انور عباس انورتازہ ترینکالم

سانحہ بڈھ بیر اور وزیر اعظم کی پریشانی

anwar-abas-logoایک بات ہم سب کو بشمول ہماری سکیورٹی کے معاملات کے ذمہ دار اداروں کے اپنے ذہن میں بٹھا لینی ہوگی کہ ’’ بلوں اور کھڈوں میں گھسا ‘‘ ہمارا دشمن بزدل اور بڑا کمینہ ہے وہ اسوقت تک بلوں اور کھڈوں سے نکل کر چھپ چھپ کے ہم پر حملہ آور ہوتا رہے گا جب تک اندرونی اور بیرونی سطح سے ملنے والی آکسیجن ملتی رہے گی یعنی فنڈنگ فراہم ہوتی رہے گی ، جب تک ہمارے دلوں کے کونوں کھدروں میں موجود سافٹ کارنرز اس کے لیے تڑپتے رہیں گے اور دھڑکتے رہیں گے۔۔۔ ہمیں بحثیت قوم اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ان اسلام دشمن دہشت گردوں کو مالی امداد دے کر پاکستان اور اسلام کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی قوت عطا کرتے رہنا ہے یا پھر ملک عزیز کو صحیح معنوں میں جنت نظیر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ کون کہتا ہے کہ مساجد میں گھس کر اللہ کے حجور جھکے ہوئے نہتے مسلمانوں کو شہید کرنے والے سفاک درندے مسلمان ہیں،مسلمان تو دور کی بات ہے وہ تو انسان کہلانے کے مستحق حقدار نہیں
شائد ہمارے بزدل ،کمینے اور دشمن کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر اپنے ہی بھائیوں اور وطن عزیز کے خلاف لڑنے والا دشمن یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ ہم سو گئے ہیں ، ہمارے بہادر جوان اپنے فرائض منصبی سے غافل ہیں اس لیے اس نے بڈھ بیر کے ائیر بیس کی مسجد اور دیگر مقامات کو ٹارگٹ کیا لیکن ہمارے بہادر ،جری ،شیر دل جوانوں نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا کر ثابت کردیا کہ ہم سوئے نہیں بیدار ہیں ہم زندہ قوم ہیں
پاک فوج کے شہداء خصوصا کیپٹن سید اسفندیا ر بخاری ،شان،طارق عباس اور دیگر بہادروں نے حملہ آور دشمن کو حصار میں لیکر واصل جہنم کرکے ثابت کردیا کہ پاک فوج اور دیگر سکیورٹی فورسزاپنے وطن کی حفاظت کے لیے سب کچھ کرسکتی ہیں ۔۔۔ اے شہدائے بڈھ بیر قوم تجھے سلام پیش کرتی ہے اور یہ عہد بھی کہ پوری قوم ہر مشکل اور آڑے وقت میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی،سکیورٹی کے ذمہ داروں اداروں کو اپنی پالیسی پر ایکبار پھر غور اور نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے
وزیر اعظم نواز شریف کو یہ کہنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی کہ ہم مال بنانے نہیں آئے اور یہ دعوی کرنے کی نوبت کیوں آئی کہ ہم اپنی جیب سے خرچ کرتے ہیں۔۔۔وزیر اعظم نواز شریف نے یہ باتیں کنونشن سینٹر اسلام آباد میں کسانوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کیں، کنونشن سینٹر میں موجود اسوقت تمام حاضرین شائد حیران نہ ہوئے ہوں مگر میرا ماتھا ضرور ٹھنکا تھا۔۔۔تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں کہ دنیا میں بہت حکمران ایسے برسراقتدار آئے جو اربوؓ کھربوں ڈالرز کے مالک تھے مثال کے طور پر امریکہ کے سابق صدور جان ایف کنیڈی اور بش کو روپے پیسے کی کمی نہیں تھی مگر انہوں نے کبھی یہ دعوے نہیں کیے کہ وہ مال بنانے نہیں آئے اور نہ یہ کہا کہ وہ اپنی گرہ سے پیسے خرچ کرتے ہیں۔۔۔اس کے علاوہ بھی بہت ساری نظیریں یہاں دی جا سکتی ہیں مگر اس کے لیے الگ سے دفتر درکار ہوگا۔۔۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ماشااللہ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے خاندان کے پاس بھی اللہ کے دئیے ہوئے کی کمی نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کہنا کہ وزیر اعظم اور انکے برادر خورد خادم اعلی اپنی سرکاری حثیت کو اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں،
نواز شریف اس حوالے سے ملکی تاریخ کے منفرد اور اہمیت کے حامل وزیر اعظم ہیں کہ پاکستانی عوام نے انہیں اس منصب کے لیے انہیں تیسری بار منتخب کیا ہے،اس سے قبل یہ اعزاز کسی وزیر اعظم کو حاصل نہ سکا ہے، لیکن یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے کسانوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہنا کیوں مناسب خیال کیا کہ کچھ عناصر انہیں اقتدار سے ہٹا کر خود قابض ہونا چاہتے ہیں، اپنے اس بیان میں انہوں نے کسی خاص جماعت ،شخصیت کی جانب کھل کر اشارہ نہیں کیا، جس کے باعث تجزیہ نگار،کالم نگار اور اینکر پرسنز نواز شریف کے اس بیان کے اپنے مرضی کے مطالب نکال رہے ہیں
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے وزیر اعظم کے اس بیان کومبہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے تو وزیر اعظم پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں محض بیان دینے سے کچھ نہیں ہوگا، قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے بھی کہا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ اور جمہوریت موجود ہے وزیر اعظم کو کوئی نہیں ہٹا سکتا، انہوں نے مذید کہا کہ جنرل راحیل شریف کی تعریف سے کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ سیاستدانوں کو بھی خوشی و مسرت کا اظہار کرنا چاہیے ، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے راہنماحافظ حسین احمد وزیر اعظم کے اس بیان کو ’’ آ بیل مجھے مار‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو خطرے کا تاثر جڑ پکڑ رہا ہے، جبکہ سینٹ کے چئیرمین اور بلحاظ عہدہ نائب صدر مملکت میاں رضا ربانی نے بھی کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر واضع کہاہے کہ سول حکومت اور عسکری طاقت ایک پیج پر نہیں ہیں
ملک کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے پشین گوئیاں کر رہے ہیں کہ ’’آبپارہ کی نرسری سے پرورش پانے والے سیاستدانوں کی قسمت کا ستارہ چمکنے والا ہے‘‘ایک سیاسی پنڈت نے تو کھل کر کہدیا ہے کہ سیاستدان کے جیل جانے کا موسم قریب آنے کو ہے اس کی پشین گوئی تو یہاں تک ہے کہ نہ صرف پنجاب میں بڑے بڑے برج الٹیں گے بلکہ جیل کی’’مہمان نوازی‘‘ سے لطف اندوز بھی ہونگے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عزیز ہم وطنو! کہنے والے مہربانوں کے سہولتکاروں نے ابھی سے رابطے کرنا شروع کردئیے ہیں،کہنے والے دلیل کے طور پر نئے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کی ایوان صدر میں تقریب حلف وفاداری کے احتتام پروزیر اعظم کی وہاں سے رخصتی کے بعدکے مناظرکا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں سیاستدانوں خصوصا حکمرانوں کی آنکھوں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
میرا ذاتی خیال اور قیاس ہے کہ وزیر اعظم کے متفکر ہونے کی وجوہات میں گورنر پنجاب، وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ اور آرمی چیف کے مابین ہونے والی بات چیت کابھی عمل دخل ہے، کیونکہ جس طرح مفادات کے پوجاریوں نے وہاں وفاداری دکھانے کی ہمت و جرات دکھائی ہے وہ واقعی پریشان کردینے والی بات ہے۔وزیر اعظم کو فوری طور پر پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیناچاہیے اور اگر واقعی کوئی جمہوریت کے خلاف سازش ہو رہی ہے تو اسے جمہوریت کی طاقت سے ناکام بنایا جائے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر ملکی استحکام کے لیے نحوست کا باعث ہوگی، وزیر اعظم کو تمام سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس بلانی چاہیے اور نناوے کی غلطی دہرانے کے قریب تک نہ جائیں بلکہ اس کے لیے جمہوری راستے کا انتخاب ہونا چاہیے

یہ بھی پڑھیں  وکیل کی جج سے بدتمیزی ، ججوں نے احتجاجاً کام چھوڑدیا، انکوائری کمیٹی تشکیل

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker