تازہ ترینحافظ کریم اللہکالم

سلام کی فضیلت اسکوپھیلانے اورعام کرنے کاحکم

اللہ رب العزت اپنی پاک کتاب قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے ۔وِاذَاحُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّہِِ فَحّیُّوابِاَحْسَنَ مِنْھَااَوْرُدُّوْھَا۔ترجمہ اورجب تم سلام کروتوجواب میں اس سے بہتر(سلام کاجواب)دویاوہی دے دو”
اسلام ایک عالمگیرمذہب ہے جس نے ہماری زندگی کے ہرشعبہ میں رہنمائی فرمائی ہے اسلام ہمیں اخوت اوربھائی چارے کادرس دیتاہے ۔حقوق اللہ اورحقوق العباداداکرنے کاحکم دیتاہے ۔اسلام نے ہمیں یہ طریقہ بھی بتایاہے کہ آپس میں محبت کیسے کرسکتے ہو۔ ایک دوسرے کے دل میں محبت پیدا کرنے کاسب سے اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ ایک مومن جب دوسرے مومن سے ملے تواپنے بھائی سے سلام کرے۔
دنیامیں بسنے والی مختلف اقوام کے حالات اورانکے طرززندگی کااگرہم مطالعہ کریں۔توہمیں معلوم ہوتاہے کہ ہرمذہب کے ماننے والے لوگوں کے اندرباہمی میل ملاپ کے کچھ اصول ضوابط ہیں کہ جب ایک دوسرے سے ملناہوتوکیسے کلام کرناہے؟ہندومذہب کے لوگ آپس میں ملتے ہیں توایک دوسرے کورام رام کہہ کرملتے ہیں اور آریہ مذہب والے جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تونمستے کہتے ہیں ۔عیسائی مذہب کے پیروکارجب ایک دوسرے سے صبح کے وقت ملتے ہیں توگڈمارننگ Good Morning،دوپہرکے وقت ملتے ہیں توAfter Noon رات کے وقت ملتے ہیں تو گڈنائٹ Good Night کہتے ہیں اسلامی تعلیم کاسورج طلوع ہونے سے پہلے عرب کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے توحیَّاک اللّٰہ کہتے یعنی اللہ تمہیں زندہ رکھے۔اسلام نے ہمیں جو سلام کاطریقہ بتایاہے۔ان الفاظ کی مثال کسی قوم کسی مذہب سے نہیں ملتی ۔جب انسان اسلامی طریقہ پرسلام کے الفاظ منہ سے نکالتاہے تویہ الفاظ مومن کے درمیان باہمی محبت والفت پیداکردیتے ہیں۔اسلام کے حکم کے مطابق سلام کرنے کاطریقہ آگے بتایاجارہاہے۔کئی حدیث مبارکہ سلام کی فضیلت پرواردہیں ان میں سے چنداحادیث کاذکرکیاجارہاہے کہ ہم سلام جوکرتے ہیں اسکافائدہ کیاہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاصؓبیان کرتے ہیں کسی شخص نے نبی کریمﷺکی بارگاہ اقدس سے دریافت کیا۔کون سی چیزاسلام میں زیادہ خیروبرکت والی ہے؟ آپﷺ نے فرمایاتمہاراکھاناکھلانااورہرواقف ناواقف شخص کوسلام کرنا۔(متفق علیہ) یہ عبداللہ بن عمروبن العاص بن وائل السہمی قبیلہ قریش سے ہیں انکاسلسلہ نسب نبی کریمﷺسے آپؓ کے داداکعب بن لوئی میں جاکرملتاہے پہلے اسلام لانے والے صحابہ علیہم الرضوان اجمعین میں سے ہیں آپؓ سے بھی زیاہ حدیثیں مروی ہیں۔حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاتم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک ایمان نہ لے آؤاورتم اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کروکیامیں تمہاری ایسی چیزکی طرف رہنمائی کروں اگرتم وہ کرلوگے توآپس میں محبت ہوجائیگی تم اپنے درمیان سلام کوپھیلاؤ۔(رواہ مسلم)حضرت ابوہریرہؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ مومن کے مومن پرچھ حق ہیں جب وہ بیمارہوتوبیمارپرسی کرے ،جب وہ مرجائے تواسکے جنازے میں شریک ہو،جب دعوت کرے تودعوت قبول کرے،جب اس سے ملے توسلام کرے جب چھینکے توچھینک کاجواب دے اوراس کی خیرخواہی کرے جب حاضرہویاغائب۔(نسائی)حضرت ابوعمارۃ براء بن عازبؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے ہمیں سات چیزوں کاحکم دیاتھا۔بیمارکی عیادت کرنا،جنازے کے ساتھ جانے کا،چھینکنے والے کوجواب دینا،کمزورکی مددکرنا،مظلوم کی مددکرنا،سلام پھیلانے کااورقسم پوری کروانا۔(متفق علیہ)
ہماری یہ عادت ہوتی ہے راستوں میں بیٹھ جاتے ہیں اوّل توراستے میں بیٹھنانہیں چاہیے اگرکسی مجبوری کے تحت راستے میں بیٹھ بھی جاتے ہیں توراستے کاہمیں حق اداکرناچاہیے سوال پیداہوتاہے کہ راستہ کاحق کیابنتاہے اس کاحق ہم آقاﷺکی بارگاہ سے پوچھتے ہیںیارسول اللہﷺاللہ رب العزت نے آپکورؤف رحیم بنایاہے آپ ہمیں راستے کاحق بتائیں کہ راستہ پراگرہم بیٹھیں تواسکاحق کسطرح اداکریں ۔آقاﷺکی بارگاہ سے اسکاجواب ملتاہے۔
حضرت ابوسعیدخدریؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاراستوں پربیٹھنے سے بچولوگوں نے عرض کیایارسو ل اللہﷺہم کووہاں پربیٹھنے کے سواکوئی چارہ نہیں ہم وہاں بات چیت کرتے ہیں اگربغیربیٹھے نہ مانوتوراستے کواسکاحق دو؟لوگوں نے عرض کیاکہ یارسول اللہﷺ راستہ کاکیاحق ہے ؟ آقاﷺنے فرمایا نگاہیں نیچی رکھنا،تکلیف دہ چیزہٹانااورسلام کاجواب دینااوراچھائیوں کاحکم دینابرائیوں سے روکنا۔(مسلم ،ؓبخاری)حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایامسلمان کے لئے مسلمان پرچھ اچھی خصلتیں ہیں جب اس سے ملے توسلام کرے ،جب دعوت کرے توقبول کرے اورجب چھینکے تواسے جواب دے جب بیمارہوجائے تومزاج پرسی کرے جب مرجائے تواُسکے جنازے کے ساتھ جائے اوراس کے لئے وہی پسندکرے جواپنے لئے پسندکرتاہے۔ (ترمذی،درامی)حضرت طفیل بن ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں وہ عبداللہ بن عمرؓ کے پاس آتے توحضرت عبداللہؓ انہیں ساتھ لیکربازارکی طرف چلے جاتے جب ہم بازارکی طرف جاتے توحضرت عبداللہؓ جس بھی کباڑیے یاکسی چیزکوفروخت کرنیوالے یاکسی غریب کے پاس سے گزرتے یاجس شخص کے پاس سے گزرتے اسے سلام کرتے تھے حضرت طفیلؓ کہتے ہیں ایک دن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓکے پاس آیاتووہ مجھے ساتھ لیکربازارکی طرف جانے لگے تومیں نے ان سے کہابازارمیں آپ کیاکرتے ہیں آپ نہ کسی فروخت کرنیوالے کے پاس ٹھہرتے ہیں نہ کوئی سامان خریدتے ہیں نہ کوئی سودے بازی کرتے ہیں نہ بازارکی کسی محفل میں بیٹھتے ہیں میں نے کہاآپ یہیں بیٹھیں ہم بات چیت کرتے ہیں انہوں نے فرمایااوبڑے پیٹ والے راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت طفیلؓ پیٹ بڑاتھاہم اسلئے جاتے ہیں تاکہ ہم ہراس شخص سے سلام کریں جس سے ہماری ملاقات ہوتی ہے۔
سلام کرنیکاطریقہ اورجواب دینے کاطریقہ
مومن کوملتے وقت سلام کہناادائے سنت نبویﷺاورحصول ثواب کاذریعہ بھی ہے ۔اس لئے مسلمان کوچاہیے کہ کسی مسلمان کے ساتھ چاہے جان پہچان ہویانہ ہواسکوسلام کریں سلام ایک بہترین عمل بلکہ ایک بہترین دعاہے سلام کرنے کوہمارے آقاﷺنے بہت پسندکیاہے ۔سلام کرنے سے دل میں نورانیت آجاتی ہے بغض حسدکینہ جیسی بیماریاں دورہوجاتی ہیں ۔بعض اوقات کئی صحابہ کرامؓ اسی ارادہ سے بازارجاتے کہ کہ کثرت سے لوگ ملیں گے اورہم کوزیادہ سلام کرنے کاموقع ملے گا ہماری ایک عادت بن چکی ہے سلا م کرتے توہیں پرشریعت کے حکم کے مطابق نہیں ۔کبھی کبھارتویہودیوں والا سلام کرتے ہیں ہمیں اسلام کے طریقے کے مطابق سلام کرناچاہیے نہ کہ یہودیوں کے طریقے یعنی گڈمارننگ ،صبح بخیروغیرہ۔ اگرہم سلام شریعت کے حکم کے مطابق کریں گے توہمارے اعمال میں نیکیوں کے ڈھیرلگ جائیں گے اب حدیث کی روسے بیان کیاجارہاہے کہ سلام کرناکیسے ہے اورسلام کرنے والے کوجواب کیسے دیناہے.سلام کرناسنت ہے پراسکاجواب دیناواجب ہے ۔لہذاسلام کاجواب فوراََ دیناچاہیے بلاعذرتاخیرکی توگنہگار ہوگا یہ گناہ جواب دینے سے دفع نہ ہوگابلکہ توبہ کرنی پڑے گی۔ حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺکی خدمت اقدس میں ایک شخص حاضرہوااورالسلام علیکم کہانبی کریمﷺنے اسے سلام کا جواب دیاپھروہ شخص بیٹھ گیانبی کریم ﷺنے فرمایااسے دس نیکیاں ملی ہیں پھرایک اورشخص خدمت اقدس میں آیااس نے السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ کہانبی کریمﷺ نے اسے سلام کاجواب دیاوہ شخص بیٹھ گیاتونبی کریمﷺنے فرمایااسے بیس نیکیاں ملی ہیں پھرایک اورشخص خدمت اقدس میں آیااورالسلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاۃ کہانبی کریمﷺنے اسے سلام کاجواب دیاجب وہ شخص بیٹھ گیا تونبی کریمﷺنے فرمایااسکوتیس نیکیاں ملیں گی۔(ابوداؤد،ترمذی)اورمعاذبن انسؓ کی روایت ہے کہ پھرایک شخص آیااس نے کہاالسلامُ علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ ومغفرتہ حضورﷺنے فرمایاس کے لئے چالیس نیکیاں۔کسی مسلمان کوسلام کرناہوتوپوراسلام اس طرح کریں السلامُ علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ تاکہ سلام کاثواب توپوراملے۔کسی مسلمان کوسلام کاجواب دیناہے تواس طرح اس کے سلام کاجواب دیں۔وعلیکمُ السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہحضرت ابوہریرہؓ نبی کریم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں "جب اللہ رب العزت نے آدم علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کواپنی صورت پرپیداکیاجن کے قدکی لمبائی ساٹھ گزتھی انہیں جب پیداکیاتوفرمایاجاؤان لوگوں کوسلام کرویہ حکم ان فرشتوں کے بارے میں تھاجووہاں بیٹھے ہوئے تھے اورتم غورسے وہ سنناجووہ تمہیں جواب دیں گے یہ تمہارااورتمہاری اولادکاجواب دینے کاطریقہ ہوگاآدم علیہ السّلام نے السلام علیکم کہاتوان فرشتوں نے کہاوعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ علیہ ان فرشتوں نے رحمۃ اللہ علیہ کااضافہ کردیا۔تووہ بھی جنت میں جائے گاجوحضرت آدمؑ کی صورت پرہوگااورقدساٹھ گزہوگاپھرآدمؑ کے بعدمخلوق رہی حتیٰ کہ اب تک۔(مسلم ،بخاری)کسی محفل میں اگرکچھ مسلمان سورہے ہوں تواتنازورسے سلام نہیں کرناچاہیے کہ وہ جاگ جائیں بلکہ اتنی آوازسے سلام کریں کہ جاگنے والے سن لیں ۔حضرت مقدادؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریمﷺکے لئے آپ کے حصے کادودھ رکھاکرتے تھے آپ رات کے وقت تشریف لایاکرتے تھے اورآپ سلام کیاکرتے تھے اس طرح سلام کرتے کہ کوئی سویاہوابیدارنہ ہوتااورجاگتے لوگوں کوآوازپہنچادیاکرتے تھے پھرنبی کریمﷺتشریف لائے اورآپ نے اسی طرح سلام کیاجس طرح آپ کیاکرتے تھے۔(رواہ مسلم)حضرت غالبؓ سے روایت ہے کہ ہم حسن بصری کے دروازے پربیٹھے تھے کہ ایک شخص آیابولامجھے میرے والدنے میرے داداسے خبردی فرمایامجھے میرے باپ نے رسول اللہﷺکی خدمت میں بھیجاکہاحضورﷺکے پاس جاؤتوحضورﷺکومیراسلام عرض کرووہ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺکے پاس حاضرہواتومیں نے عرض کیایارسول اللہﷺمیرے والدآپ کوسلام عرض کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایاتم پراورتمہارے باپ پرسلام (ابوداؤد)ایک شخص آقاﷺکی بارگاہ میں آیااورصبح بخیرکہاآقاﷺنے فرمایاکہ ہماراسلام آپکے سلام سے بہترہے ہماراسلام السلامُ علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ لہذاہم کوچاہیے کہ حضورﷺکابتایاہواسلام کریں نہ کہ یہودیوں والاخودبھی گڈمارننگ کہنے سے بچیں اوردوسروں کوبھی بتائیں
سلام کے آداب
سلام کرناکس کاحق بنتاہے؟اس بارے میں حدیث مبارکہ میں آتاہے۔حضورﷺنے ارشادفرمایااللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگاجوسلام کرنے میں پہل کرے۔(ابوداؤد)حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاجوشخص پہلے سلام کرتاہے وہ تکبرسے بری ہے۔(بیہقی ،شعب الایمان)حضرت ابوہریرۃؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایاسوارشخص پیدل کوسلام کرے اورپیدل شخص بیٹھے ہوئے کوسلام کرے اورتھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کوسلام کریں ۔(متفق علیہ)اس حدیث پاک کایہ مطلب نہیں کہ جوغریب ہے وہ امیرکو سلام کرے کمزورشخص طاقتورکوسلام کرے بلکہ اسلام نے امیروغیریب میں فرق ظاہرنہیں کیا بلکہ دونوں کے لئے یکساں حکم دیاہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایاکہ چھوٹابڑے کوسلام کرے چلتاہوابیٹھے ہوئے پراورتھوڑے لوگ زیادہ لوگوں پر(بخاری) امام ترمذی نے ابوامامہ کے حوالے سے روایت کیاہے عرض کی گئی یارسول اللہﷺدوشخص ملتے ہیں ان دونوں میں کسے سلام کرناچاہیے نبی کریمﷺنے فرمایاجودونوں میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہو۔(متفق علیہ)حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاکہ سلام بات چیت کرنے سے پہلے ہے۔ایک اورروایت حضرت جابرؓ سے اسطرح روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاسلام کوکلام سے پہلے ہوناچاہیے اورکسی کوکھانے کے لئے نہ بلاؤجب تک وہ سلام نہ کرلے۔(ترمذی)
جماعت کیطرف سے ایک آدمی کاسلام کرنااورجماعت میں بیٹھے ہوئے آدمیوں میں ایک کاجواب دینا
ایک جماعت دوسری جماعت کیطرف آئی اورکسی نے سلام نہ کیاتوسب نے سنت کوترک کیاسب پرگناہ ہے اگران میں سے ایک نے سلام کرلیاتو سب بری الذمہ ہوجائیں گے افضل یہی ہے کہ سب آدمی سلام کریں ۔جس جماعت کوسلام کیاگیااگران میں سے کسی نے جواب نہ دیاتوسب گنہگارہوں گے اگرایک نے سلام کاجواب دے دیاتوسب بری الذمہ ہوجائیں گے۔افضل یہی ہے کہ سب سلام کاجواب دیں۔حضرت علی ابن طالبؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جماعت کی طرف سے یہ کافی ہے کہ جب وہ گزریں توایک آدمی سلام کرے اوربیٹھے ہوئے کی طرف سے یہ کافی ہے کہ ان میں سے ایک جواب دے دے۔
عورتوں کوسلام کرنا جبکہ فتنہ کااندیشہ نہ ہو
اگرمرداورعورت کی ملاقات ہوتی ہے تومردعورت کوسلام کرے اوراگرعورت اجنبیہ نے مردکوسلام کیااوروہ عورت بوڑھی ہوتواس طرح جواب دے کہ وہ عورت بھی سن لے اگرعورت جوان ہوتواس طرح جواب دے کہ وہ نہ سنیں ۔آدمی اپنی بیوی کویاعورت اپنے محرم رشتہ دارکویااجنبی عورت یاعورتوں کوسلام کرناجبکہ فتنہ کاخوف نہ ہواسی طرح ان خواتین کااسی شرط کے ہمراہ سلام کرنا۔حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک خاتون تھی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک بوڑھی عورت تھی چقندرکی شاخیں لے لیاکرتی تھی اورانہیں ہنڈیامیں ڈال لیاکرتی تھی اوراس میں کچھ جوکے دانے پیس کرڈال دیتی تھی جب ہم جمعہ پڑھ کرواپس آتے تھے تواسے سلام کیاکرتے تھے تووہ کھاناہمارے آگے رکھ دیاکرتی تھی۔(بخاری)سیّدہ اسماء بنت یزیدؓ بیان کرتی ہیں کہ میں خواتین میں تھی کہ نبی کریمﷺہمارے پاس سے گزرے توآقاﷺنے ہمیں سلام کیا۔(ابوداؤد،ابن ماجہ)اس حدیث کوامام ترمذی ؒ اورامام ابوداؤدؒ نے روایت کیاہے فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔یہ الفاظ امام ابوداؤدؒ کے ہیں۔
ترمذی کے یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریمﷺایک دن مسجدمیں سے گزرے وہاں کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں توآپﷺنے اپنے ہاتھ کے (اشارہ کے ) ذریعے انہیں سلام کیا۔
بچوں کوسلام کرنا
اگرکوئی مسلمان بچوں کے پاس سے گزرے توان بچوں کوسلام کرے۔ہمارے معاشرے میں اکثرایساہوتاہے کہ چھوٹاجب بڑے کوسلام کرتاہے تووہ جواب میں کہتا ہے جیتے رہویہ سلام کاجواب نہیں بلکہ یہ جاہلیت میں کفاردیاکرتے تھے وہ کہتے تھے حیاک اللّٰہُ اسلام نے ہمیں یہ طریقہ بتایاہے کہ سلام کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ کہیں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺچندلڑکوں کے پاس سے گزرے توانہیں سلام کیا۔(متفق علیہ)
یہودیوں اورعیسائیوں پرسلام کی ابتداء نہ کرنا،اہل کتاب کوسلام کاجواب اس طرح دینا
کافرکوسلام کرناحرام ہے اگروہ سلام کردے توجواب دیاجاسکتاہے مگرجواب میں صرف علیکم کہے اگرایسی جگہ یامحفل سے گزرے جس محفل میں کفاراورمسلمان دونوں موجودہوں تو السلام علیکم کہے۔ہاں کافرکواگرحاجت کی وجہ سے سلام کیامثلاََسلام نہ کرنے میں اس سے اندیشہ ہے توحرج نہیں اوربقصدِتعظیم کافرکوہرگزسلام نہ کرے کہ کافرکی تعظیم کفرہے۔(درمختار)حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایایہودیوں اورعیسائیوں کوسلام میں پہل نہ کروجب تمہاراان میں سے کسی ایک کے ساتھ راستے میں سامناہوتوانہیں زیادہ تنگ راستے پرجانے میں مجبورکردو۔(مسلم)حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایاکہ تم کویہودی سلام کرتے ہیں توان میں سے ہرایک کہتاہے تم پرموت پڑے توتم کہہ دوتجھ پر۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ یہود نبی کریمﷺکی خدمت اقدس میں آئے توبولے السلام علیک حضورﷺنے فرمایاوعلیکم توحضرت عائشہؓ نے کہاموت ہوتم پراورتم پرخداغضب ولعنت کرے توآقاﷺنے فرمایااے عائشہؓ ٹھہرونرمی لازم کرو،سختی اورفحش سے بچوانہوں(عائشہؓ) نے عرض کیاکیا آپ نے نہیں سناجوانہوں نے کہانبی کریمﷺنے فرمایاکیاتونے نہیں سناجومیں نے کہامیں نے ان ہی پرلوٹادیاتومیری دعاانکے بارے میں قبول ہوگی اورانکی دعامیرے متعلق نہ قبول ہوگی۔(بخاری) حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاجب یہودتم کوسلام کرتے ہیں تویہ کہتے ہیں السام علیک توتم اسکے جواب میں وعلیک کہویعنی وعلیکم السلام نہ کہو۔(صحیح بخاری)حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاجب اہل کتاب تمہیں سلام کریں توتم جواب میں”وعلیکم”کہو۔(مسلم،بخاری)حضرت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاجوشخص ہمارے غیرکے ساتھ تشبُہ (مشابہت کرے)وہ ہم میں سے نہیں یہودونصاریٰ کے ساتھ تشبُّہ نہ کرویہودیوں کاسلام انگلیوں کے اشارے سے ہے اورنصاریٰ کاسلام ہتھیلیوں کے اشارے سے ہے۔(ترمذی)حضرت اسامہؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺایک محفل کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اورمشرکین (جوبتوں کے پجاری تھے) اوریہودی موجود تھے نبی کریمﷺنے انہیں سلام کیا۔(متفق علیہ)؂
گھرمیں داخل ہوتے وقت سلام کرنا
سورۃ النورمیں ارشادباری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ؛اے ایمان والو!ایسے گھروں میں جوتمہارے گھرنہ ہوں اسوقت تک داخل نہ ہوجب تک اجازت نہ لو (اوراجازت لیتے ہوئے)انہیں سلام نہ کر”۔(سورۃ النورآیت نمبر(27قرآن مجیدفرقان حمید کی سورۃ النورمیں ارشادباری تعالیٰ ہے۔اورجب تم گھرمیں داخل ہوتواپنے اوپرسلام کرویہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحیت ہوگی۔جوبرکت والی اورپاکیزہ ہوگی”۔(سورۃ النور61)مسلمان کوچاہیے گھروں میں جائیں توگھروالوں کوسلام کرے۔گھرمیں داخل ہوتے وقت سلام کرنابرکت کاباعث ہے اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہے ۔اللہ رب العزت کاارشاد پاک ہے۔ترجمہ "جب تم گھروں میں داخل ہوتواپنے آپ کوسلام کرویہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعاہے جوبرکت والی اورپاکیزہ ہے”۔(سورۃ النورآیت۶۱)حدیث مبارکہ میں آتاہے۔حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں نبی کریمﷺنے مجھ سے فرمایا،اے لڑکے!جب تم اپنے گھرمیں جاؤتوسلام کرویہ تمہارے لئے برکت کاباعث ہوگااور تمہارے گھروالوں کے لئے بھی باعث برکت ہوگا۔(رواہ الترمذی)حضرت قتادہؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاکہ جب تم کسی گھرمیں جاؤتواس گھرمیں رہنے والوں کوسلام کرواورجب نکلوتووہاں کے رہنے والوں کوسلام سے وداع کرویعنی رخصت ہو۔
سلام کاتکرارمستحب ہے
مومن کے لئے جس سے دوبارہ ملاقات ہوچاہئے جلدی ہوجائے یعنی اندرجاکرپھرباہرآجائے یاوہ کچھ دیراندرگزارکرواپس آئے یاان کے درمیان درخت یاکوئی اورچیزآڑبن گئی ہوان صورتوں میں سلام کاتکرارکرنامستحب ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاجب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تواسے سلام کرے پھرانکے درمیان درخت یادیوار یاپتھرحائل ہوجائے پھراس سے ملے توسلام کرے۔(ابوداؤد)
حضرت ابوہریرہؓ نمازمیں غلطی کرنیوالے کی حدیث میں یہ بات روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص آیااس نے نمازاداکی ۔پھرنبی کریمﷺکی خدمت میں حاضرہواآپﷺکوسلام کیاآپﷺنے اسے سلام کاجواب دیااورفرمایاتم واپس جاؤنمازاداکروکیونکہ تم نے نمازادانہیں کی وہ واپس گیااس نے نمازاداکی پھرآیانبی کریمﷺکوسلام کیایہاں تک کہ اس نے ایساتین مرتبہ کیا۔(متفق علیہ)
سلام میں بخل کرنیوالا بخیل ہے
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضرہوااورعرض کی کہ فلاں شخص کی کھجورکی شاخ میرے باغ میں ہے اوراس کی شاخ نے مجھے بہت دکھ دیاہے توحضورﷺنے اسے فرمابھیجاکہ میرے ہاتھ اپنی یہ شاخ فروخت کردے وہ شخص بولانہیں فرمایاتومجھے ہبہ کردے بولا نہیں فرمایاتواسے میرے ہاتھ جنت کے درخت کے عوض بیچ دے بولانہیں تورسول اللہﷺنے فرمایاکہ میں نے ایساشخص نہ دیکھاجوتجھ سے زیادہ بخیل ہوسواء اسکے جوسلام میں بخل کرے۔(احمد،بیہقی،شعب الایمان)
جن پر سلام نہ کیاجائے
جو آدمی نمازپڑھ رہاہواس پرسلام نہ کیاجائے۔
تلاوت قرآن کریم کرنیوالے پرسلام نہ کیاجائے۔
جوآدمی روٹی کھارہاہواس پرسلام نہ کیاجائے۔
جوپیشاب کررہاہواس پربھی سلام نہ کیاجائے۔
بدمذہب اورغیرمسلم کوسلام نہ کیاجائے۔
جوااورشطرنج کھیلنے والے پربھی سلام نہ کیاجائے۔
سلام کرنے کے فوائد
سلام کرنے سے سنت نبویﷺپرعمل ہوجاتاہے ۔
مومن کے دل میں محبت پیداہوجاتی ہے ۔
خداکی رحمت کاحقداربن جاتاہے
گھرمیں سلام کرنے سے گھرمیں خیروبرکت ہوتی ہے۔
دین اسلام کی تعلیمات پرعمل ہوجاتاہے ۔
اللہ پاک ہم سب کوسلام کرنے اورسلام کے جواب دینے کاعادی بنادے تاکہ دنیاآخرت میں اللہ پاک کی رحمت کے طلبگاراورنبی کریمﷺکی شفاعت کی حقداربھی بن جائیں ۔آمین بجاہ النبی الامین۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker