شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / احمد رضا میاں / سانحہ کوٹ رادھا کشن:گرفتاریوں پر گرفتاریاں

سانحہ کوٹ رادھا کشن:گرفتاریوں پر گرفتاریاں

ahmad razaکوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں چک نمبر 59 میں گذشتہ دنوں مسیحی جوڑے شہزاد مسیح اور شمع کو مقدس اوراق کی بے حرمتی کی پاداش میں قتل کر کے اُن کی لاشوں کو اینٹوں کے بھٹے میں جلا دیا گیا تھا ۔ دل دہلا دینے والے اس واقعے نے پورے علاقے میں وحشت پھیلا کر رکھ دی تھی۔ علاقے کے درد دل رکھنے والے غیور لوگوں نے نہ صرف اس سانحے کی بے حد مذمت کی تھی بلکہ ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ملک بھی کی ان جی اوز مسیحی برادری پر ہونے والے اس ظلم پر ابھی تک سراپاء احتجاج ہیں۔ بلکہ پوری قوم اس درد ناک واقعے پر غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ملک بھر کی تمام سیاسی ، سماجی اورمذہبی تنظیموں نے اس درد ناک واقعے کی بھر پور مذمت کی ہے۔پولیس نے بروقت کاروائی کرکے موقع پر ہی 40 سے 50 لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا ۔ اور 400 نامعلوم افراد پر مقدمہ بھی درج کر لیا گیا تھا۔گرفتاریوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک قتل اور دہشت گردی کے جرم میں 68 افراد گرفتار ہو چکے ہیں اور اس جرم میں نامزد افراد کی تعداد 161 تک پہنچ چکی ہے۔ان تمام لوگوں کا تعلق ایک نہیں بلکہ تین یا چار قریبی گاؤں سے ہے۔ اور ان قریبی گاؤں کے تقریباً تمام مکین گرفتاریوں کے ڈر سے روپوش ہو چکے ہیں۔ بلا شبہ یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے اور اس کی بڑے پیمانے پر غیر جانب دارانہ تحقیقات ہو نی چاہیے۔اس میں ملوث تمام مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کا کوئی واقعہ رونما نہ ہو سکے۔لیکن تحقیقات میں اس پہلوکا جائزہ لینا بھی بے حد ضروری ہے کہ آیااس آنجہانی مسیحی جوڑے نے قرآنی اوراق کی بے حرمتی کی ہے یا محض اُن پر الزام ہے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تھا تو قانون میں اس کی کیا سزا ہے؟ جو اُنہیں مل چکی ہے وہ ؟ یا اس بھی زیادہ؟ کیونکہ کوئی بھی مسلمان قرآن مجید کی بے حرمتی کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔
کسی بھی مسلمان کے لیے اپنے نبیﷺ کی شان اطہر میں گستاخی اور اُن پر نازل کی گئی لا ریب کتاب یعنی قرآن مجید فرقان حمید کی بے حرمتی بہت معنی رکھتی ہے۔جس کسی بھی مسلمان کے اندر رتی برابر بھی ایمان ہے وہ اس بات کوکسی بھی صورت برداشت نہیں کر سکتا۔کہ کوئی غیر مسلم یا مسلمان جان بوجھ کر ایسا کرے یا انجانے میں۔ اُسے اس جرم کی سزا ہر صورت ملنی چاہیے۔ تاکہ ہمارے پیارے نبیﷺ کی ذات پاک پر کوئی حرف نہ آئے اور نہ ہی اللہ کی مقدس کتاب کی کوئی بے حرمتی کرنے کی جرات کر سکے۔ہمارا تو ایمان ہے کہ اللہ کے بھیجئے ہوئے تما م نبی، پیغمبر اور رسول معصوم ہیں۔ گناہوں سے پاک ہیں۔اُن کی ذات پاک کے بارے میں کسی بھی قسم کی ہرزہ سرائی کرنا گناہ کبیرہ اور ناقابل معافی جرم ہے۔اور ان انبیاء کرام پر بھیجی جانے والی تمام کتابیں ہمارے لیے مقدس ہیں۔ وہ چاہے تورات ہو، زبور ہو ، انجیل ہویا پھر قرآن مجید۔ ان میں کسی ایک کتاب یا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبرمیں سے کسی ایک پیغمبر پر ایمان کا نہ لانا ایمان کے دائرے سے باہر کر دیتا ہے۔تاریخ کا جائزہ لے کر دیکھیں آج تک کسی مسلمان نے کسی نبی، پیغمبر یا رسول کی شان میں کبھی لب کشائی کی ہو۔ یا کسی صاحب ایمان نے اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں میں سے کسی ایک بھی کتاب کے ماننے سے انکار کیا ہو۔تو پھر غیر مسلم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ وہ ہمارے نبیﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں اپنے دل میں کدورت کیوں رکھتے ہیں؟ وہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے ہمارے دل کیوں دکھاتے ہیں؟ وہ قرآن مجید کی بے حرمتی کر کے ہمارے ایمان کا امتحان کیوں لیتے ہیں۔کیا ان غیر مسلموں کے مذہبی رہنما اُن کو یہی تعلیم دیتے ہیں؟ کیااُن کے مذہب میں کسی دوسرے مذہب خاص طور پرمذہب اسلام کے متعلق یہی سوچ ہے کہ اسے جس قدر ہو سکے رسوا اور ذلیل کیا جائے؟ کیا اُن کی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ دوسرے مذاہب کو کوئی اہمیت نہ دی جائے؟ کیا اُن کا مذہب اُنہیں اجازت دیتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جائے؟ نہیں۔۔۔!!! کسی بھی مذہبی کتاب میں ایسا نہیں لکھا بلکہ تمام مذاہب کی کتابوں میں دوسرے مذاہب کا احترام لازم ٹھہرایا گیا ہے۔تو پھر کیوں آئے روز مسلمانوں کے ایمان کو جھنجھوڑا جاتا ہے؟ کیوں مسلمانوں کے ایمان کا امتحان لیا جاتا ہے؟ کیوں عاشقان نبی ﷺ کے جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے؟ کیوں مجبور کیا جاتا ہے کہ سب مسلمان متحد ہو کر اس شرم ناک عمل کا دفاع کریں۔ جب کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک سچا مسلمان مر تو سکتا ہے لیکن اپنے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ ایک سچا مسلمان اللہ کی اس پاک کتاب کی حرمت کی خاطر چٹانوں سے بھی ٹکرا نے سے گریز نہیں کرتا۔یہی مسلمانوں کے ایمان کا امتحان ہے اور اللہ کے فضل کرم سے قیامت تک مسلمانوں کا یہ جذبہ قائم رہے گا۔ بے شک دنیا کے تمام مذاہب متحد ہو کر مذہب اسلام پر گاہے بگاہے نفرت کے تیر برساتے رہیں۔
میں گنہگار سہی لیکن ایک مسلمان ہوں ۔ اپنے نبیﷺ سے اپنے سب رشتوں اور اپنی ذات سے جُڑی ہر شے سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ قرآن مجید فرقان حمید بھی میرے لیے اتنا ہی قابل احترام ہے جتنا ایک سچے اور ایمان دار مسلمان کو ہونا چاہیے۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے میرے اس ایمان پر قائم رکھے۔ میں نہ تو اپنے پیارے نبی ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی برداشت کر سکتا ہوں اور نہ ہی قرآن مجید کی بے حرمتی ۔ وہ چاہے کوئی غیر مسلم کرے یا کوئی بد بخت مسلمان ۔لیکن اتنا ضرور عرض کروں گا کہ اس بات کا شبہ ہونے پر اور کسی بھی قسم کا انتہائی قدم اُٹھانے سے پہلے ایک بار تحقیق کرنا بے حد لازم ہے۔ کیونکہ جب تک کسی پر جرم ثابت نہ ہو جائے وہ مجرم نہیں ہو سکتا۔اور بغیر جرم کسی کو محض شک اور شبہ کی بنیادپر یا کسی سنی سنائی بات پر سزا دینا ایک بہت بڑا جرم ہے۔اس کام کے لیے عدالتیں موجود ہیں ۔ اور یہ کام عدالتوں کو ہی سونپ دیا جائے تو بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم نواز شریف کی ایرانی صدر کے سا تھ ملاقات

note