تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

سلالہ،ملالہ،اوبامہ،اور فلسطین غزہ کے معصوم و مظلوم بچے

امریکی اور اسرائیلی یہودی دیگر غیر مسلم اقوام کے نذدیک قصور وار صرف امتِ مسلمہ ہی کیوں ہے ؟۔اسلام تو صرف امن بھائی چارے اور ایثار جیسے جذبات کا درس دیتا ہے۔پھر یہ مظالم کی انتہا کیوں ؟ایک لطیفہ یاد آگیا
ایک بار ایک بچوں کے رسالے میں ایک لطیفہ پڑھا ۔کہ ایک اشرف عرف اچھو نامی لڑکا ایک سکول میں پڑھتا تھا اور سکول میں کوئی بھی نقصان ہو جاتا تو شامت بے چارے اچھو کی ہی آتی کام خواہ کسی اور نے ہی بیگاڑا ہو صورتِ اب یہاں تک پہنچ گئی کہ جب کوئی کام خراب ہونے یا سکول کے نقصان کی خبر اچھو تک پہنچتی وہ بیچارہ خود ہی اٹھ کر سزا لینے کے لیے تیار ہو جاتا ۔ایک دن کسی لڑکے نے باہر سے آ کر خبر دی کہ ۔باہر دو بسوں کا اکسیڈنٹ ہو گیا ہے یہ سننا تھا کہ اچھو اپنی سیٹ سے اٹھا اور کان پکڑ لیے ۔ ماسٹر صاحب نے پوچھا کہ اچھو تم نے کان کیوں پکڑے اس نے کہا کہ سر آپ نے یہ ہی سمجھنا ہے کہ یہ بھی میں نے ہی کیا ہے تو کیوں نہ آپ کے کہنے سے پہلے ہی سزا کے لیے تیار ہو جاوں ۔ماسٹر صاحب نے وقع اچھو کو سزا دے ڈالی اب اس پر جرم یہ تھا کہ باہر ایک حادثہ ہو گیا ہے اور اس کو مذاق کی سوجھی ہے ۔ایسا ہی کچھ حال غیر مسلم قوموں کا بھی ہے ۔کوئی بھی کچھ کر جائے قصور مسلمانوں کا ہی بنے گا ۔دنیا کے عظیم دہشت گرد مسلمانوں کے بچوں کو شہید کیے جا رہے ہیں کیا یہ مسلم بچے دہشت گرد ہیں جو ابھی صیح طرح بولنا بھی نہیں جانتے ۔پوری طرح دوڑنا چلنا بھی نہیں جانتے ۔صرف کھیلنا اور میٹھی شرارتیں جانتے ہیں ۔بندوق چلانا نہیں جانتے ۔کسی گندی نسل کے یہودی کو قتل کرنا تو دور کی بات ۔یہ معصوم تو ایک چیونٹی نہیں مارتے ۔اگر کوئی شرارتی مار بھی دے تو دوسرے اسے دھمکاتے ہیں کہ تو نے یہ بہت ظلم کیا ہے ۔اب اللہ تجھے اس کی سزا ضرور دے گا ۔یہ بچے تو ایسی سوچ رکھنے والے ہیں ۔فلسطین غزہ میں شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے ۔ایمل کانسی کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا ریمڈ ڈیوس پاکستان کی تمام عدالتوں کا وقار پامال کرتے ہوئے باعزت واپس چلا گیا ۔کمانڈر نیک محمد کو راکٹ سے شہید کر دیا گیا ۔دہشت گرد پھر بھی مسلمان۔عید کے دن عراقی صدر صدام حسین کو تختہ دار پر لٹکا کر مسلمانوں کے دلوں پر چھریاں چلائیں گئیں دہشت گرد پھر بھی مسلمان ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کڑی سزائیں دی جارہی ہیں ،دہشت گرد پھر بھی مسلمان ۔ نائن الیون کے بعد تیس ہزار کے قریب پاکستانی مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔دہشت گرد پھر بھی مسلمان۔سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کر کے دو درجن سے زائد پاک فوج کے جوان شہید کر دیے گئے ۔دہشت گرد پھر بھی مسلمان ۔29 اکتوبر پر ملالہ پر ایک نام نہاد حملہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد یہ ایک بہت بڑی خبر بن کر تمام میڈیا پر چھا گی ۔اس وقت عالمی میڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا بھی بہت متحرک نظر آیا ۔اب کہاں ہیں وہ ٹی وی اینکر اب کسی ملالہ پر کوئی تبصرہ نہیں ہو رہا امریکی صدر بارک اوبامہ نے علان کیا کہ وہ ملالہ کے علاج معالجے میں ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہیں ۔،،واہ رے ملالہ تیری قسمت تیرے لیے امریکہ کا صدر بھی اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر فارغ ،فعال نظر آیا،،ایک ملالہ کے لیے اتنا پریشان ہو گیا ہے ہزاروں ملالاوں کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔اس کی آخر وجہ کیا ہے ؟یہ وہ ہی اوبامہ ہے جس نے سلالہ ائیر پورٹ پر حملہ کروایا تھا ۔دو درجن فوجیوں کی شہادت پر کتنی ڈھٹائی سے اظہارِ افسوس کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ۔کیا ایک ملالہ دو درجن فوجیوں سے زیادہ قیمتی اور ملکی مفاد میں زیادہ مفید بن گی۔اقوامِ متحدہ جو ایک عالمی تنظیم ہے ۔اور اس کے ،،پاس ،،کرنے کو ہزاروں کام ہیں ملالہ پر حملے کی خبر سنتے ہی اقوامِ متحدہ کا سیکرٹری جنرل بھی فوراََ متحرک ہو گیا ۔یہ بان کی مون اتنا مصروف ہے کہ اس کے پاس کشمیر اور فلسطین جیسے اہم امور کا نوٹس لینے کا بھی ٹائم نہیں ہے ۔اس نے ملالہ کے لیے فوراََ وقت نکال لیا اور ٹی وی سکرین پر نمودار ہو کر اپنا بے ہودہ سا چہرہ لوگوں کو دکھانے لگا ۔اور ملالہ کا بہت بڑا حمایتی بننے لگا ۔آخر کیوں؟ کیا ملالہ ملالہ کوئی ایسی جدوجہد کر رہی تھی جس کی مثال برسوں سے نہیں ملی تھی ۔امریکی وزیرِ خارجہ بھی کسی سے پیچھے نہ تھی۔ہیلری کلنٹن وزیرِ خارجہ بھی اپنا چھ انچ کا لمبا منہ لے کر حاضرِ خدمت ہوئی اور حملے کی مذمت اور اسے افسوس ناک قرار دینے لگی ۔اب شاید اس کی زبان کٹ چکی ہے جو وہ یا اس کی بینائی ختم ہو گئی ہے کہ اب اس کو غزہ میں خون میں لت پت بچوں کی چیخیں سنائی نہیں دیتی ۔اور نہ ہی ان کے جسمانی چیتھڑے نظر آتے ہیں ۔امریکی سابقہ صدر کی اہلیہ محترمہ اس حملہ سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے ،،واشنگٹن پوسٹ اخبار ،، میں پورا ایک مضمون لکھ ڈالا۔اور کہا کہ ،لالہ اس کو کیا پوری دنیا کو اسپائر کر رہی ہے ۔لارا بش سے پوچھا جا سکتا ہے کہ نائن الیون کے بعد مارے جانے والے پاکستانیوں سے وہ کس قدر اسپائر ہیں اگر وہ زخمی ملالہ پر ایک مضمون لکھ سکتی ہیں تو پاکستانیوں کے لیے تو وہ ایک انسکلوپیڈیا مرتب کر سکتی تھی ۔
مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔امریکہ کو صرف ایک ملالہ سے ہی ہمدردی تھی ۔سلالہ سے تو نہ تھی ۔کیا ملالہ امریکہ کے لیے ایک مفید ترین تھی۔اس سارے ڈرامے کا خلاصہ کیا تھا ۔
ہمارے حکمران ہمارا میڈیا تی وی اینکر سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں ۔ جن کا دین ایمان صرف ڈالر ہیں ۔ ان کے آگے ڈالروں کی ہڈی پھینکوں اور جو جی چاہے کروا لوں ۔ہم تو بابا جی کرنی والے ہیں ۔ ڈالر لاو ایمل کانسی مروالو اجمل قصاب کو پھانسی دلوا لو عافیہ کو سزائیں دلوا لو ڈالر لاو بے غرت ریمڈ ڈیوس کو باعزت لے جاو ،،ہماری عدالتوں کا وقار پامال ہوتا ہے تو ہو جائے۔ڈالر جانے نہ پائے۔حیرت کی بات ہے ایک طرف علاج معالجے کی آفریں دوسری طرف ظلم کی انتہا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ امریکی سی آئی ڈی کی منصوبہ بندی سے ہوا ۔پاکستان میں سب کچھ اچھو کی طرح طالبان پر ڈال دیا جاتا ہے ۔اس وقت پاکستان کی 70 فیصد آبادی غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں کیا اس کے ذمے دار بھی طالبان ہیں ۔70 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے کیا اس کی ذمہ دار بھی طالبان ہے ۔ہزاروں لوگ علاج معالجے کی سہولت سے محروم ہیں کیا اس کی ذمہ دار بھی طالبان ہے ۔حکمرانوں کچھ ہوش کے ناخن لو ۔اپنے بارے نہیں بلکہ اپنے ملک کے بارے میں سوچو۔غیر مسلم لابیاں ہمارے بارے میں کیسے کیسے پراپگنڈے کر رہیں ۔ہمیں ان سے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔ دانشوروں کا ایک پنجابی محاورہ ہے۔تکڑے دا ستیں ویں سو

یہ بھی پڑھیں  پہاڑ،زمین کا قدرتی حسن!

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker