماد میں لینے کی بھرپور کوششں کر رہی ہیں۔اور2012 ہر پارٹی کے لیے بہت ہی فیصلہ کن سال ہے۔
اب تک ملک میں دو بڑی جماعتوں کا راج تھا جو کہ باری باری اقتدار میں آئی ۔لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور اب تیسری جماعت پاکستان تحریک انصاف کے نام سے عوام کی امیدوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سیاست میں ہر چیز ممکن ہے۔اورسابق صدر پرویز مشرف بھی وطن واپسی کی تےاریاں کر رہے ہیں۔
ایک طرف حکومت اور سپریم کور ٹ کے درمیان این آراو اورمیمو کیس کی جنگ چل رہی ہے ۔عدالتیں کسی بھی ملک میں امن کی علامت ہوتی ہیںاور ملک کے ہر شہری عدالتوںکاہرحکم ماننے کا پابند ہوتا ہے چاہے وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز کیوںنہ ہواور یہی احترام صدر اور وزیراعظم پر بھی واجب ہوتا ہے۔لیکن ہماری حکو مت عد التوں کے فیصلوں کو چیلینج کر رہی ہے۔اس وقت حکومت اور سپریم کورٹ کے درمیان ایک جنگ چھڑگئی ہے ۔اور اب یہ جنگ کسی موڑپر جا کر ہی دم لے گی۔ پیپلز پارٹی عدالت کے فیصلوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے اوردوسری طرف پاک فوج اور پاکستان پیپلز پارٹی کے د رمیان کافی کشیدگی دیکھنے میںآ رہی ہے۔اور یہ بات کسی بھی ملک کی تاریخ کا بد ترین باب ہو گا جب حکومت خود اپنی ہی فوج پر الزامات کی بارش کرتی نظر آرہی ہو۔اور شائد یہ حالات کبھی ٹھیک نہیںہو سکتے ۔ سپریم کورٹ اور فوج اس وقت صبر وتحمل سے کا م لے رہے ہیں اور حکومت کو مزید وقت دے رہی ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنے ہی جال میںپھنستی جا رہی ہے۔ایسے حالات میںحکومت کو بہت سے خطرات کا سامنا ہے اگر عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرے توکام خراب اگر نہ مانے پھر بھی۔الیکشن کے دن قریب آہے ہیںسیاسی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی ایک تو عوام کو روٹی، کپڑ،ا مکان دینے کی بجائے پٹرول، گیس اور بجلی بھی لے اڑی ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس کوئی بھی جواز نہیں جس کی بنا پر وہ عوام سے ووٹ مانگ سکیں۔
اور دوسری جماعتیںاسی بات کا نعرہ لگا اقتدار کے میدان میں آنے کے خواہشمند ہیں۔لیکن شائد اب یہ اتنا آسانی سے ممکن نہ ہو گا۔شائد اب عوام میںبرداشت کا مادہ ختم ہو چکا ہے اور وہ نیا تجربہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔اور ملکی حالات بھی اس کی اجازت نہیں دیتے کی کسی کو مزید آزمایا جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت مشکلات کا شکار ہے اورملک کا ہر فردیہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا پیپلزپارٹی کو اس وقت کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا ؟؟
اور اگر ایک نظر پاک امریکہ تعقات پر ڈالیں تودونوں ممالک کے درمیان نیٹو حملوںکے بعد کافی اختلاف پایا جا رہا ہے سیاسی کشمکش کی وجہ سے پاک امریکہ کی بہتری کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ملکی حالات کی وجہ سے پاک امریکہ پالیسیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔امریکہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعقات رکھنا چاہتا ہے لیکن ملکی صورتحال کی وجہ سے امریکہ ان کوششوں میں ناکام ہو رہا ہے۔امریکہ پاکستان کی مدد سے طالبان سے مذکرات کرنا چاہتا ہے اس لحاظ سے بھی ا مریکہ کونقصان ہو گا۔ملکی حالات بہتر ہونے تک امریکہ کو بھی انتظار کرنا پڑےگا۔
یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اب اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ تن تنہا الیکشن لڑے اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر دکھائے۔اب جو بھی کرنا ہو گا وہ تمام سیاسی جماعتوں کومل کر کرنا ہو گا۔آج کل مسلم لیگ ن کی طرف سے پاکستان پیپلز پارٹی کو گرین سگنل مل رہا ہے اور مسلم لیگ ن مخلوط حکومت بنانےکا ارادہ رکھتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عمران خان نے ن لیگ کی کمر توڑ دی ہے اور ان کا کافی ووٹ اپنے نام کر لیا ہے۔شائد اب ن لیگ کواکیلے پنجاب میں بھی وہ ووٹ نہ مل سکے جس طرح سے ن لیگ پچھلے الیکشن میںکامیاب ہوتی رہی ہے۔اور مسلم لیگ ن فوج کے ساتھ بھی تعقات کو وسعت دے رہی ہے۔اور اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اب ان کا آخری وقت آچکا ہے اور اب موجودہ حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہو ئے ا ن کا کوئی چانس نہیں۔ہاں البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں کامیابہ ہوجائے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ن لیگ کے ساتھ کبھی اتحاد نہیں کرسکتے۔کیا عمران خان صاحب کا اشارہ پرویز مشرف اور شیخ رشیدکی طرف تو نہیں کیونکہ عمران خان مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلنے کو تو تیار نہیں۔ عمران خان شیخ رشید کو تو اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے چکے ہیں۔
مسلم لیگ ن لیگ اور پی پی پی کے تمام رہنمابھی عمران خان کے سونامی کو ابھرتے ہوئے دیکھ کر اپنی پوزیشنیں تبدیل کر رہے ہیں۔اور ایک دوسرے کے قریب آنے پرمجبورہیں۔کیوںکہ یہ ہی واحد طریقہ ہے جس کی بدولت یہ لوگ دوبارہ پاکستان پر راج کرنے کا خواب پورا کر سکتے ہیں۔اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات کو جواز بنا رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے پیچھے ہے۔یہ سمجھ نہیںآتا ہے ہر بار اپنی کمی کو چھپانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ووٹ کا حق تو عوام کے ہاتھ میں ہے وہ جسے اپنے لیے بہتر سمجھے منتخب کرلے۔
آئے دن بگڑتے ہوئے ملک کے سیاسی حالات کی وجہ سے روپیہ کی قیمت بھی کم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔پاکستان کی انڈسٹری جو پہلے ہی بجلی اور گیس کی بندش وجہ سے ختم ہوتی جارہی ہے۔عوام کے لیے حالات اور ناسازگار ہوتے جا رہے ہیں اور اس طرح کے حالات میں عوام کا جینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس ملک میں جمہوریت کو قائم رکھناہم سب کی ذمہ داری ہے ا ور قانون کی پاسداری بھی ہم سب پر لازم ہے۔سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور اس پر ہر ایک کو عمل پیرا ہونا چاہے۔ اگر ملکی حالات ایسے ہی رہے تو پاکستانی عوام اور بھی زیادہ پس کر رہ جائے گی۔اس ملک میں سونامی آئے یا پھر زلزلہ نقصان تو پاکستان کی عوام کا ہی ہونا ہے کیونکہ آفت جب بھی آتی ہے وہ امیر،غریب کو نہیں پہچانتی اس کی تباہی ہر اےک کے لیے برابر ہوتی ہے۔اس ملک میں امن،سکون اور قانون کی پاس داری ہونی چاہیے۔اور ہر ایک کو انصاف ملنا چاہیے۔ملک میں جمہوریت کا نعرہ لگانے کی بجائے اس کو صحیح مانوں میںلاگو بھی کرنا ہوگا۔اور ایسا ملک ہو جس میںہر امیر غریب کوایک ہی ترازو میں تولا جا ئے اور ملک کا ہر فرد اس کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker