بلال حیدر اعوانتازہ ترینکالم

سقوطِ کریمیا

Bilal Haiderدنیا کا ازل سے ایک ہی وطیرہ ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ دنیا میں جس فرد اور جس قوم کے پاس طاقت رہی ہے اس نے اس کا استعمال بخوبی کیا۔ چنگیز نے طاقت پکڑی تو اس نے انسانیت کو ترنوالہ سمجھا۔ تیمور لنگ، ہٹلر، روس، امریکہ اور اسرائیل کے یہودی سب نے انسانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ دورِ جدید میں ایک ایسا ملک بھی ہے جس کا طاقت کے حصول کے لئے طریقہ واردات ہمیشہ کمزور ممالک پر قبضہ رہا ہے۔ نوے کی دہائی میں اس ملک کو طاقت کے ایسا نشہ چڑھا جو صرف افغان قوم ہی اتار سکتی تھی اور افغانیوں نے پھر ایسا نشہ اتارا کہ ماسکو تک روس کے پاؤں اکھڑ گئے۔ سوویت یونین ٹوٹ کر بکھر گئی۔ اس کی باجگزار ریاستوں نے خودمختاری کا موقع غنیمت جانا اور بہت سی ریاستوں نے آزادی کا اعلان کر دیا۔ جی وہی سوویت یونین جسے آج روس کہتے ہیں۔ بلاشبہ روس اب بھی دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اپنے میدا نی علاقوں اور پانیوں کو وسعت دینے کے لئے روس نے ایک بار پھر یوکرائنی ریاست کریمیا پر قبضہ کر لیا ہے۔ کریمیا کی تاریخ جنگ و جدل سے بھری ہوئی ہے۔ شروع سروع میں یہاں مقامی خانہ بدوش قبائل سکونت پذیر تھے جنہیں یونانیوں نے مار بھگایا۔ پھر بازنطینیوں نے کریمیا پر حکومت کی جو تاتاریوں کے طوفان کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔ اس کے بعد عثمانی ترکوں نے طاقت پکڑی اور کریمیا کو اپنی باجگزار ریاست بنا لیا لیکن روسی ملکہ کیتھرین نے عثمانیوں کو کریمیا سے نکال باہر کیا۔ عثمانیوں نے کریمیا کو کھو دینے کے باوجود کریمیا کے حصول کے لئے ہاتھ پاؤں مارے اور کریمیا پر دوبارہ حملہ کیا جس میں کریمیا کے تاتاری مسلمانوں نے عثمانیوں کا ساتھ دیا۔ اس کے باوجود عثمانیوں کو شکست ہوئی اور ملکہ کیتھرین نے یہاں مختلف غیر مسلم اقوام کو بسانے کا اچھوتا منصوبہ بنایا۔ جس سے تاتاریوں کا زور ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گیا۔ تہذیب و تمدن کے ٹکراؤ اور ملکہ کیتھرین کی مسلم دشمنی نے تاتاریوں کو سلطنتِ عثمانیہ کی طرف کوچ کرنے پر مجبور کر دیا جس سے کریمیا میں مسلمان ایک اقلیت بن کر رہ گئے۔ اس کے باوجود کریمیا میں مسلمانوں کی اتنی تعداد موجود تھی جو کسی وقت بھی روس کے لئے گلے کا کانٹا بن سکتی تھی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد دولاکھ بیس ہزار کریمیائی مسلمانوں اور ستر ہزار کریمیائی یونانیوں کو کریمیا سے نکال دیا گیا اور انہیں وسط ایشیا ء کی طرف دھکیل دیا گیا۔ ریڈ آرمی کو یہاں کمیونزم رائج کرنے کے لئے کھلی چھٹی دی گئی جس نے 1920ء میں کریمیا کے لگ بھک پچاس ہزار شہریوں کو لائنوں میں کھڑا کر کے قتل کر دیا۔ 1921ء میں کریمیا کو سویت یونین کی ایک خودمختار ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔1944ء میں سٹالن کے حکم پر دو لاکھ تیس ہزار مسلمانوں کو سائبیریا کو سائبیریا کے یخ بستہ علاقے میں دھکیل دیا گیا اور اکثریت کو ازبک علاقوں میں دھکیل دیا گیا جن میں سے اکثریت بھوک سے ہی مر گئے۔ کریمیا کے معاملے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں جب روسی مسلمانوں نے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائی تو ولادی میر پوٹن نے کہا کہ ’’جو لوگ شریعت کے طلبگار ہیں وہ ایسے ملک چلے جائیں جہاں شریعت ایک ریاستی قانون کے تحت لاگو ہو، روس کو اقلیتوں کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اقلیتوں کو روس کی ضرورت ہے‘‘۔ ماضی میں پاکستان کا دانشور طبقہ اسی کمیونسٹ ملک کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتا رہا۔ وہی انجمنِ ترقی پسند تحریک کا دانشور طبقہ جنہیں دورِ حاضر میں آزادی اور حریت کے علمبردار کہا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں کریمیا کو ایک نام نہاد ریفرنڈم کے ذریعے روس کا حصہ بنا دیا گیا اور عالمی برادری اور امریکہ کا نام نہاد دشمن امریکہ سر خم کئے کھڑا رہا۔ بڑے بڑے سفید ٹرک کریمیا اور یوکرائنی سرحد میں آ جا رہے ہیں جو روس کے بقول کریمیائی لوگوں کے لئے امدادی سامان ہے لیکن عالمی میڈیا یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ امدادی سامان ہے یا انسدادی سامان ہے۔ یقیناًیہ یوکرائن کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش ہے بالکل اسی طرح جیسے کریمیا کے مسلمانوں کے لئے کیونکہ کریمیائی مسلمانوں کو پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک نے اپنی اخلاقی امداد تک فراہم نہیں کی۔ یہاں کوسوا جیسے چھوٹے سے ملک کو سراہنا چاہئے جس نے یوکرائن کے حق میں روس پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اہل مغرب اس صورتحال پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔ صحافی اور دانشور طبقہ اس صورتحال کو اہل مغرب کی طاقت کا پول کھلنے کے مترادف کہہ رہا ہے۔ یوکرائنی شہری شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں کہ روس کا اگلا نشانہ یوکرائن ہو گا۔
امریکہ کی پوری دنیا میں رسوائی ہو چکی ہے۔ امریکہ کا ہوا اب ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس کی طاقت کا زور ٹوٹتا جا رہا ہے۔ مسلمانوں سے عداوت اور دنیا میں امن کا ٹھیکیدار بن دنیا کو آنکھیں دکھانے والا امریکہ اب بھیگی بلی بن چکا ہے۔ روس طاقت پکڑ رہا ہے۔ روسی پرپیگنڈا کے ماہر بن چکے ہیں اور اب ان ممالک کو آنکھیں دکھا رہے ہیں جو ماضی میں روس کا آنکھیں دکھاتے تھے۔ روس نیٹو کو آنکھیں دکھاتا ہے۔ جمہوری ممالک کا مذاق اڑاتا پھرتا ہے۔ روس کو اپنی وسعت کا زعم اس قدر ہے کہ وہ کوسوا جیسے چھوٹے سے جموری ملک کا مذاق اڑاتے ہو کہتا ہے کہ ’’کوسوا اتنا چھوٹا ہے کہ دنیا کے نقشے پر نظر تک نہیں آتا اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ روس پر پابندیاں لگا رہا ہے‘‘۔ روسی کریمیا کو ہتھانے کے لئے ایک عرصے سے پرپیگنڈا کر رہے تھے جن میں سرِ فہرست پراپیگنڈہ یہ ہے کہ یوکرائن اور کریمیا میں چونکہ روسی زبان بولی جاتی ہے اس لئے یہ روس کا حصہ ہیں۔ لیکن تاریخ پر نظر ڈالیں تو کریمیا روس کا حصہ کبھی نہ تھا۔ روس نے اٹھارویں صدی عیسوی میں کریمیا پر قبضہ کیا۔ کریمیا میں 77فیصد افراد ایسے ہیں جو روسی زبان بولتے ہیں اور ان 77فیصد میں 58فیصد ایسے ہیں جو روسی النسل ہیں۔ اگر کریمیا کی تاتار اور یوکرائنی اقوام کے تناسب کو مدِ نظر رکھا جائے تو روسی اور دیگر اقوام اس تناسب کو متوازن کرتی ہیں۔ روسیوں کا دوسرا پراپیگنڈہ یہ ہے کہ ایک عرصے سے کریمیائی لوگ روس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے تھے اور ان کی حفاظت چاہتے تھے جبکہ گیلپ کے ایک سروے کیمطابق یہ تعداد صرف 8 فیصد ہے۔ تیسرا پراپیگنڈہ یہ ہے کہ یوکرائن کے ایک علاقے Donbis میں علیحدگی پسند روس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ اس علاقے میں یہ تحریک چلانے میں روس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ چوتھا مذاق یہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ یوکرائن میں فاشسٹ لوگوں کی حکومت ہے اس لئے عوام کو ان سے نجات دلانی ضروری ہے۔ حالانکہ فاشزم اب صرف تاریخ کا حصہ رہ گیا ہے۔ بہرحال یہ ہے وہ سارا پراپیگنڈہ ہے جو روسیوں نے کریمیا کو ہتھیانے کے لئے کیا اور بلاشبہ ان کا پراپیگنڈا ظاہر کرتا ہے کہ وہ یوکرائن کو بھی آڑے ہاتھوں لیں گے۔ اس ساری صورتحال میں عالمی امن کا ٹھیکیدار امریکہ ایسے کھڑا ہے جیسے اسے کوئی سانپ سونگھ گیا ہو بالکل اسی طرح جیسے کشمیر، فلصطین اور روہنگیاہ کے معاملے پر سونگ جاتا ہے۔ کریمیا کے چھن جانے سے اگرچہ یوکرائن کا نقصان ہوا لیکن سب سے زیادہ نقصان کریمیائی مسلمانوں کا ہوا جو مجبوراً اپنا علاقہ چھوڑ کر یوکرائن جا رہے ہیں کیونکہ انہوں کمیونزم اور روسی تسلط کو ایک صدی سے برداشت کیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ یہاں رکے تو ان کے ساتھ کیا ہو گا۔ کریمیا کے ساتھ جو ہوا سو ہوا لیکن یورپ کے لئے یہ ایک خطرناک صورتحال بن سکتی ہے کیونکہ خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے اوراس خطے میں طاقت کے توازن میں بگاڑ پیدا ہونے کیوجہ سے دو عالمی جنگیں ہو چکی ہیں۔ کہیں کریمیا کا سقوط تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button