انور عباس انورتازہ ترینکالم

سقوط ڈھاکہ اور ہمارا ضمیر

anwar abasسولہ دسمبر ماضیی کی طرح اس بار بھی گزر جاءے گا۔ نہ کوءی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کریگا اور نہ کوءی قوم سے معافی کا خواستگاری کی ضرورت محسوس کریگا۔نہ کسی جری اور غیرت مند کے ضمیر پر ندامت کے جژبا ت کے غالب آنے کا معجژہ ہوگا۔ اسکی وجوہات سے سب بخوبی آگاہی رکھتے ہیں۔ اب تو کسی کو یہ بھی معلوم نہیں ہے، کہ سولہ دسمبر کی تاریخ پاکستان کی تاریخ میں کا حثت رکھتا ہے؟ کیوں کہ ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اس دن کے متعلق بتانے کی چنداں ضرورت ہی نہ سمجھی ہے.
ہماری اسٹبلشمنٹ اور ہمارے میڈیا نے بس ایک ہی ”رٹ” لگاءی ہوءی ہے، کہ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مملکت پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے کے ذمہ دار ”ذوالققار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمان اور اندرا گاندھی ہیں۔ اندرا گاندھی کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ پاکستان کی کبھی بھی خیر خواہ نہیں رہیں اور نہ ہی پوری بھارتی قیادت پاکستان کو پھلتے،پھولتے دیکھنا گوارا کرتے،اس لیے پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے وہ قیام پاکستان کے پہلے روزسے ہی خواب دیکھتی رہی ہے۔شیخ مجیب الرحمان کو بھی کسی حد تک پاکستان توڑنے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کو اس میں گھناونے کھیل میں ملوث کرنے کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے
ذوالفقار علی بھٹو 1970کے انتخابات کے چند روز پہلے تک نہ تو ملک برسراقتدار تھے اور نہ ہی یحیحی خان کے ساتھ حکومت میں حصہ دار تھے ذوالفقار علی بھٹو کی بے گناہی تاریخ آج خود دے رہی ہے، 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی پلس لگا کر دستور کو توڑنے پر غداری کے الزام میں آج جنرل پرویز مشرف پر مقد مہ چلایا جارہا ہے۔حیرت کی بات ہے،کہ جنرل مشرف کو ایمرجنسی پلس جسکا مطلب مارشل لا کا نفاز لیا جارہا ہے،اس کام میں پاکستان میں مارشل لاوں کے نفاز میں ہر آمر کی معاونت کرنے والے شریف الدین پیرزادہ سمیت کسی مشورہ دینے والے والے کو شریک ملزم نہیں بنایا گیا،مگر ذوالفقارعلی بھٹو کو یحی خان کے ساتھ ضرور کھڑا کیا جاتا ہے۔
اگر جنرل ضیاء الحق کو یقین ہوتا کہ شرقی پاکستان کی علیحدگی میں ذوالفقارعلی بھٹو کے ملوث ہے، تو وہ نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ چلانے کی بجاءے ذوالفقار علی بھٹو پر پاکستان توڑنے کا مقدمہ ضرور چلاتا۔۔۔۔۔۔اس[ضیا الحق]کا ایسا نہ کرنا ذوالفقار علی بھٹو کی بے گناہی کے لیے کافی ہے۔ آج جس امر کی ضرورت ہے وہ یہ کہ بھٹو صاحب الژامات لگا کر حقاءق چھپانے اور قوم کو گمراہ کرنے کی مشق ترک کر دینا،اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا عتراف کرنا ہی وقت کا تقا ضہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عوامل کا بھی جائزہ لینا ہوگا جن کے باعث مجیب الرحمان، پاکستان کے دشمن کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہوا۔کیا ہم بلوچستان میں بھی وہیں غلطیاں کیے جا رہے ہیں۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ ابھی تک ہم نے سولہ دسمبر 1971 کے دن پلٹن میدان میں بھارتی جنرل اروڑہ سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے عبرت اور ذلت بھرے واقعہ سے سبق لینے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ جسکا مطلب ہے،کہ ہمارے ”ارباب عقل کل و دانش” ایک اور سولہ دسمبر کے منتظر ہیں
اور ہمارا ضمیر ابھی بھی مردہ ہے۔جو کہ بہت ہی خطرناک رجحان کی عکاسی کرتی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button