بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

چوہدری طالب حسین ۔۔سماج کا بے تاج بادشاہ

bashir ahmad mir logoاللہ رب العزت نے بے شمار انسان ہر دور ،ہر جگہ اور ہر مردم خیز علاقہ میں پیدا کئے ،جنہوں نے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور رہتی دنیا تک اپنی یادیں چھوڑ گے ،آج ایک ایسی شخصیت کا ذکر کرتا چلوں جو اب اس دنیا میں نہیں مگر اس انسان دوست کی یادیں ہمیشہ یاد گار رہیں گی۔آذادکشمیر کے دور افتادہ علاقہ کہوٹہ حویلی میں جنم لینے والے چوہدری طالب حسین نے مختصر زندگی میں لاتعداد ایسے یاد گار کام کئے جن کو صدیوں تک مشعل راہ قرار دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے علم کی روشنی سے ہزاروں شمعیں روشن کیں،ایک استاد سے لیکر ایک مذہبی و روحانی اور سماجی رہنما تک ان کی زندگی کا سفر یقیناًمتاثر کن اور نسل نو کیلئے مینار نور کی حیثیت رکھتا ہے ۔غمی خوشی میں پورے علاقے میں ان کی موجودگی ،ہر مشکل مرحلہ پر انسانیت کی خدمت ،مظلوم اور بے کس انسانوں کی داد رسی ،بیمار و معذور کی مدد ،اپنی عمر سے بڑے کا احترام،چھوٹوں سے شفقت الغرض عوام میں ہر دلعزیز شخصیت ہونے کے اوصاف ان کی زندگی کا قیمتی اثاثہ رہے یہی وجہ ہے کہ جب ان کے انتقال کی خبر 30جنوری کو کہوٹہ میں پہنچی تو ہر گھر میں ماتم ،ہر آنکھ آشکبار اور ہر انسان دکھی نظر آیا۔سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ برفباری اور بارشوں کے تسلسل کے باوجود حویلی کی تاریخ میں ان کے نماز جنازہ میں 40ہزار سے زائد عوام کی شرکت اس امر کی غماز ہے کہ واقعی چوہدری طالب حسین عوام کے دلوں کی حقیقی دھڑکن اور بے مثال حیثیت کے حامل دلکش و دلنشیں شخصیت تھے۔
راقم انہیں چند بار ملا ،لیکن کسی ذاتی کام کی غرض اور مفاد نہ تھا ،محض ان کی شہرت یافتہ اوصاف نے ملنے کے لئے بے چین کیا ،ہمارے سینئر صحافی اور مہربان شخصیت چوہدری ممتاز شمیم ،جناب عامر محبوب اور پیارے دوست عرفان قریشی مرحوم کی معیت میں ان سے ملاقاتوں کا شرف نصیب ہوا ،اگر چہ مذکورہ شخصیات کا ان کے ساتھ گہرا تعلق تھا مگر ان کی وساطت اور ہمراہی نے مجھے ان کی مجلس میں کافی حد تک احساس ہوا کہ ایسے لوگ شاہد اس دنیا میں کم ہی ہوں گے ویسے بھی میں جن کے ساتھ ان سے متعارف ہوا ان میں عرفان قریشی بھی ہم میں موجود نہیں مگر یہ تکونی ہمراہ بھی انسان شناس تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے چوہدری طالب حسین کی مجالس میں کارآمد مشاورت ،تجاویز اور مستقبل بینی کا ادراک حاصل کر کے معاشرے میں نمایاں مقام پیدا کیا۔
انسان کی زندگی چاہئے جتنی لمبی ہو مگر ایک دن اسے اس جہان فانی کو الوداع کرنا پڑتا ہے ،ہر دنیا کی جمع شدہ پونجی،جائداد،اولاد ،برادری ،عہدے ،منصب ،اعزازات الغرض سبھی کچھ چھوڑ کر جانا ہوتا ہے اگر کوئی نام یا کام دنیا میں یادگار رہتاہے تو وہ اس کا حسن اخلاق،کردار ،حقوق العباد سے متعلق فرائض کی ادائیگی اور صدقہ جاریہ کے طور پر مذہبی و سماجی اقدامات سے اس شخصیت کی پہچان ہوتی ہے ۔بلاشبہ چوہدری طالب حسین نے اپنی ہمہ جہتی زندگی میں بے شمار ایسے کام کئے جن کو تحریر میں لانے کے لئے پوری کتاب کی ضرورت ہے، امید ہے کہ ان کی اولاد اور عقیدتمندان اس فریضہ کی ادائیگی کو لازم سمجھ کر ضرور تکمیل کریں گے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی زندگیوں کو اپنے اسلاف کے قدموں کے ساتھ ہمرکاب کر کے اپنا نام روشن کرنے کی تمنا پوری کر سکیں ۔راقم کے ایک دوست انجینئر چوہدری محمود ،پروفیسرچوہدری یٰسین جو ان کے قریبی عزیز ہیں ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کی حیات پر سیر حاصل کتاب لکھ کر پوری قوم کو درس حیات دیں گے ۔ویسے بھی ان کے قبیلہ میں ان کی تعلیمی خدمات کے بدولت بے شمار احباب موجود ہیں اگر سب مل کر راقم کی اس تجویز کو پایہ تکمیل کر دیں تو یہ بہت بڑا احسان ہو گا کیونکہ وہی قومیں ترقی،خوشحالی اور ہر معرکہ میں سرخرو ہوا کرتی ہیں جو اپنے اسلاف کے چھوڑے ہوئے قدموں کے ساتھ ہمقدم ہوکر چلتی ہیں ۔
ان سطور میں حویلی سے ہی تعلق رکھنے والے ایک ایسے مرد مجاہد کو بھی یاد کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو اسی دھرتی سے جنم لیکر ریاست کے وزیرا عظم بنے،جن کا نام نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں جناب راجہ ممتاز حسین راٹھور ہی اسی انسانیت صفت سرزمین کی پیدا وار تھے ،ان کا چھوڑا ہوا ورثہ چوہدری طالب حسین نے یقیناًپورا کیا ،اگر چہ سیاسی راہیں بعد ازاں جدا جدا بھی ہوئیں مگر ان دونوں کی شخصیات میں ہمہ صفت کافی مماثلت ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ حویلی ایک ایسی سرزمین ہے جہاں سے با وفا ،انسان دوست ،باکردار اور پارسا شخصیات کا جنم ہمیشہ رہے گا اب دیکھتے ہیں کہ اس دھرتی سے ان کے بھائی سابق سینئر وزیر چوہدری عزیز یا ممتاز راٹھور کے فرزند فیصل راٹھور کیا رنگ لاتے ہیں ۔ریاست کے عوام امید رکھتے ہیں کہ اس قیمتی مٹی سے مستقبل میں بھی ہیرو پیدا ہونگے جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بنیں گے۔
آخر پر اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ چوہدری طالب حسین کو کروٹ کروٹ اپنی رحمتوں کے انوار سے روشن کرئے اور ان کی زندگی کا عوام دوست مشن ہر انسان کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے،اللہ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرئے اور جتنے بھی مسلمان بھائی اس وقت تک دن سے رخصت ہو چکے ہیں انہیں بھی اعلیٰ مقام نصیب ہو ،اللہ ہمیں بھی طاقت و ہمت عطا کرئے کہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندے بن کر دونوں جہانوں میں سرخرو ہوں۔آمین۔آخری بات اس کالم کے اختتام پر ان اشعار سے کرتا ہوں کہ
ملے خاک میں اہل شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گئے لا مکاں کیسے کیسے
ہوئے نامور بے نشان کیسے کیسے
زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہےnote

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker