تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

’’سیاست یا بَبُول کے کانٹے‘‘

Azam Azim Azam23جون کو ہفتہ اتوار کی درمیانی شب پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلستان میں واقع ضلع دیامر کے صدرمقام چلاس کے قریب بونر دیامروی نانگاپربت کے بونر نالہ بیس کیمپ میں پیش آنے والا دہشت گردی کا واقعہ جس میں 10غیر ملکیوں سیاح اور01کوہ پیما سمیت 11افرادکی ہلاکت ہوئی ہے ، آج اِس واقعہ نے ساری پاکستانی قوم کے سر شرم سے جھکادیئے ہیں جبکہ سانحہ دیامر کو ساری پاکستانی قوم اِسے عالمی سطح پر پاکستا ن کو بدنام کرنے اور اِسے معاشی اور اقتصادی طور پر غیر مستحکم کرنے کی عالمی سازش قرار دے رہی ہے اور حکومت سے پُرزورمطالبہ کررہی ہے کہ حکومت کو اِس واقعہ کی جلد صاف وشفاف تحقیقات کرانی چاہئے اور اِس کے جلدتمام حقائق دنیاکے سامنے لانے چاہئے تاکہ دنیا کو یہ پتہ لگ جائے کہ اِس واقعہ میں کون سے لوگ ملوث تھے ..؟جو پاکستان کو دنیا کے سامنے بدنام کرناچاہتے تھے اِس واقعہ کی پاکستانی قوم پُرزورمذمت کرتے ہوئے اِس عزم پربھی قائم ہے کہ پاکستان اِس سازش کو ضرور بے نقاب کرکے دنیا کے سامنے سُرخروہوگاجبکہ اِس واقعہ کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کرلی ہے۔
آج اگر دیکھاجائے تو پاکستان اور پاکستانیوں کو جن دوبڑے مسائل کا سامنا ہے، اُن میں ایک دہشت گردی ہے تو دوسرا توانائی جیسا وہ بڑاگھمبیر مسئلہ ہے ، جس نے پاکستان کی ترقی اور اِس کے عوام سے خوشحالی چھین کراِن کے دامن میں انگارے اورکانٹے بھردیئے ہیں، اِن مسائل کی وجہ سے پاکستان اور پاکستانیوں کے حصے میں انگارے اور کانٹے کیوں آئے …؟یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں جنم لے چکا ہے ،مگر اکثریت کے نزدیک اِس خاص سوال کا بس یہی جواب بنتاہے کہ گزشتہ دہائی سے جو بھی سول حکمران جائز یا آمر حکمران ناجائز طریقوں سے سرزمینِ پاک پر حکومت کرتے رہے ہیں، اِس سارے عرصے کے دوران اِن کی کارکردگی نہ صرف صفر محسوس کی گئی بلکہ کئی مواقعوں پر اُن کی اہلیت صفربھی نظرآتی رہی اور ایسا محسوس ہوتارہا کہ جیسے اِنہیں مُلک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی سے کوئی سروکار نہیں ہے،اِنہیں تو بس اپنے ذاتی مفادات ہی عزیز ہیں اکثر موقعوں پر وہ مُلک سے زیادہ اپنے مفادات اور مفاہمتی پالیسوں کا تحفظ ہی کرتے نظرآئے،یوں تب سے ہی مُلک مسائل کی دلدل میں دھنستاچلاگیااور عوام کے گھروں کے انگن میں ویرانی اورنحوست کے سائے منڈلانے لگے ہیں اور وہ اپنی اپنی حکومتی مدت پوری کرکے سِدھاتوگئے مگر اپنی نااہلیت سے مُلک اور قوم کو مسائل کی اُس بودار دلدل میں دھکیل گئے ہیں اَب آسانی سے جن سے نکلنامشکل تو ضرورہے مگر ناممکن نہیں ہے اِس سے شائد کوئی بھی انکار نہ کرسکے کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالتے ہی پے درپے سنگین ہوتی دہشت گردی اور گھمبیرہوتے توانائی کے بحران کا سامناہے،تووہیں اِس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ مسائل سے دوچار رہنے کی کی وجہ سے حکومت شدید بوکھلاہٹ کابھی شکار ہے،اِس پر اِس کا یہ دعویٰ ہے کہ اِسے دہشت گردی اور توانائی جیسے بحران سے نمٹنا اِس کے لئے مشکل ہے کیوں کہ قومی خزانہ خالی ہے مگر پھر بھی یہ پُرعزم ہے کہ ہم جلد ہی قومی خزانے کو بھر لیں گے اور اِن دونوں مسائل سے جنگی بنیادوں پر نمٹنے کے لئے سینہ سپرد رہیں گے۔
جبکہ یہاں یہ امرقابلِ ذکر ضرورہے کہ نئی حکومت کا موجودہ صورت حال میں دہشت گردی اور توانائی جیسے مسائل سے اکیلے نمٹنا مشکل ہے ، اِس کے لئے بہت ضروری ہے کہ حکومت چاروں صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لے اور اِن پر اپنا حکم اِس طرح چلائے جس طرح اِس اختیارحاصل ہے مگرساتھ ہی افہام وتفہیم کی راہ بھی اختیار کرے جس سے دہشت گردی اور توانائی کے بحران سے نجات مل سکے، بصورتِ دیگر اِن مسائل سے حکومت کا انتہانمٹنا مشکل ہوجائے گا۔
اگرچہ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں مُلک کو دہشت گردی اور توانائی کے بحران سے نجات دلانا شامل ہے ، مگر اِس کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ حکومت پہلے اِن دونوں مسائل کے حل کے لئے ایسے سخت ترین اقدامات کرے ، جیسے اِس نے قومی خزانہ بھرنے کے لئے غریبوں پر ایک فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ کا اعلان کردیاتھا (جوکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کچھ دنوں کے لئے رک تو گیا ہے مگر کب تک )اور اِس بات کا پورایقین کرلیا تھا کہ اِس کے اِس سخت ترین اقدام سے غریب عوام بلبلا تو ضرور اٹھیں گے مگر اِن کے چیخنے چلانے سے کیا ہوتاہے مُلک کو چلاہے اور مُلک کا مستقبل ٹیکس ذرائع بڑھانے میں پنہاں ہے تو اِس نے عوام کی لاکھ مخالفت کے باوجود سولہ فیصد جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافہ کرکے اِسے سترہ فیصد کرنے میں اپنی عافیت جانی تھی تو پھرحکومت کو یہ بھی تو چاہئے کہ اِسے مُلک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کسی کے دباؤ میں آئے بغیر ایسے ہی سخت ترین اقدامات کرنے ہوں گے اور اِس کے لئے لازمی ہے کہ یہ اِس کی شروعات کراچی سے کرے وہ کراچی جو مُلک کا صنعتی حب ہے، تو حکومت کو اِس کے ساتھ ہی یہ بات بھی اچھی طرح سے ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ یہ ہی وہ شہر پریشاں ہے جو اپنے یہاں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے باوجود بھی مُلک کو ریونیو کی مد میں سب سے زیادہ کماکر دے رہاہے۔
ایک مُلک کے ایک معتبراخبار کی خبر کے مطابق صرف شہرِ پریشاں اور شہرِ مقتل کراچی میں گیارہ مئی سے اکیس جون 2013تک یعنی صرف 42دنوں میں دہشت گردوں کی وحشیانہ فائرنگ( اور ٹارگٹ کلنگ ) سے ہلاک ہونے والوں کی تعدا د377ہے اِس تعداد میں بچوں اور خواتین کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں جنہیں دہشت گردوں نے اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہرکراچی کو مقتل گاہ میں تبدیل کرنے میں اپنا کرداراداکیا ہے یوں ایک اندازے کے مطابق گیارہ مئی سے اکیس جون تک اوسطاََ روزانہ 9افرادکو اپنے پرائے شیطان کے چیلوں اور اغیار کے زرخریدپٹھوؤں اور بلیک واٹر والے دہشت گردوں نے اپنی وحشیانہ دہشت گردی سے موت کے گھاٹ اُتاردیاہے، مُلک بھر میں پھیلے ہوئے اِن دہشت گردوں نے صرف کراچی کو ہی اپنی کارروائیوں کا مرکز نہیں بنایا ہے بلکہ اِن کی دہشت گردی نے بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کو بھی اپنی کارروائیوں کا ہدف بنارکھاہے، اِس طرح مُلک کے دوصوبوں اور ایک کراچی جیسے صنعتی حب کا درجہ رکھنے والے شہر کے معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارکر دہشت گرد پاکستان کی معیشت کو غیرمستحکم توکرہی رہے ہیں تووہیں یہ دنیاکو یہ بھی بتاناچاہتے ہیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے، کوئی یہاں سرمایہ کاری نہ کرے ، اور اِس کی معیشت قرضوں پر قائم ہے اورجہاں دہشت گردی اور انارگی اور وحشت کا راج ہے اور یہ دنیا کی ایک ایسی ریاست ہے جس نے ایٹم بم تو بنالیاہے، جس کا ایٹم بم بھی محفوظ نہیں ہے،اوریہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتاہے اورجہاں قانون کی پاسداری اور حکومتی رٹ کا تصوردوردورتک نظرنہیں آتاہے ۔
اَب اِس صورتِ حال میں جب دہشت گردوں کے عزائم اور اِن کی سوچیں ہماری مُلکی سالمیت اور خودمختاری کی دھجیاں کھل کر سامنے آرہے ہیں تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ ساری پاکستانی قوم کو دہشت گردوں اور اِن کے گروکا قلع قمع کرنے اور اِنہیں واصلِ جہنم کرنے کے لئے متحد و منظم ہوناپڑے گا، حکومت کو اِس بات پر ہر حال میں مجبور کرناپڑے گا کہ حکومت صوبائی حکومتوں سے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے ایسالب و لہجہ اختیار کرے اِس سے اِس کے بااختیار ہونے کا اندازہ ہو، اور صوبوں کو بھی چاہئے کہ وہ حکومت کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اِس کے مُلک سے دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق کئے جانے والے اقدامات کو سراہائے اور اِس کی طرف سے صوبوں کو ملنے والے احکامات پر عمل کرنے کا پابندبنائے اور اَب حکومت کو بالخصوص شہرپریشاں کراچی مُلک میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لئے نیک نیتی کی بنیاد پر ایسے اقدامات کو یقینی بناناچاہئے جس سے کراچی سمیت پورے مُلک میں امن قائم ہوسکے اور یہاں کے ڈرے سہمے اور زندہ لاش بنے شہریوں میں زندگی کے آثار لوٹ آئیں اور مُلک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں  ماہِ مبارک میں ہمارے رویے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker