تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

صنعتی ترقی اور ہمارا کرپٹ امتحانی نظام

آج کے جدید دور میں معاشی استحکام اور معاشرتی ارتقاء کے لیے صنعتی ترقی کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ صنعتی ترقی کے فروغ کا انحصار ہنر مند اور تربیت یافتہ افراد کی دستیابی پر ہے تا کہ وہ جدید مشینوں کی صلاحیتوں سے کما حقہ فائدہ اٹھا کر صنعتی پیداوار کو معیاری اور منافع بخش بنا کر قومی پیداوار میں اضافے کا سبب بن سکیں۔بلاشبہ ترقی یافتہ اقوام کی صنعتی ترقی کا راز بھی مربوط فنی تعلیمی سرگرمیوں میں مضمر ہے۔چین تھائی لینڈ اور ملائشیا جیسے ملکو ں کی معاشی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کریں تو یہ حقیقت معلوم ہو گی کہ انہیں خود کو تبدیل کرنے میں دو عشرے لگے ہیں ۔ تبدیلی مشکل ہوتی ہے لیکن تکلیف دہ نہیں ہوتی ۔فولادی اعصاب رکھنے والی ا قوام ہی ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہیں۔کوریا اور بلغاریہ کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ انہیں ان گنت مسائل و مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔سیاسی خلفشار نے غربت کو جنم دیا اور غربت نے افراد کو غیرت مند بنا دیا اب یہی ممالک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہیں۔جرمن،جاپان دو عالمی جنگوں میں شکست کھانے کے بعد بھی بین الاقوامی منڈی میں معتبر حیثیت کے مالک بنے بیٹھے ہیں ۔جاپان جس کو ایٹم بموں نے راکھ کیا ،زلزلوں اور سونامیوں نے بھرکس نکالا اس کے باوجود آج فخر سے زندہ و تابندہ ہے ۔جن اقوام کے افراد غیرت مند ہوں انہیں کوئی آفت مات نہیں دے سکتی ۔جاپانی انتہائی محنتی سخت جان، نظم و ضط کے پابند، وقت کے غلام اور دیانتدار ہیں حالانکہ ہمارا اسلام ہمیں یہ صفات سکھاتا ہے۔ جن پر یہ بدھ مت ایمان کی حد تک عمل کرتے ہیں اور اسے عبادت تصور کرتے ہیں۔افسوس کہ ہم نے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر نہیں دیکھا ،کتنے بے شرم ہیں کہ کشکول اٹھائے انہی سے بھیک مانگ رہے ہیں جو ہمارے بچے، جوان، عورتیں اور بوڑھے ڈرون حملوں میں مار رہا ہے۔ہم میں ذرا بھر بھی غیرت ہوتی تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج پاکستان میں ہوتی۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے تو بڑی تکنیک سے امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا لیکن پی پی پی کی حکومت نے تو پاکستان کو امریکہ کی کالونی بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسلام آباد میں تعمیر ہونے والی سینکڑوں ایکڑ میں قلعہ نما عمارت کو امریکہ کا دوسرا وائٹ ہاؤس اور پینٹا گون سمجھیں تو بیجا نہ ہو گا۔ جہاں سے وہ نہ صرف ہماری خبر لے گا بلکہ چین اور روس پر بھی کڑی نظر رکھے گا۔
صنعتی ترقی ہمارے لیے تو ایک خواب بنتا جا رہا ہے ۔جہاں بجلی ہو گی نہ گیس وہاں صنعت کا پہیہ کیسے رواں دواں ہو گا۔پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال مملکت خداداد ہے پھر بھی ہم بھکاریوں کی طرح دربدر دھکے کھاتے پھر رہے ہیں ۔امریکہ اور اس کے حلیفوں کی کوشش بھی یہی ہے کہ پاکستان اسلامی ایٹمی قوت کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار نہ ہونے دیاجائے۔اس لیے وہ ہم پر ہر حربہ استعمال میں لا رہا ہے ۔سی ۔آئی۔اے ،را اور موساد باہم مل کر ہماری عسکری اور اقتصادی کمر توڑنے میں شب و روز مصروف ہیں۔وہ کبھی نہیں چاہیں گے ہمارے ہاں امن و سلامتی فروغ پائے۔ہم نے بھی قسم کھا لی ہے کہ ہمیں مرنا ہی ہے۔ ہمارا حال کچھ اس شعر کی طرح ہے
کجھ شہر دے لوگ وی ظالم سن
کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی
ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کے دکھوں میں اضافہ کر دیا ہے۔گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتی پہیہ جام ہو کر رہ گیا ہے ۔سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث ملکی اقتصادی صورتحال بدتر ہونے لگی ہے ۔بیمار صنعتی یونٹوں کی تعداد جو 1996میں ساڑھے چار ہزار تھی اب پندرہ ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے ۔مشرف کے دور اقتدار میں بیمار صنعتی یونٹوں کی بحالی کا کام زور وشور سے جاری تھا اس کو بھی اب بریک لگ چکی ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا بستر بوریا لپیٹ کر ملک چھوڑنے کو ہیں۔کافی سرمایہ کار ملک چھوڑ چکے ہیں ۔نئی سرمایہ کاری کے آگے بند لگ چکا ہے لگتا ہے کہ متعلقہ محکمہ جات کو صنعتی ترقی کے فروغ کا کوئی شوق ہی نہیں ہے ۔اب الیکشن سر پر ہیں لہٰذا سب ادارے لمبی تان کر سو جائیں گے۔ہمارے بڑے بڑے خدماتی ادارے کھوکھلے ہو چکے ہیں انہیں چلانے کے لیے رقوم ہیں اور نہ ہی دیانتدار انتظامیہ ۔ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ فنی تعلیم صنعتی انقلاب کی اساس ہے ۔لیکن ہمارے ہاں فنی تعلیم کا حشر نشر ہو چکا ہے ۔عام تعلیم کی طرف توجہ دی جارہی ہے لیکن فنی تعلیم کے بارے میں کاغذی دعوے سامنے آرہے ہیں۔امتحانی نظام کرپٹ مافیا کے قبضے میں ہے جبکہ پرائیویٹ ٹیکنیکل کالجز صرف اور صرف پیسہ کمانے کے چکر میں ہیں۔ ان میں بیشتر ادارے سیاسی لوگوں کی ملکیت ہیں جہاں طلبہ کو صرف داخلہ دیا جاتا ہے تعلیم نہیں ۔ متعدد اداروں میں مشینری ہے نہ ٹولز،لیبارٹریز ہیں نہ تجربہ کار سٹاف۔بس اور بس لوٹ سیل کا نظام ترقی پزیر ہے۔ امتحانات بھی انہی کی منشا کے مطابق منعقد ہوتے ہیں ۔اس لیے سرکاری اداروں کے فرسٹ کلاس طلباان امتحانات میں فیل ہو جاتے ہیں۔جبکہ پرائیویٹ اداروں کے تھرڈ کلاس طلبا فرسٹ ڈویژن میں پاس ہورہے ہیں ۔ایسے کوالیفائیڈ نوجوان صنعتی انقلاب نہیں بلکہ عذاب لائیں گے۔ خدارا اس طرف توجہ دیجئے گا۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : نور حسن بگھیلا کی والدہ کے انتقال پر سٹی پریس کلب رجسٹرڈ اوکاڑہ میں تعزیتی اجلاس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker